گوگل ٹیک آوٹ ایپ میں نقص: صارفین کی ویڈیوز اجنبیوں کو مل گئیں

گوگل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمپنی نومبر میں اس نقص سے متاثر ہونے والے افراد کو اس بارے میں آگاہ کر رہی ہے۔

ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے جلاس  کے موقع پر ایک عمارت پر لگا گوگل کا لوگو (اے ایف پی)

دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل گوگل کا کہنا ہے کہ اس کی ایپلیکشن ’گوگل ٹیک آوٹ‘ کے سافٹ ویئر میں نقص کی وجہ سے سمارٹ فونز کی فوٹو ایپ سے بنائی گئی ویڈیوز اجنبی افراد کو چلی گئیں ہیں۔

منگل کو گوگل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کمپنی اس نقص سے متاثر ہونے والے افراد کو اس بارے میں آگاہ کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں گوگل کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسا ہونے پر بہت معذرت خواہ ہیں۔ اس مسئلے کو حل کر دیا گیا ہے اور ہم نے اس حوالے سے ایک جامع تحقیق کی ہے تاکہ ایسے واقعہ کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی کی جانب سے یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ گوگل ٹیک آوٹ استعمال کرنے والے صارفین کی ایک قلیل تعداد کو اس نقص کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گذشتہ سال 21 نومبر سے 25 نومبر کے درمیان گوگل فوٹوز سے ڈاؤن لوڈ کرنے والے افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

گوگل کا کہنا ہے: ’ان صارفین کو نامکمل ویڈیوز یا ایسی ویڈیوز یا تصاویر ملی ہوں گی جو ان کی نہیں تھیں۔‘

گوگل ٹیک آوٹ ایپلیکشن صارفین کو کلاؤڈ یا ای میل میں موجود ڈیٹا جن میں تصاویر اور ویڈیوز شامل ہوتی ہیں کو آسانی سے ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس ایپلیکشن کا مقصد لوگوں کو اپنے ڈیٹا تک رسائی کے لیے آن لائن سروس سے آزادی دلوانا تھا لیکن سافٹ ویئر میں نقص کی وجہ سے کئی صارفین کی ویڈیوز اجنبی افراد کو چلی گئیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی