کرونا: 'این ڈی ایم اے اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کر رہی ہے'

سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ 'کسی انفرادی شخصیت کو رعایت نہیں ملنی چاہیے،کرونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا ہے۔'

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید میں پیش ہوئے اور عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ 'کرونا سے نمٹنے کے لیے قانون کا مسودہ بن گیا ہے۔' (فائل تصویر: اے ایف پی)

سپریم کورٹ میں کرونا (کورونا) وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اتھارٹی کے کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی۔ اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کیے جارہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے این ڈی این اے سے این 95 ماسک کی خریداری، این 95 ماسک کی تیاری کے لیے درآمد مشینری کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ الحفیظ کمپنی سے ادائیگی کی تفصیلات، ذرائع آمدن اور این ڈی ایم اے کی جانب سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

جمعرات کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید میں پیش ہوئے اور عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ 'کرونا سے نمٹنے کے لیے قانون کا مسودہ بن گیا ہے۔'

تاہم چیف جسٹس نے ملک میں ادویات کی فراہمی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 'معلوم نہیں این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں۔ این ڈی ایم اے باہر سے ادویات منگوا رہا ہے۔ معلوم نہیں یہ ادویات کس مقصد کے لیے منگوائی جارہی ہیں؟ جو ادویات باہر سے آ رہی ہیں۔اس کی ڈرگ ریگیولٹری اتھارٹی سے منظوری ہونی چاہیے۔'

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ادویات پبلک سیکٹر ہسپتالوں کو فراہم کی گئی ہیں؟ کیا ادویات سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی استعمال ہو رہی ہیں؟

جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 'این ڈی ایم اے کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے۔ این ڈی ایم اے ادویات منگوانے میں صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ این ڈی ایم اے کو قانونی تحفظ حاصل ہے جبکہ ادویات کی منظوری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دیتی ہے۔'

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ 'باہر سے منگوائی جانے والی ادویات کس کو دی جاتی ہیں؟' ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیے: 'ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ درآمد کی گئی ادویات جس مریض کو دی جائیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے۔ یہ دوا تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے ہے۔ اگر مریض کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کردیں گے تو اتنی دیر میں مریض دنیا سے چلا جائےگا۔ بہتر ہوتا کہ کوائف اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سرکاری ہسپتالوں کو دی جاتی۔'

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دستاویز کے مطابق الحفیظ نامی نجی کمپنی کے لیے این 95 ماسک کی تیاری کے لیے مشینری این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر منگوائی ہے تو کیا مشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی؟

جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مشینری منگوانے میں این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی جبکہ مشینری پر کسٹم یا ٹیکس نجی کمپنی نے خود جمع کروایا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'اس طرح تو یہ نجی کمپنی این 95 ماسک بنانے والی واحد کمپنی بن گئی ہے۔ کیا ایسی سہولت فراہم کرنے کے لیے این ڈی ایم اے نے کوئی اشتہار دیا؟ این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو۔'

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 'این ڈی ایم اے صرف اسی نجی کمپنی سے این 95ماسک نہیں خرید رہی اور نہ ہی ڈیوٹی میں کسی کمپنی کو فائدہ دیا گیا۔ این ڈی ایم اے نے ہنگامی حالات میں نجی کمپنیوں کو باہر سے مشینری منگوانے میں سہولت فراہم کی ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت میں موجود این ڈی ایم  اے کے حکام نے بھی عدالت کو بتایا کہ 28 کمپنیوں نے مشینری باہر سے منگوانے کے لیے اتھارٹی سے رابطہ کیا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ 28 کمپنیاں پہلے سے چل رہی تھیں تو پھر مشینری منگوانے کی ضرورت کیا تھی؟

جس پر این ڈی ایم اے حکام نے جواب دیا کہ یہ نجی کمپنیاں این 95 ماسک نہیں بنا رہی تھیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'کسی انفرادی شخصیت کو رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ اس نجی کمپنی کا مالک دو دن میں ارب پتی بن گیا ہو گا۔ معلوم نہیں باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا؟ کرونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا۔'

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ 'نجی کمپنی کو این ڈی ایم اے نے این 96 ماسک کی فیکٹریاں لگوادیں۔ باقی شعبوں کو بھی ایسی ہی سہولتیں فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے۔ بیروزگاری اسی وجہ سے ہے کہ حکومتی اداروں سے سہولت نہیں ملتی۔ حکومت ایسا کرے تو ملک میں صنعتی انقلاب آجائے گا۔ پیداوار اتنی بڑھ جائے گی کہ ڈالر بھی 165 سے 25-20 روپے کا ہو گا۔ حکومت نے اگر بزنس مینوں کو سہولت فراہم کرنی ہے تو اخبار میں اشتہار دیا جائے۔'

حکومت کی معاشی پالیسی پر سوال

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'لاتعداد گریجویٹس بےروزگار ہیں جن کو کھپانے کا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں۔ ایک لاکھ مزدور بیرون ملک سے واپس آ رہے ہیں، جسے چودہ دن کے لیے قرنطینہ کرنے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں، حکومت ان کو کہاں کھپائے گی؟'

حکومت کی معاشی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوڈ شیڈنگ کس بات کی ہو رہی ہے؟ جب دکانیں اور ادارے بند ہیں تو پھر لوڈ شیڈنگ کیسی؟ جس ملک کے لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں ملے گی، روزگار، صحت اور دیگر سہولیات نہیں ملیں گی تو وہ حکومت کی بات کیوں سنیں گے۔'

اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ 'وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ آمر ہے۔ اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ہے۔ پیٹرول، گندم اور چینی کےبحران ہیں،کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے۔'

جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مسلم ممالک میں پاکستان ایسا ملک ہے جہاں رمضان میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جبکہ دیگر ممالک میں رمضان میں اشیا کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔

اس  موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'سندھ حکومت چار ارب روپے 400 لگژری گاڑیوں کے لیے کیسے خرچ کر سکتی ہے؟ یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لیے منگوائی گئی ہیں۔ ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ 16 لاکھ ہے۔ اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چار ارب روپے کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں۔'

ساتھ ہی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان بھی ایسی گاڑیاں منگوا رہے ہیں؟

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور خیبرپختونخوا نے جواب دیا کہ کے پی اور پنجاب ایسی لگژری گاڑیاں نہیں منگوا رہے۔

دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے کہا کہ 'آکسیجن سلنڈرز کی قیمت پانچ ہزار سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔حکومت کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شہری بھی ہوں۔ قانون کی عمل داری کدھر ہے۔'

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت قانون کے اندر رہتے ہوئے سخت فیصلے کر رہی ہے۔ گندم کا بحران پیدا ہوا جس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔حکومت ایسی طاقتوں کے خلاف سرنڈر نہیں کر رہی۔

پائلٹوں کی جعلی ڈگری سے متعلق ازخود نوٹس

سماعت کے دوران صوبوں کو درپیش ٹڈی دل کے حملے کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ 'ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ہمارے تین جہاز کھڑے ہیں۔ کیا ہمارے پاس سپرے والے جہاز چلانے کے لیے پائلٹ نہیں ہے؟'

ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے: 'سنا ہے کہ سول ایوی ایشن پیسے لے کر پائلٹ کولائسنس جاری کرتی ہے، ایسے لگتا ہے جیسے پائلٹ چلتا ہوا میزائل اڑا رہے ہوں اور وہ میزائل جو کہیں بھی جاکر مرضی سے پھٹ جائے۔'

انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ 'بتایا گیا کہ 15 سال پرانے جہاز میں کوئی نقص نہیں تھا، سارا ملبہ پائلٹ اور سول ایوی ایشن پر ڈالا گیا۔ ڈی جی سول ایوی ایشن کو بلا کر پوچھنا پڑے گا کہ جعلی ڈگریوں والے پائلٹوں کے ساتھ کیا کیا گیا۔'

اس موقع پر عدالت نے پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن سے دو ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔

دوسری جانب مشینری، امپورٹ اور دیگر سامان سے متعلق تفصیلات عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سماعت تین ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان