باڈی شیمنگ یا سبز بدنی؟

باڈی شیمنگ کی جڑیں ہمارے کلچر اور میڈیا میں اتنی گہری ہیں کہ ان کا کھوج لگانا آسان نہیں۔

(انڈپینڈنٹ اردو گرافکس)

’ہمارے نئے صاحب کا تو صاحب، کچھ نہ پوچھیں، خود شوفر سے دو قدم آگے چلتے ہیں، توند اُن سے چار قدم آگے چلتی ہے۔‘

’پچھلے ہفتے اُدھر ہمسائے میں جو فیملی آئی ہے، کبھی اس گھر کی مالکن کو نظر بھر کے دیکھا؟ توبہ ہے بھئی، ہتھنی ہے نری ہتھنی!‘

’اور وہ بائیں طرف والوں کا لونڈا؟ پھونک مارو تو اُڑ جائے۔ انار کلی سے غلیل میں بھر کے پھینکو تو شاہی قلعے کی دیوار پہ ٹس سے مَس نہ ہو۔‘

’شکل دیکھی ہے اپنی؟ منہ دھو رکھو! منہ نہ متھا، جن پہاڑوں لتّھا۔ اور یہ نمونہ ملاحظہ ہو۔ جیسے کسی نے کھال چھیل کے رکھ دی ہو۔ ڈب کھڑبہ کہیں کا!‘

ارے رے بھائی، پرسنل مت لیں۔ آپ سے تھوڑی کہہ رہا تھا۔ میرا مقصد تو ہم سب کو عطا ہونے والی صلاحیتوں کے اُس بے لحاظ استعمال کی طرف اشارہ کرنا تھا جو ہم اپنے ہی جیسے انسانوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں، جو نظر بظاہر ہم جیسے نہ آتے ہوں۔ کوئی ذرا زیادہ موٹا ہو تو گینڈا یا ہاتھی، کوئی پتلا ہوتو بانس یا تِیلا۔ اسی طرح، کالا ہو تو بُھتنا، البینو ہو تو رنگیلا۔ غرض، ہم ایسے ویسوں کو کوئی ایسی ویسی بات لگانے، طنز و تعریض کا نشانہ بنانے سے کبھی نہیں چوکتے۔ آدم کے دیگر بیٹے کیسے نظر آئیں؟ اس کا دار و مدار گویا ہماری ذاتی پسند ناپسند پر ہے۔ حوا کی بیٹیاں کیسی دکھائی دیں؟ یہ بھی مابدولت طے فرمائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 کسی انسان کی شکل صورت، ساخت پرداخت کو لے کر اسے ذلیل و خوار کرنا ہی باڈی شیمنگ کہلاتا ہے۔ زبان کیسی بھی متمدن ہو، ثقافت کتنی ہی ترقی یافتہ ہو، یہ غیر مستحسن رویہ بہرطور پورے زور شور سے موجود رہا ہے۔ معاشرتی ترقی اور سماجی بہبود کے باوصف اس میں کوئی نمایاں کمی نوٹ نہیں کی گئی، بلکہ کسی نہ کسی رنگ میں تحقیر کا عنصر متواتر پھلتا پھولتا چلا آیا ہے۔ اور کیوں نہ ہو، جب ہماری با محاورہ زبانوں، ہماری روز مرہ روایات نے تحقیر کا یہ خزانہ سینے سے لگا رکھا ہے۔ نتیجہ یہ کہ انفرادی، اجتماعی ہر سطح پر تنفر کا زہر سر چڑھ کے بولتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس بارے میں کچھ کیا جائے، کچھ کہا جائے۔

باڈی شیمنگ کا رواج کوئی عوام الناس تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر دور کی اور ہر طرح کی اشرافیہ نے اس گھٹیاپے کے فروغ میں بڑھ چڑھ کے چندہ دیا ہے۔ ایک طرف تو مذہبی حلقے ناپسندیدہ کرداروں کے خد و خال تک نفرت انگیز طریقے سے پینٹ کرنے میں نہیں ہچکچاتے۔ وہیں قصہ زمین بر سر زمیں بیان کرنے پر مصر، تاریخ و فلسفے سے لے کر شعر و فکشن تک کسی شعبے نے ان خاص افراد کی کردار کُشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بے ڈھنگ کا مضموں ہو تو سو ڈھنگ سے باندھوں۔

نوبیل انعام یافتہ جان سٹین بک کے موثر ناولٹ ’آف مائیس اینڈ مَین‘ یا پھر کلٹ مووی میکر ڈیوڈ لِنچ کی فلم ’دی ایلیفینٹ مین‘ جیسی مثالیں کم ہی ملیں گی جن میں جسمانی بے ڈھنگے پن کو کسی ڈھنگ سے سجھنے، کسی طور سمجھانے کی کاوش کی گئی ہو۔ صدی کے پھیر پر نمودار ہونے والی، پہلے کتابی پھر فلمی دنیا کی رجحان و ریکارڈ ساز ہیری پوٹر سیریز میں نوجوان ہیرو کے رقیب۔ رو سفید ڈڈلی کو بد تمیزی سے لبریز، لالچ سے پُر ایک چھوٹا موٹا سانڈ ہی تو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ایک واقعے پر تو اس کے دُم ہی نکل آتی ہے اورچیختے چلاتے بچے کو سؤر سے تشبیہ دینا گویا نہایت عمدہ مذاق سمجھا جاتا ہے۔ ہاہاہا! ویری فنی! اِن ڈِیڈ!

گریٹ ڈپریشن کے دنوں میں ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری نے اپنے پینڈورا باکس سے رنگا رنگ ایڈونچر، کامیڈی، ہارر فلمیں اوریادگار کردار برآمد کیے۔ ان میں سے ایک ’دی تِھن مین‘ نامی فلم اتنی مقبول ہوئی کہ اس کے متعدد سیکوئل چلے۔ اسی زمانے میں لارل اور ہارڈی کی جوڑی بھی سامنے آئی۔ ایک چالاک دبلے اور ایک احمق موٹے کردار پرمبنی اس فلم نے تھکے ہارے ناظرین کے ہونٹوں پہ ہنسی تو بکھیری مگر ساتھ ہی ساتھ ان کے ذہنوں میں انسانی جسم کی ہیئت سے متعلق ان تعصبات کو بھی راسخ کیا جن پر باڈی شیمنگ کی بنیاد ہے۔

یہی فارمولا ہمارے ٹیلی ویژن کی سکرین پر ’الف نون‘ کی صورت میں اترا، جہاں الف یعنی الن ہمیشہ شاطر اور منصوبہ بند دکھایا جاتا ہے جب کہ موٹا ننھا دماغ سے عاری۔

اس سنجیدہ مسئلے پر آپ کو فلم جیسے تفریحی میڈیم کی مثال شاید دور کی کوڑی لگے، تاہم یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سینما پچھلی ایک صدی کی موثر ترین آرٹ فارم ہونے کے ناطے بہت سی اچھی بری سماجی تبدیلیوں کا نقیب بھی رہا ہے اور گواہ بھی۔ پھر یہ بھی ہے کہ جو ہالی وڈ نے آج فرمایا وہی کل بالی وڈ نے دہرایا (کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی، بہت خوب صورت ’مگر‘ سانولی سی) تو پرسوں کسی اور نے اسے گایا (گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا)۔

غرض پاپولر کلچرکی ڈوز کے ہمراہ اینٹی کلچر بھی ڈھیروں دَر آیا۔ باڈی شیمنگ اس وسیع تر پروٹو ٹائپنگ کا حصہ بن گئی جس میں نسل اور رنگ، علاقے اور لہجے کی بنیاد پر تعصب برتا جاتا تھا، اور بدستور برتا جاتا ہے۔

باڈی شیمنگ کا قضیہ کچھ اسی پر بس نہیں بلکہ اس خبط کے مضر اثرات معاشرے میں دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کلاس روم سے کورٹ روم تک موٹی کی قسمت کھوٹی ہی رہتی ہے۔ باریک بندے کو ٹھیک نہیں گنا جاتا۔ پکوڑے جیسی ناک، چھاج جیسے کان، چنگیر جیسے ہونٹ، کنچوں جیسی آنکھیں۔۔۔۔ غرض یہ کہ ذکراس پَری وش کا ہو تو ضلع جگت بھی معیار میں مزید ڈھلک کر تحصیل کے لیول پہ اتر آتی ہے۔

انفارمیشن اور سروسز پر استوار موجودہ ترقی یافتہ سماج میں فرد کا فوکس جسم سے زیادہ دماغ پر چلا گیا ہے۔ سب اپنے بدن سے زیادہ ذہن میں جی رہے ہیں۔

اپنے اپنے فون پہ سب مصروف تھے ورنہ
 ہم سگرٹ کے کش نہ بھرتے باتیں کرتے

(حارث سنگرا)

خبر نہیں یہ بدن سے، اپنے ہی بدن سے عار محسوس کرنے کی سزا ٹھہری ہو کہ آسودہ خاندانوں سے لے کر خوشحال ملکوں تک، ہر جگہ، متوازن غذا کی بجائے اس مشقِ ناز پر زور ہے جسے ڈائٹنگ قرار دیا جاتا ہے۔

سبز قدم ہونے کا محاورہ تو آپ نے سُن رکھا ہوگا۔ جب کسی کے لیے اس کے اپنے ہی بدن کو باعثِ شرم بنا کے رکھ دیا جائے تو کیا، باڈی شیمنگ کی مثال، ایسی صورتِ حال کو سبز بدنی کہنا مناسب نہیں ہو گا؟ (کیا سبزبدنی، سبزبدنی، سبزبدنی ہے) – یا شاید یہ بھی لسانی جبر کے زُمرے میں آئے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ