مذہبی اجتماعات یا کرونا وائرس کے گڑھ؟

ملائیشیا میں کرونا وائرس کے 60 فیصد سے زیادہ مریضوں کا تعلق ایک تبلیغی اجتماع سے جوڑا گیا ہے جو چھ ملکوں میں پھیل چکے ہیں۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے قریب واقع مسجد میں ہونے والے تبلیغی اجتماع سے کرونا وائرس کے مریض چھ ملکوں میں پھیل گئے (تصویر: روئٹرز)

استاد حسینی ویت نام کی ایک مسلم ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہیں۔ وہ حال ہی میں ملائیشیا میں ہونے والے ایک تبلیغی اجتماع میں گئے تھے۔

وہاں سے واپس آ کے کچھ وقت اپنے گھر گزار کے وہ ویت نام کی ایک اور مسجد میں سہ روزہ لگانے چلے گئے۔ تیسرے دن جب بخار چڑھا اور جسم میں درد شروع ہوا تو ہسپتال تشریف لے گئے۔ پتہ چلا کہ استاد حسینی صاحب کو کرونا کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔

استاد حسینی نے ویت نام کے عوام کے لیے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’مجھے معاف کر دیجیے، میری وجہ سے میرے پورے گاؤں کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ علاقے کی دو مسجدوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ مجھے معافی مل جائے گی۔‘

استاد حسینی جس تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے گئے تھے، وہاں ان کے علاوہ 16 ہزار اور مسلمان بھی تھے جن میں سے ساڑھے 14 ہزار ملائیشین اور ڈیڑھ ہزار مسلمان دوسرے ملکوں سے آئے تھے۔ ملائیشیا میں اب تک 1306 لوگوں میں کرونا پایا گیا ہے۔ ان میں سے 60 فیصد یعنی سات سو سے زیادہ لوگوں کو کرونا اسی اجتماع سے لگا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تبلیغی اجتماع میں تقریباً 30 ملکوں کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی۔ اجتماع کے دوران وہ اکٹھے برتنوں میں کھانا کھاتے رہے اور اجتماع والی مسجد اور اس کے گرد لگے خیموں میں سوتے رہے۔

تین ہفتے قبل جب یہ چار روزہ اجتماع منعقد ہوا تو کرونا وائرس چین میں تباہی پھیلانے کے بعد دنیا میں پھیل رہا تھا۔ دنیا بھر کے ممالک نے کرونا کے سدباب کے لیے حفاظتی اقدامات کرنا شروع کر دیے تھے لیکن اجتماع کے دوران سماجی دوری (سوشل ڈسٹینسنگ) کا بالکل دھیان نہیں رکھا گیا اور نہ ہی ماسک وغیرہ کا استعمال کیا گیا۔

اگرچہ کرونا کے بہت سے مریضوں کا تعلق اس تبلیغی اجتماع سے جڑ چکا ہے، لیکن پھر بھی بہت سے لوگ جنہوں نے اس اجتماع میں شرکت کی تھی، کرونا سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کرونا ورونا سے نہیں ڈرتے۔ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔

ملائیشیا کی نائب وزیر برائے خواتین و خاندانی بہبود، محترمہ سیتی ذیلہ محمد یوسف کا کہنا ہے کہ کرونا سے مرنے کا امکان ایک فیصد ہے جبکہ کسی بھی وقت مرجانے کا امکان سو فیصد ہے۔

چین کے بعد جس ملک میں کرونا وائرس نے بہت زیادہ تباہی مچائی تھی وہ جنوبی کوریا تھا۔ وہاں کرونا وائرس عیسائی مذہب کے شن چیونجی فرقے کے پیروکاروں سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔ شن چیونجی فرقے کے بانی لی مان ہی کا دعویٰ تھا کہ ان کے پیروکار کبھی کرونا وائرس سے بیمار نہیں ہو سکتے، لیکن جب لی مان ہی کے مرید بیمار پڑنا شروع ہوئے اور انہوں نے بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی بیمار کیا تو سیئول کے میئر نے لی مان ہی کے خلاف بیماری پھیلانے کا مقدمہ کر دیا کیونکہ ان کے رویے کی وجہ سے کوریا کے دارالحکومت کا طبی خرچ بے پناہ بڑھ گیا تھا۔

میئر کا کہنا تھا کہ 'لی مان ہی مذہبی پیشوا نہیں بلکہ ایک فراڈیا ہے۔ رانگ نمبر ہے۔' آخر کار لی مان ہی نے پوری کورین قوم سے معافی مانگی۔

کوریا کے بعد جس ملک میں کرونا وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیلا، وہ ہمارا ہمسایہ ملک ایران ہے۔ ایران میں کرونا کا پہلا مریض 19 فروری کو مذہبی لحاظ سے انتہائی مقدس شہر قم میں سامنے آیا، جو ایران کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ ایران اور دنیا بھر سے کم از کم دو کروڑ اہل تشیع مسلمان زیارات کے لیے قم کا سفر کرتے ہیں۔ یہ شہر شیعہ مکتبہ فکر کا سب سے بڑا علمی مرکز بھی ہے۔ ساری دنیا سے اہل تشیع مسلمان حصول علم کے لیے اس شہر کا سفر کرتے ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے ابتدائی مریضوں کا تعلق بھی ایران سے آنے والے زائرین سے ہی جوڑا جاتا ہے۔

اگرچہ کرونا کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا لیکن وائرس سے پھیلنے والی بیماریوں کے ماہرین کا اجماع ہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا بہترین طریقہ کار سماجی دوری ہے یعنی جب تک وائرس کا خطرہ ٹل نہیں جاتا، بڑے اجتماعات سے احتراز کیا جائے۔ دوسرے لوگوں سے کم از کم ایک سے تین فٹ کا فاصلہ رکھا جائے اور  بغیر کسی ٹھوس وجہ کے گھر سے نہ نکلا جائے۔

جب کوریا، ایران اور ملائیشیا کی مثالیں سامنے آئیں جہاں مذہبی اجتماع وائرس کو پھیلانے کا سبب بنے تھے تو بہت سے ممالک نے مذہبی اجتماعات اور گروہوں کی شکل میں ادا کی جانے والی عبادات پر پابندی لگا دی۔ ان میں سیکولر ممالک بھی تھے اور خالص مذہبی ممالک بھی، بشمول برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ سعودی عرب میں مساجد بند کر دی گئی ہیں اور اذانوں میں مسلمانوں کو ’آئیے نماز کی طرف‘ کی بجائے ’گھر پہ ہی نماز ادا کیجیے‘ کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں بھی وائرس کے پھیل جانے کے خطرے کے پیش نظر علمائے کرام کو ترغیب دی گئی کہ نماز گھر پہ ہی ادا کر لی جائے خصوصاً جمعے کے دن بڑے اجتماعات سے گریز کیا جائے۔

گذشتہ جمعے کو تو علمائے کرام نے حکومت کی درخواست پہ عمل نہیں کیا لیکن آئندہ جمعے کے لیے بالخصوص اور بقیہ نمازوں کے لیے بالعموم علما سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ مسلمانوں کو گھر پہ ہی نماز پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو کرونا وائرس جیسے مہلک وبائی مرض سے بچایا جا سکے۔

اسلام کی مرکزی تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ اس پر عمل کرتے ہوئے آغاز اپنی زندگی سے کیجیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ