ہم کسی کو ’شہید‘ یا ’مجاہد‘ کیوں نہیں لکھتے؟

لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ لازمی نہیں آپ جس مذہب، فرقے، یا مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، سبھی اس سے متفق ہوں۔

فائل فوٹو (اے ایف پی)

موت دردناک سہی لیکن اتنی ہی ناگزیر بھی ہے، اس لیے دنیا کی ساری زبانوں میں اسے بیان کرنے کے لیے متعدد اور متنوع طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اردو میں بھی درجنوں الفاظ، استعارے اور تشبیہیں ایسی ہیں جنہیں اس عمل کو بیان کرنے کے لیے برتا جاتا ہے، لیکن کسی خبر میں اس کے ذکر میں اردو کے غیر جانب دار صحافی کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو بھی ایک ایسا ہی غیر جانب دار صحافتی ادارہ ہے اور اسے بھی اسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈپینڈنٹ اردو ایک برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا اردو روپ ہے، اور یہ انڈپینڈنٹ کے غیر جانب دارانہ، متوازن اور متعدل صحافتی اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ ان میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ رنگ، نسل، قومیت، مذہب، فرقے اور صنف پر مبنی کسی بھی قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر رپورٹنگ کی جائے۔ دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ ہر خبر کے دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

پھر یہ کہ انڈپینڈنٹ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے کہ اس کی ویب سائٹ کو تقریباً ہر اس ملک میں پڑھا اور دیکھا جاتا ہے جہاں اردو بولنے والے موجود ہیں۔ ان میں پاکستان کے علاوہ بھارت، افغانستان، ایران اور دوسرے ملک شامل ہیں۔  

ان نکات کی روشنی میں ہم کسی کو ’مجاہد،‘’غازی‘ یا ’شہید‘ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کوئی بھی شخص جو دو ملکوں میں رہا ہو وہ جانتا ہے کہ ایک ملک کا مجاہد دوسرے کا دہشت گرد ہو سکتا ہے اور ایک کا دہشت گرد دوسرے ملک کا مجاہد قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے سرکاری ادارے اور میڈیا بھی اپنے فوجیوں یا جنگجوؤں کے لیے بھی مذہبی القابات استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں بھی ہلاک ہونے والے فوجیوں کو شہید کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مسیحیت میں تو شہید اور شہادت کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ 

صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور وجہ یہ ہے کہ لفظ ’شہید‘ کے مذہبی تلازمات اتنے وسیع ہیں کہ ان کا احاطہ کرنے ہمارے بس سے باہر ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر میں ہی اختلاف ہے کہ کون شہید ہے کون نہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کے لیے شہید، مجاہد یا غازی جیسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔

اسی طرح کا ایک اور لفظ ’جاں بحق‘ ہے جو پاکستانی اردو میڈیا میں بہت عام ہے۔ اس کے لفظ معنی ہیں ’جان خدا کے حوالے کرنا۔‘ اس لفظ کے مذہبی انسلاکات واضح ہیں، جو دوسرے مذاہب والوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔

اب سوال یہ ہے کہ کون سا ایسا لفظ چنا جائے جو غیر جانب دار اور نیوٹرل ہو۔ اردو میں ایک لفظ ایسا ہے جو ہر طرح کی غیر طبعی موت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے ’ہلاک۔‘ ہم نے سوچ بچار کے بعد اسی لفظ کا انتخاب کیا ہے اور اسے عمومی طور پر حادثوں، جنگوں، جھڑپوں اور قدرتی آفات میں چل بسنے والوں کے لیے برتتے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی کی موت کی خبر شائع کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر دھمکیوں، گالم گلوچ اور ڈانٹ پھٹکار کا تانتا بندھ جاتا ہے کہ ہم نے ان کے پسندیدہ افراد کو ہلاک کیوں کہا، شہید کیوں نہیں کہا؟

اسی سے منسلک مسئلہ یہ ہے کہ ہم پر یہ دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارے پسندیدہ گروپ کو شدت پسند تنظیم یا عسکریت پسند کیوں لکھا، وہ تو مجاہد ہیں۔ لیکن جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ہمارا یہ مقام نہیں کہ ہم کسی کو شہید یا مجاہد کے رتبے پر فائز کر سکیں۔ 

اسی طرح ایک اور لفظ ’مرحوم‘ ہے۔ بعض لوگ بغیر سوچے سمجھے اسے غیر مسلموں کے لیے بھی استعمال کر لیتے ہیں، حالانکہ اس کے لفظی مطلب ہے ’جس پر رحم کیا گیا۔‘ ظاہر ہے ہمارے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں جس سے ہم یہ بتا سکیں کہ کس پر رحم کیا گیا، کس پر نہیں، اس لیے یہاں بھی ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی غیر جانب دار لفظ سے کام چلا لیا جائے، مثلاً ’چل بسے،‘ ’رخصت ہو گئے،‘ ’ہمارے درمیان نہ رہے،‘ وغیرہ۔

امید ہے ہماری یہ گزارشات ہلاکت سے وابستہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کا باعث بنیں گی۔ اگر اس سلسلے میں آپ کوئی رائے یا مشورہ دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر