کرونا سے بچاؤ کے پیغام کا آغاز کھانسی سے

بھارتی شہریوں کو موبائل فون نیٹ ورک کے ذریعے وزارت صحت سے منظور شدہ پیغام بھیجے جارہے ہیں، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔

بھارتی شہر چینئی میں   ایک مرغی فروش  نے موبائل فون کان سے لگایا ہوا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت اپنے موبائل فون نیٹ ورک کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو کرونا وائرس سے متعلق آگاہی پیغامات بھیج رہا ہے، جن کا آغاز کھانسی کی آوازوں سے ہوتا ہے۔

1.3 ارب افراد پر مشتمل بھارت دنیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جہاں موبائل فون کنکشنز کی تعداد 1.1 ارب ہے۔ یہاں اب تک کرونا وائرس کے 43 مثبت واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت میں ٹیلی کمیونیکشن آپریٹرز کو اتوار سے وزارت صحت سے منظور شدہ پیغام کی ریکارڈنگ چلانے کا حکم دیا گیا تھا، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔

جب کوئی بھی صارف کسی کو اپنے موبائل فون سے کال کرتا ہے تو اسے اس پیغام کی ریکارڈنگ سنائی دیتی ہے، جس کا آغاز کسی کے کھانسی کی آواز سے ہوتا ہے اور اس کے بعد ہندی یا انگریزی میں 30 سیکنڈ کا آڈیو پیغام ہوتا ہے۔

خاتون کی آواز میں ریکارڈ شدہ اس پیغام کے مطابق: ’کھانسی یا چھینکنے کے دوران اپنے چہرے کو ہمیشہ رومال یا ٹشو سے ڈھانپ لیں۔‘

’ہاتھوں کو باقاعدگی سے صابن سے دھویں اور اپنے چہرے، آنکھوں یا ناک کو چھونے سے گریز کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیغام میں مزید معلومات کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی شامل ہے۔

سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل راجن ایس میتھیوز کے مطابق موبائل نیٹ ورک کی بھارت میں بہت زیادہ رسائی ہے، حتیٰ کہ دیہی علاقوں میں بھی جہاں دیگر مواصلات اور میڈیا چینلز کی کمی ہے۔

میتھیوز نے اے ایف پی کو بتایا: ’آگاہی پیدا کرنے کے لیے اس سے بہت زیادہ اثر پڑے گا۔‘

سیلاب اور طوفانوں جیسی قدرتی آفات سے متعلق اہم معلومات یا انتباہی پیغام دینے کے لیے حکام کام اکثر اوقات بڑے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہیں۔

بھارتی حکومت نے حال ہی میں اس وائرس کے حوالے سے ایک صحت عامہ کی مہم شروع کی تھی جس میں اخبارات اور ریڈیو پر اشتہار بھی شامل ہیں۔

گذشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے اس وائرس کے نتیجے میں 100 سے زائد ممالک میں تین ہزار 825 افراد ہلاک اور ایک لاکھ دس ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت