امریکی انخلا ذمہ دارانہ ہونا چاہیے، 80 کی دہائی جیسا نہیں: قریشی

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان سے سہولت کاری کا کہا تاکہ افغانستان سے فوجوں کو نکالا جا سکے۔

شاہ محمود قریشی ایران کا دورہ کرنے کے بعد اب امریکہ میں موجود ہیں۔(تصویر: شاہ محمود قریشی ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے سے اپنی افواج واپس بلانے کا کہہ چکے ہیں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان سے سہولت کاری کا کہا تاکہ افغانستان سے فوجوں کو نکالا جا سکے۔

دورہ ایران کے بعد اس وقت امریکہ میں موجود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: ’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں تو ذمہ دارانہ انداز میں نکلیں، ایسے نہیں جیسے آپ نے 1980 میں کیا، جس سے ایک خلا پیدا ہوا جس کو مداخلت کرنے والی قوتوں نے بھرا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کو ختم کرکے اسے نئے سرے سے شروع نہیں کرنا چاہتا۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق: ’ایران جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) میں رہتے ہوئے بات کرنے کو تیار ہے لیکن معاہدے کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں۔‘

اس موقع پر پروگرام کی میزبان نے ان سے پوچھا کہ آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے۔ جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تحفظات کیا ہیں اور انہیں کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ وہ اسے ختم کرکے نئے سرے شروع نہیں کرنا چاہتے۔‘

امریکہ سے حالیہ کشیدگی کے پیش نظر ایران کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’صدر روحانی سے ملاقات کا میرا بنیادی مقصد یہ بتانا تھا کہ کشیدگی میں کمی سب کے مفاد میں ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کے مطابق: ’پاکستان کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہا ہے، ہمارے خیال میں خطے میں نیا تنازع بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ایرانی  صدر حسن روحانی سے ملاقات کے موقع پر۔ (تصویر: اے ایف پی)


انہوں نے مزید کہا کہ ’خطے میں تنازع کے اثرات مزید آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ فضائی حملے کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’مجھے ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کافی مثبت لگے۔ وہ کشیدگی میں اضافے کا ارداہ نہیں رکھتے۔ انہیں بھی مزید کشیدگی کی صورت میں نتائج کا اندازہ ہے۔‘

انٹرویو کے دوران میزبان نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں ایران کا حقانی نیٹ ورک میں کوئی کردار ہے اور کیا آئی ایس آئی اب بھی حقانی نیٹ ورک کی مدد کرتی ہے یا نہیں؟

جس پر شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ ’آپ ماضی کی بات کرنا چاہتی ہیں اور ماضی کڑوا ہے۔ ماضی کو چھوڑ کر مستقبل کو دیکھیں۔ پرامن، مستحکم مستقبل سب کے مفاد میں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا