اسلام آباد میں مندر کی منظوری دینے والا این سی ایچ آر خود غیر فعال

پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے واحد سرکاری ادارے کی تشکیل نو ایک حکم امتناعی کے نتیجے میں ایک سال سے رکی ہوئی ہے۔

ملک میں فی الحال کوئی آزاد سرکاری ادارہ فعال نہیں جو انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اور روک تھام کے لیے کار آمد اقدامات اٹھا سکے: این ایچ سی آر کے سابق چیئرمین جسٹس (ر) علی نواز چوہان۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والا واحد سرکاری ادارہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) گذشتہ ایک سال سے غیر فعال ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ایک درخواست پر حکم امتناعی کے نتیجے میں کمیشن کی تشکیل نو رکی ہوئی ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانے میں مبینہ طور پر سست روی سے کام لے رہی ہے۔

یاد رہے کہ این سی ایچ آر ہی وہ ادارہ ہے جس نے وفاقی حکومت کو اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے زمین مختص کرنے پر مجبور کیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی نے حکومت سے این سی ایچ آر کی فوری تشکیل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

این ایچ سی آر کے سابق چیئرمین جسٹس (ر) علی نواز چوہان کے مطابق اس وقت ملک میں انسانی حقوق سے متعلق کئی ایسے مسائل ہیں جن پر این سی ایچ آر زیادہ موثر انداز میں کام کر سکتا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مزید کہا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، پشاور میں مسیحی نوجوان کا قتل اور خواجہ سراؤں سے زیادتیوں کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، حتیٰ کہ کراچی میں جہاز کے کریش پر بھی کمیشن فعال کردار ادا کر سکتا تھا۔ 'ملک میں فی الحال کوئی آزاد سرکاری ادارہ فعال نہیں جو انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اور روک تھام کے لیے کار آمد اقدامات اٹھا سکے۔'

جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا تھا کہ این سی ایچ آر وہ واحد سرکاری ادارہ ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق کا آزادانہ تحفظ کرتا رہا ہے اور کر سکتا ہے۔

تاہم قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال چند مالھی کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم امتناعی کے باعث حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، جونہی مقدمے کا حتمی فیصلہ آتا ہے، وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق کمیشن کی تشکیل کا کام فوراً شروع کر دے گی۔

یاد رہے کہ این سی ایچ آر ایک آزاد سرکاری ادارہ ہے جو براہ راست پارلیمان کو جوابدہ ہے۔ اس ادارہ کے بجٹ کی منظوری اور دوسرے معاملات بھی پارلیمان کے تحت ہی چلتے ہیں۔

این سی ایچ آر غیر فعال کیوں؟

این سی ایچ آر کے چیئرمین اور سات اراکین کی مدت ملازمت گذشتہ سال مئی میں مکمل ہوئی تھی، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے کمیشن کی تشکیل نو کے لیے اشتہار کے ذریعے درخواستیں طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اخبارات میں چھپنے والے اشتہار میں کمیشن چیئرمین کے لیے عمر کی مدت 65 سال درج تھی، جسے جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ جسٹس چوہان کا موقف ہے کہ کمیشن جس قانون کے تحت تشکیل دیا جاتا ہے اس میں چیئرمین کی عمر کی حد مقرر نہیں لہٰذا حکومت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ عمر کی حد رکھے۔

انہوں نے کہا کہ حکم امتناعی تو موجود ہے، تاہم حکومت چاہے تو عدالت کے سامنے غلطی تسلیم کرتے ہوئے مقدمہ ختم کروا سکتی ہے۔ 'حقیقت یہ ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی آزاد ادارہ انسانی حقوق کی پامالی پر نظر رکھنے کے لیے موجود ہو، وفاقی حکومت عدالت کے حکم امتناعی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔'

اسلام آباد سے کمیشن کے سابق رکن چوہدری شفیق نے سوال اٹھایا کہ حکومت کب چاہے گی کہ اس کے اپنے اداروں پر کوئی چیک رکھے۔ ان کے خیال میں این ایچ سی آر کی وجہ سے وفاقی وزارت انسانی حقوق کو ماضی میں کئی مرتبہ سبکی اٹھانا پڑی، اسی لیے وہ نہیں چاہتی کہ کمیشن بحال ہو۔

پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے حقوق سے متعلق سرگرم  ادارے فریڈم نیٹ ورک نے بھی کمیشن کی جلد از جلد تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ غیر فعال کمیشن پاکستانی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے، جو اسے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہیں۔

این سی ایچ آر کی تشکیل کیسے؟

این ایچ سی آر کے چیئرمین اور سات اراکین کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت درخواستیں طلب کرتی ہے، جن کو کابینہ کی ذیلی کمیٹی میں شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے۔ چیئرمین اور ہر سات اراکین کے مخالف تین، تین نام تجویز کیے جاتے ہیں، جو قومی اسمبلی میں حذب اختلاف کے رہنما کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کی منظوری کے بعد یہ نام ایک پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیے جاتے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد وفاقی حکومت کامیاب افراد کو این ایچ سی آر کے چیئرمین اور اراکین کی حیثیت سے تعینات کرتی ہے اور یوں کمیشن آئندہ چار سال کے لیے تشکیل پا جاتا ہے۔ کسی بھی سطح پر اعتراض کی صورت میں سارا عمل دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔

این سی ایچ آر کیا کرتا ہے؟

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ 2012 کے تحت بننے والے این سی ایچ آر کے مینڈیٹ میں پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی معاہدوں میں شامل انسانی حقوق کا فروغ، تحفظ اور تکمیل شامل ہیں۔

این ایچ سی آر کی ذمہ داریوں میں انسانی حقوق کی پامالی کی درخواست پر یا از خود نوٹس لے کر تحقیقات، کارروائی اور ازالہ کرنا، انسانی حقوق کے اصولوں کے سلسلے میں موجودہ اور مجوزہ قانون سازی کا جائزہ لینا، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق پالیسی امور پر تحقیق اور مشورے جاری کرنا، انسانی حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، انسانی حقوق کے نفاذ اور نگرانی کے بارے میں جائزہ لینا اور رپورٹ کرنا، تکنیکی سفارشات دینا اور بین الاقوامی معاہدات کے نفاذ پر عمل کرنا اور انسانی حقوق کے فروغ ، تحفظ اور تکمیل کے لیے عملی اقدامات کا قومی منصوبہ تیار کرنا شامل ہیں۔

این ایچ سی آر کی کامیابیاں

جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے کہا کہ این ایچ سی آر کئی بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی کی نمائندگی کر چکا ہے اور اسے بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ جیسا کہ اوپر کی سطور میں بیان کیا گیا کہ این ایچ سی آر نے اسلام آباد میں پہلے مندر کی تعمیر کے لیے زمین کی الاٹمنٹ ممکن بنائی۔

اسی طرح این ایچ سی آر زبردستی گمشدگیوں، دیہی خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل، قصور کے واقعات اور جبری مشقت کے خاتمے کے موضوعات پر کئی رپورٹس شائع کر چکا ہے۔

جسٹس (ر) چوہان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اداروں میں این ایچ سی آر کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ 'انسانی حقوق سے متعلق سرکاری بیانیہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے واقعات کو مخمل میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔'

انہوں نے کہا کہ این ایچ سی آر تمام حقائق من و عن اپنی اسی صورت میں دنیا کو دکھاتی رہی ہے، جس کے باعث کمیشن کی عزت اور تکریم میں اضافہ ہوا۔ 'این ایچ سی آر کا غیر فعال ہونا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان