بند یورپ دوبارہ کھلنے لگا، ایشیا میں کرونا کیسز میں اضافہ

ایک طرف یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور سپین میں بندشوں کو بتدریج نرم کرنے کے لیے حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، وہیں چینی شہر ووہان میں مسلسل دوسرے روز وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

لاکھوں کام اور معیشتیں بکھر جانے کے بعد حکومتیں تیزی سے معمول کی جانب جانے کے لیے بے تاب ہیں، لیکن زیادہ تر ممالک اس سلسلے میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے  ہیں (تصویر: اے ایف پی)

یورپ میں کرونا (کورونا) وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد سرگرمیاں بحال ہونے لگی ہیں جبکہ چین میں ہفتوں بعد کرونا کے نئے کیسز سامنے آنے کو  اس وبا کی دوسری لہر کا آغاز کہا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دنیا بھر میں اب تک کرونا سے دو لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک طرف تو یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور سپین میں بندشوں کو بتدریج نرم کرنے کے لیے حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، وہیں چینی شہر ووہان میں مسلسل دوسرے روز وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

لاکھوں کام اور معیشتیں بکھر جانے کے بعد حکومتیں تیزی سے معمول کی جانب جانے کے لیے بے تاب ہیں، لیکن زیادہ تر ممالک اس سلسلے میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ اس وائرس کے دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

یورپ میں حکومتیں کیا کر رہی ہیں؟

برطانیہ میں وزیراعظم بورس جانسن نے آنے والے مہینوں کے دوران ملک میں لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے خاتمے کے لیے 'مشروط منصوبہ' پیش کیا۔

جانسن نے کہا کہ یہ پابندیاں 'ہمارے طرز زندگی کے لیے ایک بہت بڑی لاگت' ہیں، لیکن جلد بازی کرکے کرونا کے خلاف اس جنگ میں اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ضائع کرنا 'جنون' ہوگا۔

برطانیہ میں تقریباً سات ہفتوں کے دوران 31 ہزار 800 اموات ہوچکی ہیں، جو امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یورپ کے دیگر ممالک میں حکام کے مطابق اموات کی شرح میں کمی آئی ہے، جہاں فرانس میں اتوار کو کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد کم ہوکر 70 ہوگئی ہے جبکہ سپین میں روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 200 سے کم ہے۔

پیر کو فرانس کے شہریوں کو آٹھ ہفتوں میں پہلی بار اجازت نامے کے بغیر اپنے گھروں کے باہر پیدل چلنے کی اجازت ملی، اساتذہ نے پرائمری اسکولوں میں واپسی شروع کردی جبکہ کچھ دکانیں بھی دوبارہ کھل گئیں۔

بیلجیئم اور یونان بھی پیر کے روز لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والے دیگر یورپی ممالک میں شامل تھے۔

ایشیائی ممالک کی صورت حال

اگرچہ دنیا بھر کی حکومتیں بحالی کے راستے پر گامزن ہیں تاہم ایشیائی ممالک خصوصاً چین، جو سب سے پہلے اس وائرس کا شکار ہوا تھا، اس وبا کی دوسری لہر کی زد میں ہے۔

چین میں معمولات زندگی واپس آنا شروع ہوگئے ہیں اور پیر کو شنگھائی ڈزنی لینڈ بھی تین ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا۔

کٹی نامی ایک شہری نے اے ایف پی کو بتایا: 'ہم ڈزنی لینڈ کے دوبارہ کھلنے کے منتظر ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں آج یہاں کیا فرق ہے۔'

تاہم اتوار کو چین کے شہر ووہان میں ایک شخص میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ پیر کو مزید پانچ کیسز سامنے آئے ہیں۔

مقامی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ یہ نئے کیسز شہر کے ایک ہی رہائشی کمپاؤنڈ سے سامنے آئے اور یہ زیادہ تر بوڑھے افراد تھے۔

دوسری جانب چین کے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا نے سیئول میں نائٹ کلب کے ذریعے کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آنے کے بعد بار اور نائٹ کلبوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔

اطلاعات ہیں کہ ایک 29 سالہ نوجوان نے مئی کے شروع میں ایک ہی رات میں پانچ مختلف کلبوں کا دورہ کیا، جس کے نتیجے میں اب تک کرونا وائرس کے 85 کیسز سامنے آچکے ہیں اور حکام ان افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس نوجوان سے رابطے میں آئے۔

پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی آنی شروع ہوگئی ہے جبکہ یہاں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 29 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ورلڈ و میٹر کے مطابق پاکستان دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں 20 ویں نمبر پر آگیا ہے۔

بھارت نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے اور وہاں منگل سے آہستہ آہستہ ٹرین سروس دوبارہ شروع ہوجائے گی۔

ہانگ کانگ میں اس وائرس کے خلاف کامیابی کے نتیجے میں شہر میں دوبارہ سے حکومت مخلاف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ اتوار کے روز مظاہرین نے چین سے آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے ریلیاں نکالیں۔

ریاست ہائے متحدہ میں یہ وائرس وائٹ ہاؤس کے اندرونی دائرے میں داخل ہوگیا ہے اور خبریں ہیں کہ نائب صدر مائیک پینس کے ترجمان کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

امریکہ کی متعدد ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف چھوٹے چھوٹے مظاہرے سامنے آئے ہیں، جہاں مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

لندن کے ایک میوزیم نے ایسی چیزوں کے لیے اپیل کا آغاز کیا ہے جو غیر معمولی اوقات میں برطانوی زندگیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

میوزیم کے سینیئر کیوریٹر بیٹریس بہلن نے اے ایف پی کو بتایا: 'جب ہمیں معلوم ہوا کہ لاک ڈاؤن ہونے والا ہے تو ہم نے فوراً ہی بارے میں بات کرنا شروع کردی کہ ہمیں مستقبل کے لیے کچھ جمع کرنے کی ضرورت ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'یہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی چیز جس سے آپ کو سکون ملتا ہو ، مثلاً آپ کی پسندیدہ چپل، جسے آپ ہر روز پہنتے ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا