وینٹی لیٹر کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

ہر ڈاکٹر وینٹی لیٹر نہیں چلا سکتا۔ اس کے لیے تربیت یافتہ عملے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر پاکستان بڑی تعداد میں وینٹی لیٹر منگوا بھی لے تو انہیں چلانا ایک مسئلہ ہو گا۔

کرونا وائرس کی عالمگیر وبا کے پیش نظر وینٹی لیٹر کا ذکر میڈیا میں اکثر سننے میں آ رہا ہے۔

سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے عندیہ مل رہا ہے کہ پاکستان میں وینٹی لیٹروں کی شدید قلت ہے۔ میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں ایک ہزار کے لگ بھگ وینٹی لیٹر موجود ہیں جب کہ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے بقول کرونا وائرس کی وبا شدت اختیار کر گئی تو صرف پنجاب میں 25 ہزار وینٹی لیٹر درکار ہوں گے۔

ہلالِ احمر کے سربراہ ابرار الحق نے جمعے کو ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں کل تین وینٹی لیٹر ہیں اور پنجاب انہیں مزید پانچ مشینیں فراہم کر رہا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ موجود وینٹی لیٹر پہلے ہی سے زیرِ استعمال ہیں اور ایسا ممکن نہیں کہ کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں کسی اور مرض یا حادثے کے باعث موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا مریض سے وینٹی لیٹر ہٹا کر کرونا کے مریض کو لگا دیا جائے۔

وینٹی لیٹر کی کمی اپنی جگہ، ایک اور رکاوٹ یہ بھی ہے کہ ہر ڈاکٹر وینٹی لیٹر نہیں چلا سکتا۔ اس کے لیے خصوصی ڈاکٹر اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے اگر وینٹی لیٹر آ بھی جائیں تو انہیں چلانا ایک اور مسئلہ ہو گا۔

اس دوران بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ وینٹی لیٹر ہوتا کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

وینٹی لیٹر کی ضرورت کب پڑتی ہے؟

کرونا وائرس کے 80 فیصد مریض معمولی بیمار ہوتے ہیں اور بغیر علاج کے خود ہی صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ البتہ معتبر طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کا شکار بننے والے پانچ فیصد مریض ہنگامی طبی امداد کے مراکز میں پہنچ جاتے ہیں اور ان میں سے نصف کو، یعنی کل تعداد کے ڈھائی فیصد کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب تک شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کی ایک قلیل تعداد پھیپھڑوں کی شدید بیماری ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے آر ڈی ایس) میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

اس بیماری میں پھیپھڑے سوزش کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی تھیلیوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھیپھڑے اپنا فعل انجام نہیں دے سکتے، یعنی دوسرے الفاظ میں جسم کو آکسیجن فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتِ حال ہے، جس کے تدارک کے لیے مریض کو مصنوعی طریقے سے وینٹی لیٹر کے ذریعے آکسیجن پہنچائی جاتی ہے۔

وینٹی لیٹر کیسے کام کرتا ہے؟

وینٹی لیٹر ایک پیچیدہ مشین ہے، جس کے تین بڑے حصے آکسیجن سلنڈر، کمپریسر اور کمپیوٹر ہیں۔

ایک نلکی مریض کی ناک یا منہ سے گزار کر پھیپھڑوں تک پہنچائی جاتی ہے، جس کے بعد کمپریسر کے ذریعے آکسیجن سلنڈر سے آکسیجن براہِ راست مریض کے پھیپھڑوں تک فراہم کی جاتی ہے۔ ایک اور نلکی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں سے نکال کر باہر لے آتی ہے۔

وینٹی لیٹر ہوا کے اندر حسبِ ضرورت آکسیجن شامل کر کے مریض کے پھیپھڑوں تک براہِ راست بھیجتا ہے۔ عام طور پر مریض سانس خود باہر نکالتا ہے لیکن اگر سانس لینے کا عمل مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے تو وینٹی لیٹر سانس باہر بھی نکال سکتا ہے اور یوں مریض کے پھیپھڑوں کا کام کرنے لگتا ہے۔ 

چونکہ شدید بیمار مریض کی خاصی توانائی سانس لینے اور باہر نکالنے پر خرچ ہو جاتی ہے، اس لیے وینٹی لیٹر اس کے لیے سانس لے کر صحت بحال کرنے کے عمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ویسے تو آکسیجن ماسک کے ذریعے بھی پہنچائی جا سکتی ہے لیکن وینٹی لیٹر اس سلسلے میں زیادہ موثر ہے اور آکسیجن ضائع کیے بغیر مریض کو فراہم کر سکتا ہے۔ 

وینٹی لیٹر کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کی مدد سے پھیپھڑوں کے اندر دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے تاکہ وہ پچک نہ جائیں۔ 

مزید یہ کہ وینٹی لیٹر کی ٹیوب کی مدد سے پھیپھڑوں میں جمع ہونے والا پانی باہر نکالا جا سکتا ہے۔

اس دوران ایک مخصوص کمپیوٹر اس سارے عمل کی نگرانی کرتا ہے اور مریض کی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی ترسیل میں کمی بیشی لاتا رہتا ہے۔

وینٹی لیٹر ایک مہنگی مشین ہے اور اس کی قیمت لاکھوں روپے ہے۔ حکومت نے اعلان تو کیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے بھاری تعداد میں وینٹی لیٹر منگوا رہی ہے لیکن ان حالات میں کون سا ملک ہو گا جو وینٹی لیٹر کسی اور کو دے گا؟

 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت