پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران فضائی آلودگی میں کمی

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران فضائی آلودگی میں کمیکرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے یوں تو عوام کو سیکنڑوں مشکلات کا سامنا ہوا ہے مگر یہ لاک ڈاؤن فضا کے لیے ایک رحمت بن کر سامنے آیا ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے یوں تو عوام کو سیکنڑوں مشکلات کا سامنا ہوا ہے مگر یہ لاک ڈاؤن فضا کے لیے ایک رحمت بن کر سامنے آیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بیشتر عوام اپنے گھروں میں موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر گاڑیاں بھی کم ہیں، جو فضائی آلودگی پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ دہائیوں میں ہونے والے آلودگی کے باعث تباہ ہونے والی اوزون کی تہہ نے بھی خود کو بھرنا شروع کر دیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں فضائی آلودگی کی کمی ہوئی یا نہیں اور اگر ہوئی تو کتنی ہوئی، اس سوال کا جواب Earther نام تنظیم نے یورپی سیٹلائٹ ایس فائیو پی کی مدد سے دیا ہے۔ اس تنظیم نے یورپی سیٹلائٹ سے حاصل کیے گئے ڈیٹا سے فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح معلوم کی ہے۔

نائٹروجن ڈائی آکسائڈ یا NO2 عمومی طور پر گاڑیوں کے ایندھن یا بجلی کی پیداوار کے دوران فضا میں خارج ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آلودگی پھیلتی ہے۔

پاکستان بھر، اسلام آباد/راولپنڈی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں کی لاک ڈاؤن سے پہلے (3 فروری) اور لاک ڈاؤن کے دوران (30 مارچ) کی سیٹلائٹ تصاویر میں آلودگی کی کمی کو با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان

کراچی

لاہور

پشاور

کوئٹہ

اسلام آباد/راولپنڈی

دلچسپ بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران (30 مارچ) اور حالیہ (20 اپریل کی) سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تقریباً تمام شہروں میں لاک ڈاؤن کی نرمی کے باعث آلودگی دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ مگر صرف کراچی ایک ایسا شہر ہے جس میں لاک ڈاؤن کے دوران اور حالیہ دنوں میں آلودگی معمولی کم ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن کا نفاذ آہستہ آہستہ سخت ہو رہا ہے۔

پاکستان

کراچی

لاہور

پشاور

کوئٹہ

اسلام آباد/راولپنڈی

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات