سانحہ اے پی ایس: ’ٹوپی نہ ہوتی تو میں آج زندہ نہ ہوتا‘

حسن طاہر نے اُس دن کی داستان سناتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں آڈیٹوریم میں جانے کے لیے کہا گیا کہ وہاں ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ ہو رہی ہے اور وہ سارے وہاں چلے گئے۔

’میں سکول کے آڈیٹوریم میں موجود تھا کہ گولیوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ پہلے ہمیں لگا کہ یہ بھی ابتدائی طبی امداد کی  ٹریننگ کا کوئی حصہ ہوگا اور ٹیچر بعد میں ہمیں بتائے گا کہ اس طرح کی گولیوں سے کیسے بچنا ہوگا لیکن چند ہی منٹوں میں سب کچھ بدل گیا۔ بچوں کے سروں اور سینے پر گولیاں لگیں۔ میں نے ہڈ والی ٹوپی پہن رکھی تھی اور گولی ٹوپی کے اوپری سرے میں لگی لیکن میں بچ گیا۔‘

یہ کہنا تھا سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں بچ جانے والے ملک حسن طاہر کا جو اس حملے میں زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے لیکن ان کے بڑے بھائی اسامہ طاہر حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

حسن طاہر نے کالج تک اسی سکول میں پڑھا اور اب پشاور کے ایک نجی یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کر رہے ہیں۔ پانچ سال بعد بھی حسن طاہر ٹراما سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹراما اور اندوہناک واقعہ ان کے ذہن میں پوری زندگی اس طرح رہی گا۔

حسن کے بڑے بھائی جو اس سانحہ میں گولیوں کا نشانہ بنے جماعت ہفتم کے طالب علم تھے۔

حسن طاہر نے اُس دن کی داستان سناتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں آڈیٹوریم میں جانے کے لیے کہا گیا کہ وہاں ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ ہو رہی ہے اور وہ سارے وہاں چلے گئے۔

کچھ ہی لمحوں بعد گولیوں کی آواز سنائی دی اور ٹرینر نے کہا کے ہال کے دروازوں کی کنڈیاں لگا لو لیکن چند ہی لمحوں بعد ہال کے دروازے   ٹوٹ گئے اور ہال میں فائرنگ شروع ہوگئی۔

انھوں نے بتایا کہ’فائرنگ کے بعد بچوں کی لاشوں کے ڈھیر تھے۔ کسی کو سینے پر اور کسی کو سر پر گولی لگی تھی۔ میرے دونوں جانب بیٹھے دوستوں میں سے ایک کو سر اور دوسرے کو سینے پر گولی لگی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔‘

یہ کہانی سناتے ہوئے حسن طاہر کے چہرے پر اب بھی وہ خوف صاف نظر آرہا تھا کہ وہ کس طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ٹیچر نے کہا کہ جلدی سے بھاگ جاؤ اور یوں ہم دوسرے ساتھیوں اور ایک ٹیچر کے ساتھ ہال سے باہر نکل گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ہال کے دروازے کے باہر میں کھڑا ہو گیا اور سوچ رہا تھا کہ کسی طرح اپنے بڑے بھائی اسامہ طاہر کو بچا سکتا ہوں لیکن ٹیچر نے دور سے آواز دی کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تمہیں بھی مار دیا جائے گا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا پانچ سال بعد بھی ان کی خاص ذہنی کیفیت اب بھی برقرار ہے؟ تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’اب بھی نیند میں کبھی کبھی ڈر جاتا ہوں کیونکہ میں نے اپنے دوستوں اور بھائی کو گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا ہے۔ میں یہ کیسے میں بھلا سکتا ہوں؟‘

’اب بھی سوتے ہوئے کبھی کبھی ڈر جاتا ہوں یا ڈرائیونگ کے دوران وہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ پہلے مجھے غصہ نہیں آتا تھا لیکن اب چھوٹی چھوٹی بات پر بہت زیادہ ہائپر ہو جاتا ہوں۔‘

حسن طاہر نے مزید بتایا کہ شروع میں کچھ ماہرین نفسیات ان سے ملنے آئے تھے لیکن میں مطمئن نہیں تھا کیونکہ وہ مجھے یہ سب کچھ بھلانے کا کہہ رہے تھے جو میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ ساری عمر میری ذہن میں اسی طرح رہے گا کیونکہ یہ میں کیسے بھلا سکتا ہوں۔

اسامہ طاہر کی شیلڈز، تصاویر، اور میڈل گھر کے ایک کمرے میں سجا کر رکھے گئے ہیں۔ اسامہ کے والد ملک طاہر اعوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہر سال اپنے بچوں کو یاد کر کے ہمیں دلی سکول ملتا ہے اور ہم اسی سے ہی زندہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ ہمارا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ ہم جب کھانا کھاتے ہیں تو بھی اسامہ ہوتا ہے۔ جب گیم کھیلنے جاتے ہیں تو بھی اسامہ ہمارے پاس ہوتا ہے۔

کیا اے پی ایس واقعے کے عینی شاہدین طلبا ٹراما سے نکل پائیں گے؟

ڈاکٹر اعزا ز جمال مردان میڈیکل کمپلیکس کے سائیکاٹرک یونٹ کے رجسٹرار ہیں۔ ا س سے پہلے وہ پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اے پی ایس  حملے میں بچ جانے والے بچوں اور والدین کی کونسلنگ کی ہے۔

ڈاکٹر اعزاز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان بچوں اور والدین کی سائیکا ٹرک کونسلنگ بالکل مفت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ  سانحہ اے پی ایس متاثر ہونے والوں کو ٹراما سے نکالنا بالکل ممکن ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ بچے اور والدین باقاعدگی سے سائیکاٹرک کے پس جائیں اور ان کی مناسب انداز میں کونسلنگ کی جائے۔

ڈاکٹر اعزاز  نے مزید بتایا کہ جتنے بھی بچوں سے وہ پہلے ملے ان میں بدلہ لینے ، غصہ، اوار ڈپریشن کا مسئلہ بہت عام تھا۔ یہ بچے اور ان کے والدین اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ ان کے دوست اور بچے اس سانحے میں گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسے بچے پوسٹ ٹراماٹک سٹریس ڈس آرڈر یا انزائیٹی میں چلے جاتے ہیں۔ ان میں غصہ زیادہ ہوتا ہے۔ خود کشی کا خیال بھی دماغ میں آتا ہے اور ساتھ میں اپنے آپ کو ملامت بھی کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ اس لیے ہوا کیونکہ وہ موقع پر موجود تھے اور اگر وہ موجود نہ ہوتے تو ان کے ساتھ سانحہ بھی نہ ہوتا۔‘

انہوں نے کہا کہ سائیکاٹرک سپورٹ سے ان بچوں کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ کم عمر لوگوں کی ذہن سازی بہت اچھے طریقے سے ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ بچوں پر سے اس  تلخ سانحے کے اثرات ممکنہ حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان