امریکہ میں پاکستانی لابی کیا نہیں کر رہی؟ 

ڈاکٹروں سے کشمیر کے مسئلہ پر آواز اٹھانے کی اپیل کرنے اور امریکی لابی فرمز کو لاکھوں ڈالرز دینے سے بہتر ہے کہ ایک ایسی پالیسی پر کام کیا جائے جس کے تحت پاکستانی امریکی نوجوانوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ مقامی سیاست میں حصہ لیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ میں مقیم پاکستانی معالجوں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ یا ’اپنا‘ کی پشاور میں تقریب سے خطاب میں اپیل کی کہ پاکستانی ڈاکٹرز امریکہ میں بھارتی لابی کا مقابلہ کرنے اور کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا موقف بہتر انداز میں پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں (کے پی انفارمیشن ڈپارٹمنٹ)

وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ میں مقیم پاکستانی معالجوں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ یا ’اپنا‘ کی پشاور میں ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپیل کی کہ پاکستانی نژاد ڈاکٹرز امریکہ میں بھارتی لابی کا مقابلہ کرنے اور کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا موقف بہتر انداز میں پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

بظاہر تو وزیر اعظم کی اپیل اتنی ہی علامتی لگتی ہے جتنی وہ یہی گزارش زندگی کے دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے کرتے ہیں لیکن یہ باقی اپیلوں سے کسی حد تک منفرد ہے جس پر اگر غور کیا جائے تو کچھ اہم معاملات و رجحانات سامنے  آجاتے ہیں جو بروقت توجہ کے متقاضی ہیں۔

کامیاب طبقہ

اگر وزیر اعظم پاکستانی امریکن ڈاکٹرز سے ایک سیاسی مسئلے پر مدد مانگ رہے ہیں تو فوری طور پر ذہن میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنا دراصل سفارت کاروں اور سیاست دانوں کا کام نہیں ہے؟ کیا ہمارے سفارت کار اور سیاست دان اپنا کام کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں؟ یقیناً یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے لیکن پاکستانی ڈاکٹرز سے مدد مانگنے کی ایک دوسری وجہ ہے اور وہ یہ کہ امریکہ میں جو ہزاروں پاکستانی ڈاکٹر رہائش پزیر ہیں ان کا شماراس کامیاب طبقے میں ہوتا ہے جس کی امریکہ میں ماہرینِ اقتصادیات اور عمرانیات اکثر مثالیں دیتے ہیں کیونکہ بیشتر پاکستانی امریکن (خاص کر ڈاکٹر اور انجنئیر) تعلیم اور آمدن کے اعتبار سے بیشتر امریکیوں سے کئی گنا بہتر ہیں۔ پاکستانی امریکی کمیونٹی خاصی پڑھی لکھی، خوشحال اور مستحکم مانی جاتی ہے جس کے پاس رزق و دولت کی فراوانی اور سخاوت کی گہری روایت ہے۔ لہذا خان صاحب سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی امریکی اس دولت اور سماجی رتبے کا صحیع استعمال کر کے کشمیر کی تاریخی اور موجودہ صورت حال کے بارے میں ناصرف امریکہ میں شعور و آگاہی بیدار کریں بلکہ امریکی کانگریس میں پاکستان کے موقف کے حق میں لابنگ کریں تاکہ کانگریس کے اراکین کو قائل کیا جاسکے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ نئی دہلی کشمیر میں جاری مظالم کا سلسلہ بند کرے۔

بدلتا لہجہ

خان صاحب کے سیاسی عروج میں ان کے امریکہ (بالخصوص ڈرون) مخالف موقف کا بڑا ہاتھ تھا۔ تاہم وزیر اعظم بننے کے بعد انھوں نے امریکہ کی جانب ناصرف اپنے لہجے میں بتدریج نرمی لائی بلکہ مستقل طور پر یہ عندیہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا غیرسنجیدہ انسان ہی کیوں نا امریکہ کا صدر ہو لیکن امریکہ اب بھی ایک سُپر پاور ہے اور پاکستان کو اپنے موقف کو اگر عالمی سطح پر منوانا ہے تو اس کے لیے واشنگٹن کو اپنے ساتھ ملانا اور خوش رکھنا لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل جب خان صاحب ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملے تو انھوں نے  بظاہر یہ سوچ کر ٹرمپ کی شان میں کئی خوش آمدی کلمات کہے کہ کہیں اس خوش آمد میں ٹرمپ پھسل کر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی پر آمادہ ہو جائیں۔ وقتی طور پر بالکل ایسا ہی ہوا لیکن اس کے بعد بھارت نے کشمیر میں جو پالیسی اپنائی اور ظالم کا بازار گرم کیا اسےختم کرنے میں ٹرمپ نے پاکستان کی بالکل بھی مدد نہیں کی۔ امریکہ کی بےرخی اور ٹرمپ کی بےوفائی اپنی جگہ پر، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اب بھی بدستور اس بات کی قائل نظر آتی ہے کہ پاکستان کا موقف عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہو یا بھارت کو دنیا کے سامنے بےنقاب کرنا، دونوں خواب واشنگٹن کے راستے ہی سے گزر کر شرمندہ تعبیر ہوسکتے ہیں۔ لہذا خان صاحب کی خواہش ہے کہ امریکی حکومت، میڈیا اور تھنک ٹینک کو پاکستان کی کشمیر پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

لیکن ایسا کیسے کیا جائے؟

جب بھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو اس کا ہر وقت ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے۔

’لابنگ‘

اور جب بھی امریکہ میں ’ لابنگ‘ کی بات ہوتی ہے تو پاکستانی سرکاری اور صحافتی حلقوں میں یکدم سرگرم ’یہودی لابی‘ یا ’انڈین لابی‘ کے بارے میں سننے کو ملتا ہے لیکن ہم نے بمشکل کبھی ’پاکستانی لابی‘ کا نام سنا ہے۔

متمول لیکن غیرسیاسی امریکہ میں پاکستانی لابی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی امریکیوں نے دولت تو بہت کمائی ہے لیکن امریکی سیاست میں آج تک اپنے قدم نہیں جمائے۔ بھارتی لابی کا مقابلہ کرنے کی خواہش کا اظہار تو عموماً کیا جاتا ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت نژاد امریکی ناصرف امریکہ میں گورنر، سینیٹر، میئر اور صدارتی امیدوار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں جب کہ پاکستانی امریکی سیاست میں دور دور تک نظر نہیں آتے۔ امریکی معاشرے میں سیاست میں اپنے قدم جمانے میں بھارت کے مقابلے میں پاکستانی برادری بہت پیچھے ہے۔

باقی امریکہ میں ٹرمپ کے مواخذے یا آنے والے صدارتی انتخابات کا چرچا کیوں نا ہو لیکن روایتی پاکستانی امریکی حلقوں میں اب بھی سیاسی گفتگو کا دائرہ الطاف حسین اور زرداری تک محدود ہوتا ہے جب کہ گھروں میں اے آر وی اور جیو نیوز یا ہم ٹی وی کے ڈرامے چل رہے ہوتے ہیں۔ اپنے آبائی وطن اور ثقافت سے محبت اچھی بات ہوتی ہے لیکن ایک نئے ملک میں رہ کر اس کی سیاست سے الگ تھلک رہنے کی قیمت بھی بھاری ہوتی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کا خان صاحب رونا رو رہے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ پاکستانی امریکی مقامی اور قومی سیاست میں بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔ پاکستان نے اچھے ڈاکٹرز تو پیدا کئے ہیں لیکن امریکہ میں پاکستانی سیاست دان، صحافی، وکیل اور دانشور اب بھی قومی دھارے میں دور دور تک نظر نہیں آتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ شارٹ کٹ ایسا نہیں ہے کہ اسلام آباد کو اپنی اس کمزوری کا احساس نہیں ہے۔ یہ کمزوری سب بھانپ چکے ہیں لیکن اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کی بجائے حکومت کی طرف سے مستقل طور پر شارٹ کٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ جب سے پاکستانی پالیسی سازوں کو کسی نے کہیں سے یہ بتایا ہے کہ امریکہ میں وہ پیسوں سے سب کچھ خرید سکتے ہیں، تب سے وہ اس خیال کے قائل ہو چکے ہیں۔ لہذا حکومت پاکستان لاکھوں ڈالرز خرچ کر کے واشنگٹن میں اپنے موقف کو آگے بڑھانے کے لیے لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنے میں مصروف ہے لیکن اس کا نتیجہ پھر بھی صفر ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی موجودگی میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ نے ایک بڑے لابنگ فرم ’ہولنڈ اینڈ نائٹ‘ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت یہ طے پایا کہ صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی کانگریس مین ٹام رینولڈز کی قیادت میں ’ہولنڈ اینڈ نائٹ‘ مختلف معاملات پر واشنگٹن میں پاکستان کے موقف کی ترجمانی کرے گی۔

اتنا کچھ کرنے کے باوجود واشنگٹن میں کشمیر پر پاکستان کے بیانیے کی کوئی شنوئی نہیں ہو رہی ہے۔ بھارت کا بیانیہ پروین شاکر کے اس شعر کے مصداق بدستور حاوی ہے کہ

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

پیسوں سے وکیل اور لابیسٹ تو خریدے جا سکتے ہیں لیکن انھیں کسی اشو پر دل و جان سے یقین کرنے اور اس پر بولنے پر تیار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ پیسوں سے سفیروں، صحافیوں اور تھنک ٹھینکس کے تجزیہ نگاروں کے لیے بریانی پارٹیوں کا اہتمام تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے امریکی مقامی سیاست میں پاکستانیوں کی عدم دلچسپی اور عدم شمولیت کا جو گھمبیر معاملہ ہے وہ حل نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹروں سے کشمیر کے مسئلہ پر آواز اٹھانے کی اپیل کرنے اور امریکی لابی فرمز کو لاکھوں ڈالرز دینے سے بہتر ہے کہ ایک ایسی دیرپا پالیسی پر کام کیا جائے جس کے تحت امریکی سیاست میں پاکستانی امریکی نوجوانوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ مقامی سیاست میں حصہ لیں اور اہم پالیسی ایشوز پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ