لاہور میں اپنی رپورٹنگ کی ویڈیوز وائرل ہونے سے مشہور ہونے والی ’بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی‘ کی مہرالنسا ان دنوں افسردہ ہیں، کیونکہ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی اردو‘ کا نام استعمال کرنے پر ان کے یوٹیوب چینل کے سوشل میڈیا پیجز ’بند ہو گئے ہیں۔‘
مہر النسا کی پہلی ویڈیو رواں ماہ دو اگست کو اس وقت وائرل ہوئی، جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان دو روزہ دورے پر پاکستان آئے۔ لاہور میں ان کے پروٹوکول کے راستے میں ایک سڑک کنارے کھڑی مہر النسا ’بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی‘ کے لوگو والا مائیک سنبھالے کہتی نظر آئیں۔ ’ایران کے صدر یہاں سے گزر کے جائیں گے، ہم آپ کو سارا وزٹ کروا رہے ہیں، آپ پروٹوکول دیکھیں ان کا، ماشااللہ سے۔۔۔‘
مخصوص سٹائل میں ’ر‘ کو ’ڑ‘ کہنے والی مہر النسا کی دیگر ویڈیوز حالیہ سیلاب کی ’رپورٹنگ‘ کے دوران منظرعام پر آئیں، جہاں وہ دیگر افراد کے ہمراہ کشتی میں سوار دریائے راوی میں سیلابی پانی کا احوال بتا رہی تھیں اور ایک موقعے پر کشتی کے ہچکولے کھانے پر انہوں نے بے اختیار چیخ مار کر ’ناظرین‘ سے اپنے لیے دعا کرنے کی درخواست بھی کی۔
ان کے اس سٹائل کو جہاں بہت سے لوگوں نے ’معصومیت‘ کہا، وہیں بہت سے افراد انہیں بظاہر بی بی سی اردو کی رپورٹر سمجھ کر تنقید کرتے نظر آئے، لیکن اسی دوران برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر یہ وضاحت پیش کی کہ مہر النسا ان کے ادارے سے وابستہ نہیں ہیں اور ان کے ’ادارے کو اس طرح بی بی سی کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے مہرالنسا سے خصوصی گفتگو کی تاکہ اس معاملے پر ان کا موقف جانا جا سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ وہ ’بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی‘ کے نام سے یو ٹیوب چینل میں کام کرتی ہیں اور اسی پلیٹ فارم سے رپورٹنگ کی ویڈیوز بناتی ہیں۔ لیکن بقول مہرالنسا: ’بی بی سی اردو نے اپنا نام استعمال کرنے پر ہمارا چینل یو ٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر بند کروا دیا ہے۔‘
مہر النسا نے بتایا کہ ’ہمارے چینل کا نام ’بھائی بھائی چینل پنجاب ٹی وی‘ ہے جبکہ بی بی سی برٹش براڈ کاسٹ کمپنی ہے۔ ہمارا چینل بند ہونے پر ہم نے نام تبدیل کر کے بی بی این یعنی ’بھائی بھائی نیوز‘ کر لیا ہے۔‘
انہوں نے چینل کی بندش پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ’اب نئے چینل کو مونیٹائز کروانے کے لیے دوبارہ محنت کرنا پڑے گی۔ ہماری پوری ٹیم اور چینل مالکان کی آمدن بند ہو چکی ہے، جس سے ہم سب پریشان ہیں۔‘
اپنے سٹائل کو ’قدرتی‘ قرار دیتے ہوئے مہر النسا نے بتایا: ’میں یاد کر کے یا پڑھ کر کیمرے کے سامنے نہیں بول سکتی، لہذا جو قدرتی طور پر میرے ذہن میں ہوتا ہے، وہی اپنے انداز میں بول دیتی ہوں۔‘
مہر النسا کے مطابق انہوں نے ابھی میٹرک کیا ہے، لیکن وہ مزید تعلیم کے ساتھ ساتھ نیوز رپورٹنگ بھی سیکھنا چاہتی ہیں۔ ’مجھے اندازہ ہے کہ سنجیدہ رپورٹنگ ایسے نہیں ہوتی لہذا میں وقت کے ساتھ ساتھ پڑھائی مکمل کروں گی۔ اس دوران حقیقی رپورٹنگ بھی سیکھتی رہوں گی۔ میرا خواب ہے کہ میں اینکر بنوں اسی لیے ویڈیوز میں بھی خود کو اینکر ہی کہتی ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کا شناختی کارڈ نہیں بنا اور وہ نوکری ’کمائی اور شوق‘ دونوں کے لیے کرتی ہیں جبکہ یہ ان کی پہلی ملازمت ہے۔
بقول مہر النسا: ’میں پہلے ٹک ٹاک ویڈیو بناتی تھی لیکن پھر دو ماہ پہلے ایک عزیز کے ریفرنس سے بھائی بھائی چینل پنجاب نیوز میں ملازمت شروع کر دی۔ اب یہاں ماہانہ تنخواہ پر کام کرتی ہوں، جو اسائنمنٹ ملتی ہے وہ روزانہ کرنے کے لیے جاتی ہوں۔ کیمرہ مین اور گاڑی دفتر کی طرف سے ملتی ہے۔ اس سے پہلے کہیں کام نہیں کیا۔ یہ میرا پہلا نیوز چینل ہے۔‘
دریائے راوی میں کشتی سے سیلاب کی رپورٹنگ کی وائرل ویڈیو سے متعلق مہرالنسا نے بتایا کہ انہوں نے چیخ اس لیے ماری کہ وہ پہلی بار کشتی میں بیٹھی تھیں۔ ’وہ جان بوجھ کر نہیں تھی۔ دفتر نے کہا تھا کہ کشتی میں سوار ہو کر ویڈیو بنانی ہے۔ اسی طرح ایرانی صدر کے دورہ لاہور کی رپورٹنگ مال روڈ پر وہی کی، جو مجھے سمجھ آیا۔‘
سیلابی رپورٹنگ pic.twitter.com/gzFOsr5OoF
— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 28, 2025
تاہم ساتھ ہی انہوں نے اپنے چینل اور سوشل میڈیا پیجز کی بندش پر افسوس کا اظہار کیا۔ بقول مہرالنسا: ’میری ویڈیوز وائرل ہونے پر فائدہ تو کیا ہونا تھا، چینل بند ہونے سے نقصان ہو گیا۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ فیلڈ میں، فون پر اور سوشل میڈیا پر لوگ انہیں تنگ بھی بہت کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔ ’میرا مقصد نہ فن ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو مشہور کرنا ہوتا ہے۔ میں تو رپورٹنگ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘
مہرالنسا جس یوٹیوب چینل سے وابستہ ہیں، اس کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے پاس تمام دستاویز موجود ہیں، جن میں وہ ’بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی‘ نام سے رجسٹرڈ ہیں اور اسی نام سے ایف بی آر کو ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں، لیکن اب اس چینل کا نیا نام ’بی بی این‘ رکھ دیا گیا ہے۔
پاکستان میں یہ رجحان عام ہے کہ چھوٹے ادارے عموماً بڑے اداروں سے اجازت لیے بغیر ان کا نام استعمال کرتے ہیں اور اسی بنا پر بعض اوقات انہیں قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔