پاکستان کے ’یوسین بولٹ‘ کی داستان

نیشنل گیمز 2019 میں گولڈ میڈل جیتنے والے سمیع اللہ پریکٹس پر جانے سے پہلے ضلع خیبر کے جمرود بازار میں تھڑے پر بیٹھ کر پلاؤ فروخت کرتے ہیں۔ وہ اب ساؤتھ ایشیئن گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

سمیع اللہ کے والد پانچ دہائی قبل خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں سے کاروبار کے لیے نقل مکانی کرکے ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں آباد ہوگئے۔ انہوں نے بنوں کے روایتی پلاؤ کا کاروبار جس تھڑے سے شروع کیا تھا، کئی سال گزرنے کے بعد ان کا بیٹا بھی اُسی جگہ پر صبح سویرے پتیلا لگاتا ہے۔

فجر کی نماز پڑھنے اور ناشتہ کرنے کے بعد ہتھ ریڑھی میں پلیٹیں، چمچے، ترازو اور بڑے سائز کا پتیلا ضلع خیبر کے جمرود بازار کی طرف لے جانے والا نوجوان نیشنل گیمز 2019 میں سونے کا تمغہ جیت کر اس دھرتی کا نام روشن کرنے والا ایتھلیٹ سمیع اللہ ہے۔

انہوں نے حال ہی میں پشاور میں منعقد ہونے والے 33ویں نیشنل گیمز میں 100 میٹر دوڑ کا فاصلہ 10 اعشاریہ 64 سیکنڈ میں طے کرکے گولڈ مڈل حاصل کیا۔ واضح رہے کہ جمیکا سے تعلق رکھنے والے سابق ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9 اعشاریہ 58 سیکنڈز میں طے کرکے دنیا کے تیز ترین شخص ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

سمیع اللہ کے والد عمر رسیدہ ہیں اور اکثر بیمار رہتے ہیں، اس لیے دکان پر کم ہی آتے ہیں جس کی وجہ سے پلاؤ فروخت کرنے کا یہ کام ان کے قومی ہیرو بیٹے کو وراثت میں ملا لیکن وہ والد کے پیشے اور اپنے شوق دونوں کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں۔

تاہم کاروبار کی وجہ سے سمیع اللہ کی روزانہ کی پریکٹس اور میچز میں حصہ لینے پر اثر ضرور پڑتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 25 سالہ نوجوان سمیع اللہ نے ایک گاہک کو چاول کی پلیٹ ہاتھ میں تھماتے ہوئے  انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بچپن میں، میں فٹ بال کھیلتا تھا، پرائمری سکول کے بعد جمرود کے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 میں داخلہ لیا تو ایتھلیٹکس مقابلوں کا جنون کی حد تک شوق پیدا ہوا۔‘

سمیع اللہ نے بتایا کہ وہ زندگی کا بہت مشکل دور تھا جب سکول اور چاول فروخت  کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایتھلیٹکس کی ٹریننگ بھی حاصل کرتے تھے لیکن سخت محنت اور کھیل سے محبت نے ان کے لیے راہ ہموار کی۔

سمیع اللہ نے بتایا کہ انٹر سکول میں مقابلے ہوں، انٹر کالج میں یا پھر دیگر قومی سطح پر ایتھلیٹکس کے مقابلے ہوں، انہوں نے ہر جگہ گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔

گھر کی کفالت کی ذمہ داری اور مالی حالات نے سمیع اللہ کو بارہویں جماعت کے بعد مزید پڑھنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنے والد کا پیشہ جاری رکھا۔ صبح سے لے کر دوپہر 12 بجے تک چاول فروخت کرنے کے بعد وہ تھڑا بند کرکے گھر اور پھر معمول کی پریکٹس کے لیے گراؤنڈ کا رخ کرتے ہیں۔

سمیع اللہ نے بتایا کہ حالیہ نیشنل گیمز میں واپڈا کی جانب سے انہوں نے ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں شرکت کی اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ انہوں نے بتایا کہ کام ختم کرنے کے بعد وہ تین ماہ تک روزانہ پشاور جاتے اور سپورٹس کمپلیکس میں دوڑ کی پریکٹس کرتے تھے تاکہ نیشنل گیمز میں اپنی کارگردگی دکھا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کام اور کھیل دونوں کا ایک ساتھ جاری رکھنا کافی مشکل ہے لیکن ان کی خواہش تھی کہ نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کریں، جو پوری ہوگئی۔

سمیع اللہ نے بتایا کہ کارکردگی کی بنیاد پر نیپال میں 13ویں ساؤتھ ایشیئن گیمز کے لیے ان کا انتخاب ہوا ہے جس میں وہ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ’میری پوری کوشش ہے کہ اب بین الاقوامی سطح پر بھی ایتھلیٹکس مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کرکے ملک کا نام روشن کر سکوں۔‘

انہوں نے بتایا کہا کہ ایتھلیٹکس میں ابھی کافی کیریئر باقی ہے، وہ ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں لیکن یہاں ان کے پاس مکان ہے اور نہ دیگر ذرائع روزگار۔ وہ اپنے خاندان کی کفالت تھڑے پر چاول فروخت کرکے کرتے ہیں، اگر ان کی داد رسی کی گئی تو پاکستان کا چیمپیئن بننے کا خواب پورا ہو جائے گا لیکن غربت اور کم وسائل کی وجہ سے سمیع اللہ کو ڈر ہے کہ کہیں ان کا کیریئر وقت سے پہلے ختم نہ ہوجائے ۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی