کرونا سے آپ کی زندگی کیسے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے؟

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وبا سے پہلے کی زندگی کی طرف لوٹنا شاید اب مشکل ہو، کیوں کہ کرونا وبا نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے مگر آہستہ آہستہ ممالک کرونا کی وجہ سے کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کا مقصد روزمرہ کی زندگی کو معمول پر لانا ہے مگر بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وبا سے پہلے کی زندگی کی طرف لوٹنا شاید اب مشکل ہو، کیوں کہ کرونا وبا نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف بین الاقوامی یونیورسٹیز کے ماہرین سے بات کی اور ان سے پوچھا ہے کہ کرونا وائرس کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی؟

لندن کی معروف یونیورسٹی آف ویسٹ منسڑ کے شعبہ سوشل سائنسز کے سربراہ پروفیسر دبیش آنند نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث دائیں بازو کی جماعتیں جو کہ بین الاقوامی نقل و حرکت کے مخالف ہیں، وہ اپنے ایجنڈے میں کامیاب ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سفر میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

پروفیسر آنند نے بھارت میں کرونا وبا کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کے حوالے سے کہا کہ کرونا وبا سے جہاں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے تھا وہاں بھارتی حکومت نے اسے مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کے خلاف پروپیگینڈا کے لیے استعمال کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر آنند کا مزید کہنا تھا کہ اس وبا سے ایک مثبت بات یہ سامنے آئی ہے کہ اب عوام کے ہیروز جو کہ پہلے فوجی یا سیاست دان ہوتے تھے، اب ڈاکٹرز یا نرسز نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

لندن ہی کے ایک اور معروف کالج کنگز کالج لندن کی پروفیسر حمیرا اقتدار نے کہتی ہیں کہ کرونا وبا کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کے باعث معاشرے میں ’ڈیجیٹیل ڈیوائڈ‘ (ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تفریق) سامنے آئی ہے اور جن کے پاس ٹیکنالوجی کی آسائش (تیز انٹرنیٹ وغیرہ) موجود ہے وہ اپنا روزگار بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ جن کے پاس یہ آسائش نہیں تھی یا ان کا کام گھر سے نہیں ہو سکتا تھا، جیسا کہ مزدور، ان لوگوں کو اس سے شدید نقصان ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے باعث یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے لیے ماضی میں جو کوششیں کی گئی تھیں، وہ بھی واپس ہونے کا خطرہ ہے۔

سنگاپور کے معروف میڈیکل تعلیمی ادارے ڈیون NUS میڈیکل سکول میں تعینات ایوارڈ یافتہ پروفیسر تزئین جعفر نے کہا کہ یہ وبا پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ دفاع پر خرچ کرنے کی بجائے صحت پر زور دیں۔

مکمل ویڈیو: 

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا