کرونا پر قابو افغانستان کے لیے بھی چیلنج

افغان حکومت کے کرونا پر قابو پانے کے سہہ ماہی منصوبے پر عمل درآمد ابھی بھی ایک چیلنج ہے کیونکہ اس کی عوام میں مقبولیت کم ہے۔

کابل کے ایک ہسپتال کا ایک منظر (اے ایف پی)

افغان حکومت کی جانب سے کرونا (کورونا) وائرس کی پیش قدمی روکنے کے لیے گذشتہ دنوں ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ افغان حکومت اور وزارت صحت کی طرف سے تیار کردہ اس منصوبے  سے توقع کی جا رہی ہے کہ کسی حد تک افغانستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنےمیں مدد ملے گی۔ 

ابتدائی طور پر اس منصوبے کے تحت سرکاری اور نجی سکول اور یونیورسٹیاں مزید تین ماہ کے لیے بند رہیں گی۔ البتہ نجی سکول اور یونیورسٹیاں اپنے تربیتی پروگرام آن لائن جاری رکھ سکتی ہیں۔ یہ آن لائن سہولیات تک لوگوں کی محدود رسائی اور انتہائی خراب انٹرنیٹ سروس کی وجہ سے عملی طور پر ناممکن ہے۔

اس منصوبے کے مطابق عوام کے لیے ماسک پہننا ضروری ہے۔ نیز، معاشرتی فاصلے کا مشاہدہ کرنا، 60 سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں کا گھر سے باہر نہ نکالنا، عوامی مقامات کی مسلسل صفائی کرنا، دو شفٹوں پر مبنی کام کے نظام اور صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی اس منصوبے میں شامل ہے۔

نیز اس منصوبے کے تحت ہوٹلوں، سپورٹس ہال اور تفریحی پارکوں کو بھی عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورانٹ کو صرف آرڈر لینے اور لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچانے کا نظام چلانے کا حق ہے۔ منصوبے کے تحت آئندہ تین ماہ تک پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام فعال نہیں ہوگا، اور ایک گاڑی میں تین سے زیادہ افراد کے بیٹھنے پر پابندی ہوگی۔

یہ منصوبہ جس کی نگرانی وزارت صحت، نظامت لوکل گورنمنٹ، وزارت محنت اور نجی شعبے کی جا رہی ہے۔ افغان شہریوں کو تمام معاملات کو سنجیدگی سے لینے کا مشورہ دییا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کی خلاف ورزیوں کو قبول نہیں کرے گی اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔

لیکن اس منصوبے پر عمل درآمد ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ کابل میں پولیس اتوار سے ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس منصوبے کی عوام میں قبولیت کم ہے۔ توقعات کے برعکس کابل کی سڑکیں پر بھی ٹریفک کی بھیڑ اور بڑی تعداد میں پیدل چلنے والوں کی زد میں ہیں۔

سڑکوں پر ٹریفک کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ گئی ہے۔ دوسرا لوگوں کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ سلوک بھی ایسا ہے کہ ان کے لیے ہر لمحے اس میں ملوث ہونا ممکن نہیں ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یقینا نجی نقل و حمل کا نظام ایک نیٹ ورک یا تنظیم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت سے ترقی پا چکا ہے۔ ان گاڑیوں کے ڈرائیور، زیادہ سے زیادہ رقم کمانے ککے چکر میں، سات سے کم مسافر نہیں بیٹھاتے ہیں۔ چوکیوں پر پھر ایسی گاڑیاں روکی جاتی ہیں اور لامحالہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ زبانی تکرار کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف تنازعات کا سبب بنتا ہے بلکہ اس سے زیادہ بھیڑ اور ٹریفک بنتی ہے۔ 

حکومت کے پاس صحت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری وسائل بھی نہیں ہیں۔ 

بعض سکیورٹی فورسز اہلکار بھی بدعنوان ہیں اور رقم کے بدلے اس منصوبے کو نافذ کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ نگرانی کرنے والوں، دکانداروں اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے درمیان ملی بھگت کا پتہ لگانے کے لیے نگرانی کا کوئی حقیقی نظام موجود نہیں ہے۔ 

اسی لیے منصوبہ دوبارہ ناکام ہوگیا۔ دو دن بعد شہر کی ظاہری شکل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صرف سرکاری دفاتر میں اس منصوبے کو اپنے تمام فریم ورک کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے۔

یقینا اس منصوبے میں نجی شعبے خصوصا معاشی شعبے سے متعلق ایک مخصوص نقطہ نظر کی تسلی نہیں کی گئی ہے۔ افغان حکومت اور معاشرے کی معاشی کمزوری اور نجی شعبے کے بڑے حصے کی مسلسل بندش افغانستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ 

اس وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مزید دباؤ ڈالنے سے ہی ہم کچھ حد تک پُر امید ہو سکتے ہیں کہ اس منصوبے پر عمل درآمد ہوگا۔ دوسری جانب وائرس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا