پاکستان میں زیرگردش کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے نیا ضابطہ نافذ کیا ہے جس کے تحت ہر مسافر کو گریڈ 18 یا 19 کے سرکاری افسر سے تصدیق شدہ حلف نامہ جمع کرانا لازمی ہو گا، بصورتِ دیگر مسافر کو آف لوڈ کر دیا جائے گا۔
فیکٹ چیک کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ یہ خبر گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے واضح طور پر اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ادارے کی جانب سے کسی گریڈ 18 یا 19 کے افسر کی مہر، حلف نامے یا کسی مخصوص اعلامیے کی شرط عائد کی گئی ہو۔
ترجمان کے مطابق ’ایف آئی اے نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن یا پالیسی جاری نہیں کی جس میں سینیئر سرکاری افسر سے تصدیق شدہ حلف نامہ لازمی قرار دیا گیا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو روزانہ کی بنیاد پر ایئرپورٹس پر غیر معمولی رش اور انتظامی بحران پیدا ہو جاتا۔‘
پھر مسافروں کو آف لوڈ کیوں کیا جا رہا ہے؟
فیکٹ چیک کے مطابق حالیہ دنوں میں جن مسافروں کو مختلف ایئرپورٹس پر آف لوڈ کیا گیا، اس کی بنیادی وجہ ورک ویزا کے ساتھ مطلوبہ قانونی دستاویزات کی عدم تکمیل تھی، نہ کہ کسی نئے حلف نامے کی شرط۔
ایف آئی اے اور بیورو آف امیگریشن کے قواعد کے مطابق بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے ہر پاکستانی شہری کے لیے ورک پرمٹ / پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی مہر (Protector Stamp)کی شرط برسوں سے نافذ ہے اور اس کا مقصد انسانی سمگلنگ، جعلی جاب آفرز اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام ہے۔
تاہم حالیہ آف لوڈنگ کے واقعات کو گریڈ 18 یا 19 کے افسر کے حلف نامے سے جوڑنا حقائق کے برعکس ہے۔
دوسری جانب آج ڈائیریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے قومی اسمبلی کی کمیٹی میں واضح کیا ہے کہ اس سال 51 ہزار افراد کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ 85 لاکھ افراد بیرون ملک گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سابق وائس چیئرمین پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن (PEOPA) عدنان پراچہ نے اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جب کسی امیدوار کا پروٹیکٹر وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل (HRD) کے تحت مجاز سرکاری افسر کے دستخط سے مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ایئرپورٹ پر کسی اضافی سائن، حلف نامے یا دوبارہ تصدیق کی کوئی قانونی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ایسی صورتِ حال مختلف اداروں اور وزارتوں کے درمیان Conflict of Ministry کو ظاہر کرتی ہے، جو براہِ راست مسافروں اور مین پاور انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘ ویزا اور کمپنی کی تصدیق پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے۔
عدنان پراچہ نے واضح کیا کہ پروٹیکٹر کے عمل کے دوران ویزا کی اصل حیثیت اور جس کمپنی میں امیدوار جا رہا ہے اس کی موجودگی پہلے ہی پروٹیکٹوریٹ دفاتر میں جانچ لی جاتی ہے۔ یہی وہ دفاتر ہیں جہاں مسافر بھاری فیس اور ٹیکس ادا کرنے کے بعد حکومتِ پاکستان سے باضابطہ منظوری حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’بیرونِ ملک جانے والے حامل پروٹیکٹر مسافروں کو ایئرپورٹ پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تضحیک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب وہ لاکھوں روپے خرچ کر کے سفر کے آخری مرحلے میں ہوتے ہیں۔‘
عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ اگر اس مسئلے کی جڑ میں موجود عوامل کا فوری حل نہ نکالا گیا تو 2026 تک پاکستان کا مین پاور بزنس شدید ڈاؤن فال کی طرف جا سکتا ہے، جس کے نتائج ملکی معیشت اور ریمیٹینس کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے۔