سعودی آرٹ فیسٹیول جس میں ایرانی فنکار بھی شریک تھے

نوجوانوں کی پسندیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میوزک فیسٹیول کو سعودی عرب جیسے مذہبی اور انتہائی روایتی ملک میں ایک بہت بڑا ، بااثر اور کامیاب اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔

ممتاز ایرانی فنکاروں کا کہنا تھا کہ اس میلے میں انہوں نے کسی سیاسی مقصد سے شرکت نہیں کی۔ (ٹوئٹر)

1960 کی دہائی کے آخر اور 1970 کی دہائی کے اوائل میں ایرانی معاشرہ روایتی اور قدامت پسند تھا۔ ایسےمیں شیراز کلچر فیسٹیول بیک وقت روایات مخالف بھی ثابت ہوا اور تعریف و تحسین کے جذبات بھی اس کے بارے میں دیکھے گئے۔

اس جشن کے بارے میں جاننے کے لیے گلیوں تک رسائی درکار تھی کیونکہ جو کچھ ہورہا تھا وہ اس وقت تک قومی ٹیلی ویژن دیکھنے یا اخبارات پڑھنے تک ہی محدود تھا۔ تب نہ تو انٹرنیٹ اور نہ ہی آج کا ماس میڈیا موجود تھا۔

اس وقت ہر گھر میں ٹیلی ویژن دستیاب نہیں تھا۔ سیاسی اور سماجی واقعات کی تفصیل جاننے کے لیے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں لوگوں کی بڑی تعدادزیادہ تر مذہبی طبقے سے ہی رابطہ کرتی تھی۔

اس وقت، یعنی 50 سال قبل ایسے  ثقافتی پروگرام کا انعقاد جس سے مغرب اور جدیدیت کی بو آتی ہو اسے کے خلاف روایتی مزاحمت اور رجعت پسند مذہبی طبقے کی مخالفت بالکل ظاہری بات تھی۔

آیت اللہ خمینی نے شیراز آرٹ فیسٹیول کو ایک بے ہودہ آرٹ فیسٹول قرار دیا تھا۔

ایران میں آنے والے انقلاب نے نہ تو شیراز کے فن کو باقی رہنے دیا، نہ ہی موسیقی باقی رہی اور نہ ان لوگوں کی امیدیں جو ملک کی ترقی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ لوگ جو ایران کو خطے میں ایک کامیاب ملک سمیت خوبصورتی اور ترقی کا رول ماڈل سمجھتے تھے، ان کی بھی کوئی امید باقی نہیں تھی۔

انقلاب ایرانی عوام کے لیے جو کچھ بھی لایا وہ خاموشی، بے رحمی اور ماضی کی کامیابیوں کا خاتمہ تھا۔ خطے کے لیے انتہا پسندی اور دھمکیوں سمیت بہت سے خطرات تھے۔ ایران اسلام اور شیعہ مذہب کی ایک قدامت پسند تشریح میں الجھا دیا گیا تھا۔

ایرانی انقلاب نہ صرف اس ملک میں ڈرامائی تبدیلی لایا بلکہ ہمسایہ ممالک کے سیاسی اور معاشرتی واقعات پر بھی اس کا گہرا اثر پڑا۔ ایرانی انقلاب نے شدت پسندی کی تحریکوں کو اسی طرح تقویت بخشی جس طرح شاہ ایران کے ثقافتی اور اصلاح پسند پروگراموں نے ان کے پڑوسیوں کو متاثر کیا اور موہ لیا۔

یہ شاید بہت سے لوگوں کے لیے ناقابل یقین ہے کہ گوگوش کے گیت 1970 کی دہائی میں سعودی عرب میں قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر نشر کیے گئے تھے۔ اس ملک میں سنیما گھر تھے اور ایران میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے عین مطابق پڑوسی ممالک بھی ان تبدیلیوں اور اصلاحات سے متاثر ہوئے تھے۔

شیراز فیسٹیول کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے سعودی عرب کے مغربی علاقے طنطورہ العلا میں ہونے والے دوسرے ٹیلنٹ ونٹر میوزک فیسٹیول میں شرکت کی۔ اس تہوار کا مقصد مشرق و مغرب کی ثقافت اور موسیقی کو متعارف کروانا ہے ۔ یہ فیسٹیول ایسی اصلاحات اور تبدیلیوں پر مبنی ہے جو بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی گئیں ہیں۔

نوجوانوں کی پسندیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میوزک فیسٹیول کو سعودی عرب جیسے مذہبی اور انتہائی روایتی ملک میں ایک بہت بڑا ، بااثر اور کامیاب اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میلے کے افتتاح کے بعد دو برس کے اندر اس میں بین الاقوامی آرٹسٹوں کی شرکت ایک اہم بات ہے۔ امید ہے کہ یہ فیسٹیول آئندہ بھی دیگر مسلم ممالک کو متاثر کرے گا اور روایتی معاشروں پر وہی اثر ڈالے گا جو مرحوم محمد رضا شاہ پہلوی کی اصلاحات کے دور میں سامنے آیا۔ یہ ایک ترقی پسند ، جدید اور جرات مندانہ اقدام ہے۔ پھر ٹیلنٹ میوزک فیسٹیول نے اپنے آخری دو دنوں میں پہلی بار ایرانی فنکاروں کی میزبانی بھی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ممتاز ایرانی فنکاروں کا کہنا تھا کہ اس میلے میں انہوں نے کسی سیاسی مقصد سے شرکت نہیں کی۔ وہ اسے فن ، ثقافت اور سرحدوں کے پار پھیل جانے والی موسیقی کے فروغ کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایرانی موسیقی اور ثقافت کو متعارف کروانے اور انسانی معاشرے میں تعمیری اور فائدہ مند تبدیلیوں کا خیرمقدم کرنے میں یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ 

انتہا پسندی کے عروج کی وجہ سے اس خطے کے عوام نے گذشتہ دہائیوں میں بہت مصائب برداشت کیے ہیں۔ تشدد اور انتہا پسندی کی بھی کوئی سرحد نہیں ہے اور وہ آسانی سے سرحدوں کو عبور کرسکتے ہیں اور تباہی، غربت اور ایک دوسرے کو جہالت ہی دے سکتے ہیں۔

اس دوران ، اس میلے میں شریک ایرانی فنکاروں کی ہمت اور کھلی ذہنیت قابل ستائش تھی۔

فنکار عوام کے سفیر ہوتے ہیں۔ اس میلے میں شریک ایرانی گلوکار مختلف عمر اور طبقوں کے افراد کی پسند اور ایرانی معاشرے کے ذوق کا مظہر تھے۔ ایک برادری کی آواز جو خوشی اور امید کی منتظر ہے ، اور 5 اور 6 مارچ کو یہ آواز سرحدوں سے کچھ ہی دور سے ایرانی سرزمین تک پہنچی۔

کسی بھی معاشرے میں نئی ​​تحریک یا تبدیلی لانا ایک مشکل کام ہے اور مختلف گروہوں کی طرف سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ بہت سی آوازیں اور شخصیات ایسی ہیں جو اس ثقافتی تحریک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مستقبل میں یہ بہت خوشی کی بات ہو گی کہ ممتاز ایرانی گلوکار بھی دوسرے ممالک کے دیگر نمائندوں کے ساتھ ان تبدیلیوں کی حمایت کرنے اور بنیاد پرستی کو مسترد کرنے میں پیش پیش ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا