کلاسک اردو شاعری، ٹھرک پن، ناامیدی، عاشق مزاجی اور پیڈوفیلیا

انکار نہیں ہے کہ بارہ پندرہ سال کے بچوں کو پیار محبت سے شغف ہو گا، برابر ہو گا، لیکن ایک بڑی عمر کا انسان جب ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے اس طرح کی تصویریں بیان کرے تو اسے پیڈوفیلیا کے علاوہ کیا کہیں گے؟

(انڈپینڈنٹ اردو)

ایسے بازاری شعر، ایسی گھٹیا غزلیں، استغفراللہ۔ اس بار جب ملتان گیا تو ایویں اپنے کمرے میں پڑا پرانا سامان کھول لیا۔ اس میں ایک ڈائری تھی جو نویں دسویں کے زمانے میں اپنے پاس ہوتی تھی۔ وہ جو کھولی ہے تو طبیعت کانپ کانپ گئی۔

اگر آج مجھے کوئی والد یہ ڈائری دکھائے اور کہے کہ میرا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا تو میں بلاجھجھک کہہ دوں کہ پرلے درجے کا آوارہ، خود کش طبیعت اور بازاری مزاج کا حامل سپوت ہو گا آپ کا، نیز یہ کہ نظر رکھیں اس کے لچھنوں پر، یہ مشکل ہی کسی کام میں لگتا نظر آتا ہے۔

پھر آج تک میں نے بار بار سوچا کہ میں اس قدر چپوڑا مزاج کیوں رکھتا تھا اور تھوڑا سا بہتر کیسے ہو پایا۔ لاک ڈاؤن نے ویسے بھی وہ طبیعت صاف کی ہے کہ بندہ سوچتے سوچتے کائنات کی ساری گتھیاں سلجھا لیتا ہے۔ یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔

قصہ یہ ہے کہ جسے ہم کلاسک اردو شاعری کہتے ہیں وہ ہمیں نہ صرف ناامیدی، یاسیت، مشکل پسندی، جدائی پر بضد رہنا، ٹھرک پن، زبردستی کی عاشق مزاجی سکھاتی ہے بلکہ اگر عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا مطالعہ وسیع نہیں ہوتا اور آپ وہیں اٹکے رہتے ہیں تو آپ کو کسی حد تک پیڈوفیلیا جیسے معاملات سے بھی ترغیبی تعارف کرواتی ہے۔ یہ لفظ زیادہ تکلیف دہ ہے۔

سامنے کی بات اسی پہ کر لیں پہلے۔ شہزادہ بارہ سال کا ہوا ہے۔ سحرالبیان مثنوی ہے،  میر حسن اس کے حمام میں جا کر نہانے کا حال لکھتے ہیں:

نہانے میں یوں تھی بدن کی دمک
برسنے میں بجلی کی جیسے چمک
لبوں پر جو پانی پھرا سر بہ سر
نظر آئے جیسے وہ گل برگ تر
وہ گورا بدن اور بال اس کے تر
کہے تو کہ ساون کی شام و سحر
نمی کا تھا بالوں کی عالم عجب
نہ دیکھی کوئی خوب تر اس سے شب

یہ چند شعر منتخب کیے ہیں پورے صفحے سے۔ مثنوی لمبی داستان جیسی نظم کو کہتے ہیں، فاسٹ فارورڈ کریں، اب ان کی ہیروئین آتی ہیں۔ عمر پندرہ سال ہے۔ شعر چیک کریں:

وہ کرتی وہ انگیا جواہر نگار
نیا باغ اور ابتدا کی بہار
وہ چھب تختی اور اس کی کرتی کا چاک
تڑاقے کی انگیا کسی ٹھیک ٹھاک
وہ رخسار نازک کہ ہو جائے لال
اگر اس پہ بوسے کا گزرے خیال

انکار نہیں ہے کہ بارہ پندرہ سال کے بچوں کو پیار محبت سے شغف ہو گا، برابر ہو گا، لیکن ایک بڑی عمر کا انسان جب ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے اس طرح کی تصویریں بیان کرے تو اسے پیڈوفیلیا کے علاوہ کیا کہیں گے؟

بارہ سال کا شہزادہ ہے، حمام میں نہانے گیا ہے اور آپ اس کے بدن کی دمک دکھا رہے ہیں؟ اس کے ہونٹوں پر پانی کے قطرے آپ کو سیکسی لگتے ہیں؟ بالوں کی نمی میں بھی آپ شام و سحر ڈھونڈ رہے ہیں؟ یعنی جذبات اتنے دماغ کو چڑھ چکے تھے کہ مثنوی کہتے ہوئے خیال نہیں رہا کہ اپنے معشوق کی تعریف نہیں کرنی، ایسا شہزادہ دکھانا ہے جس کو آگے پراپر شہزادی ملنے والی ہے۔ وہ کوئی آپ کی تفریح کا سامان نہیں ہے، بچہ ہے، نہانے دھونے تیار ہونے گیا ہے اور آپ لپک کے جو داخل ہوئے اس کے باتھ روم میں تو نکل ہی نہیں رہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ٹھرک پن اور پیڈوفیلیا نہیں ہے؟ ایسی ترسی ہوئی قوم!

پھر شہزادی کی نظر ایک باغ میں شہزادے پر جا پڑتی ہے لیکن اس سے پہلے 15 سال کی شہزادی کے لیے نیا باغ اور ابتدا کی بہار جیسا مصرعہ استعمال کرنے کی نوبت کیوں آئی؟ ہم ڈزنی موویز بھی دیکھتے ہیں، نوجوانوں کا عشق پیار محبت انہی کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے، یہ دنیا کی کون سی تہذیب ہے جو 15 سال کی لڑکی کا حسن بتاتے ہوئے آپ کو ابتدا کی بہار اور نئے باغ کی جھلک دکھاتی ہے؟ پھر آپ کہتے ہیں اردو زبان میں کوئی کام نہیں ہوا، جہاں یہ ہوا ہو وہاں یہی ہو سکتا ہے، پڑھنے والا ساری عمر اس گھٹیا ذہنی لذت کے چونچلوں میں گرفتار رہ جاتا ہے۔

خیر، تڑاقے کی انگیا ۔۔ کسی ٹھیک ٹھاک، اس پر کیا تبصرہ کروں۔ 15 سال کی عمر بتانے  کے بعد اس مصرعے سے بھی کوئی ایسا انسان لطف لے سکتا ہے جس کا مزاج اسی پیڈوفیلک شاعری نے بنایا ہو۔

اگلی باریکی چیک کریں، گال بوسے کے خیال سے ہی لال ہو جائے، او بھائی کدھر سے ایسے آرزو مند دماغ لاتے ہو یار؟ ایسا انسان جسے زندگی میں نہ کبھی انسانی لمس ملا ہو، نہ وہ میچور عمر کی خواتین سے واقف ہو، نہ اسے کسی کی ’مرضی‘ جاننے کا شوق ہو اور نہ اسے یہ خیال ہو کہ بارہ سے 15 سال کا بچہ ہر تہذیب میں نوبالغ سمجھا جاتا ہے، صرف وہ ان شعروں کو سراہ سکتا ہے، یا پھر وہ جس کی ابتدا و انتہا اردو شاعری ہے، اور یہ اصل مدعا ہے۔

دیکھیے یہاں ہم جنس پرستی کے رجحان والی شاعری یا شہوانی کلام کی مذمت ہرگز نہیں ہو رہی۔ وہ بالکل ایک الگ چیز ہے لیکن یاسیت، ٹھرک اور پیڈوفیلیا ایک دم الگ موضوع ہیں، ہماری قسمت اس لحاظ سے بھی خراب ہے کہ اردو والا ان میں بال برابر فرق محسوس کرتا ہے وہ بھی تب جس وقت اسے علم ہو کہ وہ کس زاویے سے شاعری پڑھ رہا ہے۔ ورنہ سب کچھ آپ دیسی گھی کی طرح ہضم کر جاتے ہیں اور ایک عمر بعد کسی جذباتی یا سوشل لاک ڈاؤن کا شکار ہو کے جب آپ اپنی سوچیں اکٹھی کرتے ہیں تو آپ کو سمجھ آتی ہے کہ چل کیا رہا ہے، ہو کیا رہا ہے۔ 

دیکھیں، ایک اور شعر لے لیں اپنے میر صاحب کا، وہ عطار کے لونڈے سے دوا لینے والا، اب اس میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ عطار کا لونڈا ہی کیوں؟ اسے آپ فارسی یا اردو شاعری کی روایت کہہ کر ریجیکٹ نہیں کر سکتے۔ جو کرنا ہے بھئی سالم عطار سے کرو یا کرواؤ، کوئی کچھ نہیں کہے گا، لیکن ایک لڑکا جو ابھی ذہنی پختگی کے مراحل تک نہیں پہنچا آپ کیسے اس کے ساتھ کسی جنسی تعلق کی مثال ہی دے کر اس پہ شعر کہہ سکتے ہیں؟ ایک جہان اس پر واہ واہ بھی کر سکتا ہے؟

آپ اچھے بھلے معزز شاعروں کو دیکھ لیں، حسینہ کے ساتھ کم سن ہونے کی شرط ضرور ہو گی۔ بھائی اپنی عمر دیکھو اپنے شوق دیکھو۔ اس زمانے میں بھی بہرحال یہ معیوب تھا کہ آپ خود سے تین گنا کم عمر کی لڑکی پہ آنکھیں گاڑ دیں اور اب تو خیر ایسے شوق کی ڈیفینیشن وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکی۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ شاعری کی باتیں ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہی رویہ شعروں سے اتر کے پڑھنے والوں کے دماغ میں بھی لینڈ کر جاتا ہے۔ ہم یاسیت کی بات کر رہے تھے، زبردستی والی عاشق مزاجی کا ذکر تھا۔ اس کو دیکھ لیں۔

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر
مل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کر

مصحفی ہیں۔ ایسے شعروں کی وجہ سے مسئلہ یہ ہو گیا ہے کہ ہم زبردستی کسی پہ عاشق ہو کے یہ فرض سمجھ لیتے ہیں کہ وہ بھی برابر کا مبتلا ہو جائے۔ اب اگر سامنے والا واقعی آپ کے ساتھ محبت میں ہے تو ترسنے ترسانے کی باتیں کبھی نہیں آئیں گی بیچ میں، وہ خود جگہ ڈھونڈ رہا ہو گا آپ کے ساتھ۔ یہ جگہ کا مسئلہ اس وقت بھی اتنا ہی شدید ہوتا تھا لیکن حل بھی اسی طرح ہوتا تھا جیسے اب ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیر، تو اگر ایسا کچھ ہوتا تو نہ صرف محبوب ان کے گلے وقت بے وقت لگتا بلکہ ان کو اس قدر یک طرفی شاعری بھی نہ کرنا پڑتی۔

ہم بھی اے جان من اتنے تو نہیں ناکارہ
کبھی کچھ کام تو ہم کو بھی تو فرمایا کر

یہ بھی اسی غزل کا ہے۔ سیدھا اگنور موڈ ہے، خاتون نہیں چاہتیں کہ ان کی شکل بھی دیکھیں اور یہ چپکو پن کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ آج تک ہماری نسلوں میں موجود ہے۔ جو آپ کو اچھا لگے وہ آپ کو نہیں مل سکتا اس وقت تک جب تک یہ معاملہ باہمی نہ ہو۔ اگر دونوں میں آئی لو یو چل سکتا ہے تو وہ اناڑی سے اناڑی بندہ بھی سمجھ جاتا ہے۔

ورنہ گھر کے باہر پھیرے مارنا، دفتر میں لائنیں کرانا سب بکواس ہے۔ یہی سستے شوق ہوتے ہیں جن سے شغل کرنے کے بعد لوگ خود کو ناکارہ سمجھتے ہوئے بندی سے پوچھتے ہیں، مجھے تم کبھی کوئی کام نہیں کہتی۔ ابے سالے، تم لگتے کون ہو جو تمہیں کام کہیں اور کیوں کہیں؟ تاکہ تم اگلی بار اور چوڑے میں آؤ؟

پھر عاشق ہو گئے، لفٹ نہیں ملی تو مایوس ہو کے مرنے پہ تل گئے۔ دیکھیں اگر محبت تھی، دونوں جانب سے تھی، اچھے برے دن دیکھ لیے، کسی وجہ سے بریک اپ ہو گیا تو سمجھ آتی ہے کہ آپ اداس ہوں، کچھ بھی کر لیں، تباہ ہو جائیں لیکن بغیر کوئی تعلق بنے ہی جدائی کی آہیں کیوں بھر رہے ہیں؟ کوئی اور محبوب کیوں نہیں ڈھونڈتے؟

میں بتا رہا ہوں یہ مزاج ہمارا اسی شاعری نے بنایا ہے۔ مطلب جس پہ دل لٹو ہو جائے چاہے اسے اغوا کر لو لیکن پانا اسے ہی ہے، یہ کیا بات ہوئی؟ تو اس نامراد عاشقی پہ تو اتنی شاعری ملے گی کہ آپ کو نارمل شعر ڈھونڈنا مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس:

میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

اب یہ شعر دیکھیں۔ لگتا ہے کہ محبوب سامنے ہے، تسلی سے دیکھا کم از کم، آنکھوں کی کیفیت کا مطالعہ کیا ہے، تو ٹھیک ہے، شعر ہضم بھی ہوتا ہے اور ٹھرک بھی نہیں لگتی۔ شاعرانہ فضا بھی ہے، شراب بھی ہے، موج مستی کرتے رہو بھائی کون چھیڑتا ہے؟

چاند نے تان لی ہے چادر ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہو گی

جون ایلیا ہیں، بالی عمریا ٹائپ کسی شرط کا ذکر نہیں، نہ زبردستی محبوب کے ذمے لگ رہے ہیں، دماغ کی زرخیزی ہے بس، جہاں تک مرضی کھینچ لیں، تو شعر چل جاتا ہے، کوئی سفلے پن کے اشارے بھی نہیں دیتا، محبوب اپنے گھر خوش آپ اپنے یہاں خوش، سوچ سوچ کے جو مرضی لسی بناتے رہیں۔

تو اس ساری بات کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ کے پاس شعر و شاعری کے نام پر صرف کلاسیکی اردو شاعر ہیں تو آپ کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو اس زمانے کی میری ڈائری میں تھا۔ شدید بازارو شعر، ایویں کسی پہ بھی عاشق ہو جانے کی شدید خواہش، خواہ مخواہ کی آہیں اور بغیر شعر کا مزاج جانے اسے قبول کر لینا۔

اس کا حل یہ ہے کہ شاعری پڑھنے کے لیے زیادہ ترجیح آج کل کے شاعروں کو دیں۔ دوسری زبانوں کی شاعری کے ترجمے پڑھیں۔ ساٹھ ستر کی دہائی کے گانوں پر غور کریں اور مفتے کے ٹھرک پن والے شعروں کی دنیا سے باہر آ جائیں۔

پس نوشت: موضوع بہت طویل تحریر کا متقاضی تھا، کالم کی تنگنائے میں بس اتنا ہی ممکن رہا۔ کوئی بھی صاحب علم اس پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں تو صلائے عام ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ