لاک ڈاؤن فیز ٹو: بغیر علامات والے افراد سب سے بڑا چیلنج

اٹلی میں صحافی عالیہ صلاح الدین کے مطابق لاک ڈاؤن میں جب نرمی آتی ہے، تو جتنے بھی ایس او پیز بن جائیں یا پولیس تعینات ہوجائے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے باقیوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

اٹلی میں لاک ڈاؤن کے فیز ٹو کو ایک ہفتہ ہوچکا ہے، لیکن بہت سے لوگوں نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ڈاکٹرز اور سائنس دان جو لاک ڈاؤن میں نرمی کے خلاف تھے، ابھی اپنی سانسیں تھامے بیٹھے ہیں۔

اٹلی میں میقم صحافی عالیہ صلاح الدین کے مطابق: 'لاک ڈاؤن میں جب نرمی آتی ہے، تو جتنے بھی ایس او پیز بن جائیں، پولیس تعینات ہوجائے، لوگ منت سماجت کرلیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے باقیوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا: 'فیز ٹو کے آغاز پر توقع تو یہ تھی کہ لوگ بہت ہی ذمہ داری سے کام لیں گے۔ لیکن یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ یہ وہی ملک ہے جہاں تین مہینے سے کم عرصے میں 30 ہزار لوگ مر چکے ہیں۔'

بقول عالیہ: فیز ٹو کے آغاز کے چار دن بعد سامنے آنے والی اٹلی کے شہر میلان کی ایک ویڈیو کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کرونا وائرس آیا ہی نہیں تھا جبکہ میلان اس وبا سے متاثر ترین شہروں میں سے تھا اور 15 لاکھ کی آبادی میں نو ہزار کرونا وائرس کے کیسز موجود تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'جب میلان کے میئر نے یہ فوٹیج دیکھی تو انہوں نے اس کو شرمناک قرار دیا جبکہ شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ایک بم ہے، جس کے پھٹنے کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔'

سمجھا جاتا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں اٹلی میں کرونا وائرس کے کیسز اپنے عروج پر تھے، اس کے ایک مہینے بعد یعنی مئی کے پہلے ہفتے میں یہاں فیز ٹو شروع ہوا اور اس ایک مہینے کے اندر یہاں 80 ہزار نئے کیسز اور 13 ہزار مزید اموات ہوئیں۔

عالیہ کے مطابق فیز ٹو میں سب سے بڑا چیلنج وہ لوگ ہیں، جن میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں، یعنی وہ Asymptomatic  ہوتے ہیں۔ اس فیز میں سب سے بڑا خطرہ یہی لوگ ہیں کیونکہ وہ دوسروں میں گھلتے ملتے اس وائرس کو پھیلا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اٹلی میں ہونے والی بیشتر ریسرچز سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کرونا وائرس کے بہت سارے کیسز میں سے 50 فیصد وہ ہیں، جن میں اس کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔

علالیہ کے مطابق: 'اسی لیے ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ٹیسٹنگ بہت ضروری ہے، لوگوں کو آئیسولیشن میں رکھنا ضروری ہے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ ضرروی ہے یعنی ان لوگوں کا پتہ چلانا، جو کرونا کے مریض سے رابطے میں آئے۔ یہ سب نہ ہوا تو فیز ٹو، فیز تھری پر جانے کی بجائے فیز ون پر واپس چلا جائے گا۔'

 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا