دو ہزار سالہ تاریخ میں سنا مکی سینے کے انفیکشن میں استعمال نہیں ہوئی: حکیم

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے حکیم آغا عبدالغفار کا کہنا تھا: میرے علم کے مطابق دو ہزار سال کی تاریخ میں کسی حکیم یا طبیب نے سینے کے انفیکشن کے لیے سنا مکی جڑی بوٹی کے استعمال کی تجویز نہیں دی ہوگی۔

(سوشل میڈیا)

راولپنڈی کے علاقہ نصیر آباد کی رہائشی خاتون اپنے جوان بیٹے کو کرونا (کورونا) وائرس سے متاثر ہونے کے بعد سنا مکی پودے کے پتوں کا قہوہ پلانا شروع کر دیتی ہیں۔ جس سے لڑکے کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور اس کی حالت بگڑ جاتی ہے۔

قریب واقع ہمدرد دواخانہ کے حکیم مقبول احمد شاکر سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ حکیم صاحب سنا مکی کا قہوہ فورا بند کرنے اور ڈاکٹرکے پاس جانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

حکیم مقبول احمد شاکر جو راولپنڈی میں ہمدرد دواخانہ کے انچارج ہیں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: چند ایک مرتبہ مزید یہ قہوہ لڑکے کو دیا جاتا تو شاید بہت دیر ہو جاتی۔ بہرحال اب اس کا ڈاکٹر سے علاج کروایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سائنسدان کرونا وائرس سے بچاؤ اور کووڈ۔19 کا علاج تلاش کر رہے ہیں۔ سنا مکی میں اس جرثومہ کے خلاف کوئی فائدہ موجود نہیں ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے ہندسے کو عبور کر چکی ہے۔ جبکہ دو ہزار سے زیادہ اموات بھی ریکارڈ ہو چکی ہیں۔ 

مہلک وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں ایک خوف کی فضا ہے۔ اور ایسے میں لوگ اس وائرس سے بچنے کے ہر ممکن طریقے آزما رہے ہیں۔ ایسے میں کئی دیسی نسخوں اور جڑی بوٹیوں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سوشل میڈیا خصوصا واٹس ایپ اہم کردار ادا کر رہا ہے جب کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی ایسے پیغامات اور ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ جن میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے مختلف نسخوں کے متعلق بتایا جا رہا ہے۔

ان بصری اور عکسی پیغامات کے ذریعہ لہسن، ادرک، لونگ، ہلدی، دارچینی، خوبانی، آم اور دوسری کئی جڑی بوٹیوں اور پھلوں کو کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے کارآمد قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں جو نام سب سے زیادہ گردش میں ہے۔ وہ ہے سنا مکی کا۔ جس کے پتوں کے قہوہ کے استعمال کو انسانی جسم میں کرونا وائرس کے خلاف مزاحمتی نظام کو بڑھانے کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے۔  

برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی حکیم نذیر احمد کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر خوب دھوم ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ چار سو افراد کا سنا مکی کے قہوہ کے ذریعہ کامیاب علاج کرنے کا دعوی کیا ہے۔

حکیم نذیر احمد کی ویڈیو گذشتہ ایک مہینہ میں تقریبا دو لاکھ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔

اس کے برعکس امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ اپر چیساپیک ہیلتھ میں بطور چیف آف انفیکشس ڈیزیزز فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر فہیم یونس ایک ٹویٹ میں بتاتے ہیں :کرونا وائرس سے بچاؤ یا اس کے علاج میں سنا مکی کے مفید ہونے کے کوئی واضح ثبوت نہیں ملتے۔ مگر اس کے کثرت سے استعمال کے کئی نقصانات ضرور سامنے آئے ہیں ۔

مردان کے رہائشی یاسر مختار اپنی اہلیہ کو کووڈ۔19 کی علامات ظاہر ہونے پر سنا مکی کے پتوں کا قہوہ ، انجیر، لونگ، دارچینی، کالی مرچ اور منکا دے رہے ہیں۔ اور ان کے خیال میں ان چیزوں سے افاقہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: یہ ساری چیزیں واحد حل نہیں ہیں۔ ہم اپنے مریض کو ڈاکٹر کی دوائیاں بھی دے رہے ہیں۔ جن سے میری بیوی کی حالت کافی بہتر ہوئی ہے۔

انفیکشن کنٹرول سوسائٹی آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر رفیق خانانی کا کہنا ہے کہ بعض ڈاکٹر کرونا وائرس کے انسانی جسم پر حملہ کے ابتدائی وقت میں سنا مکی کو مفید سمجھتے ہیں۔

تاہم انہوں نے سنا مکی کے بہت زیادہ استعمال کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیا۔

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل بھی کرونا وائرس سے متثر ہوئے تھے۔ صحت ہونے کے بعد ایک بیان میں انہوں نے سنا مکی کا قہوہ استعمال کرنے کا ذکر کیا تھا۔ جس پر ڈاکٹروں نے اہم حکومتی اہلکار کی طرف سے ایسے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔

مشہور حکیم آغا عبدالغفار کا کہنا تھا: میرے علم کے مطابق دو ہزار سال کی تاریخ میں کسی حکیم یا طبیب نے سینے کے انفیکشن کے لیے سنا مکی جڑی بوٹی کے استعمال کی تجویز نہیں دی ہوگی۔

حکیم مقبول احمد کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے سنا مکی کا علاج ایک بیوقوفانہ فعل ہے۔ اور لوگوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سنا مکی کی قیمت

کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں صحت لوگ بھی سنا مکی استعمال کر رہے ہیں۔  جس کا مقصد جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنا بتایا جاتا ہے۔ جو کرونا وائرس کے حملہ کی صورت میں کار آمد ثابت ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں کام کرنے والی ایک صحافی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ کئی مرتبہ سنا مکی کا قہوہ پی چکے ہیں۔ جبکہ پشاور کے ایک سینئیر صحافی نے اپنے دوستوں کو سنا مکی کے پتے بھجوانے کو کہا۔

سنا مکی کے پتے عام طور پر پنسار سٹورز پر دستیات ہوتے ہیں۔ جبکہ کئی کمپنیاں خوبصورت پیکنگز میں بھی سنا مکی کے پتے کارکیٹ میں متعارف کروا چکی ہیں۔ بعض فلاحی ادارے سنا مکی کے پتے کار خیر کے طور پر مفت بھی تقسیم کر رہے ہیں۔

چند ماہ قبل تک پاکستان میں سنا مکی کے خشک پتے تین سو روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے تھے۔

تاہم مالک میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ اور سوشل میڈیا پر سنا مکی کے اس جرثومہ کے خلاف مفید ہونے کی اطلاعات کے بعد ان پتوں کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک پنسار سٹور پر کام کرنے والے ملازم محمد شاکر نے بتایا کہ ایک آدھ مہینے سے سنا مکی کے خشک پتوں کی قیمت پندرہ سو سے دو ہزار روپے فی کلو ہو گئی ہے۔

محمد شاکر نے کہا کہ آج کل ہر دوسرا گاہک سنا مکی کا ہی پوچھتا ہے۔ اور ہمارے پاس تو سٹاک بھی ختم ہو گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے میں واقع ایک پنسار سٹور کے مالک کا کہنا تھاَ سنا مکی تو ایسے بک رہا ہے جیسے کرونا وائرس  اسے سے مر جائے گا۔ جبکہ ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں۔

ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ سنا مکی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گا۔

سنا مکی کیا ہے؟

سنا مکی ایک خودرو پودہ ہے۔ جو جھاڑی کی شکل میں ٹراپیکل علاقوں کے علاوہ معتدل موسم میں بھی اگتا ہے۔  اس کے پتوں کا رنگ زردی مائل سبز ہوتا ہے۔

سنا مکی کی چائے یا قہوہ اس کے خشک پتوں کو پانی میں ابال کر بنایا جاتا ہے۔

زمانہ قدیم سے حکیم سنا مکی کا قہوہ قبض کی دوائی کے طور پر تجویز کرتے ہیں۔

حکیم مقبول احمد کہتے ہیں: سنا مکی پیغمبر اسلام کے زمانے میں بھی استعال ہوتا تھا اور جب ایک مرتبہ آپ سے قبض کے علاج سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے سنا مکی کا نام لیا۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے شکار شخص کو سنامی مکی کا قہوہ دینے سے پیٹ کے نرم ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ جس سے مریض کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔

فوائد کے علاوہ سنا مکی پیٹ میں مروڑ، درد، متلی اور قے کی کیفیت بھی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے اس کی خوراک عمر کی مطابق ایک سے پانچ گرام تک متعین کی ہے۔ مقررہ مقدار سے زیادہ استعمال کرنے سے منفی اثرات ظاہر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت