برطانیہ میں لاک ڈاؤن: پاکستانیوں کو کیا مشکلات پیش آئیں؟

برطانیہ میں مقم غیر سفید فام لوگوں پر، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں،  کرونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ دباؤ پڑا ہے،  نہ صرف معاشی بلکہ بیماری کے لحاظ سے بھی۔

کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے برطانیہ میں 23 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اور اس ماہ کی چار تاریخ کو برطانوی حکومت کی جانب سے کچھ دکانوں اور ریسٹورنٹس کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس دوران جہاں کچھ لوگوں نے نئے مشاغل اپنائے، وہیں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اپنے اس وی لاگ میں سعدیہ گردیزی نے ایسے ہی چند پاکستانیوں سے بات کرکے لاک ڈاؤن کے دوران ان کی مشکلات جاننے کی کوشش کی ہے۔

لندن میں مقیم اکاؤنٹنٹ نازیہ عابدی نے بتایا کہ انہیں لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً فل ٹائم جاب کے ساتھ بچوں کی تعلیم کے سلسلے کو بھی گھر پر جاری رکھنا اور اس میں معیار کو بھی برقرا رکھنا خاصا مشکل تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے والدین پاکستان میں ہیں اور وہ ہائی رسک مریض ہیں، 'یہ ڈر تھا کہ خدانخواستہ انہیں کچھ ہوجائے تو مجھے ان سے ملنے کا موقع بھی نہیں ملے گا، یہ میرے لیے بہت ذہنی دباؤ کا سبب تھا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بکنگھم میں زیر تعلیم طالب علم عمر جاوید نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران گریجویٹ کرنے والے طلبہ کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں لوگوں کو نوکریوں سے نکال رہی ہیں تو ایسے میں نئی نوکریوں کا ملنا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔

عمر کا مزید کہنا تھا کہ 1992 کے بعد سے جاب مارکیٹ میں اتنا بڑا زوال کبھی نہیں آیا۔

سعدیہ کے مطابق برطانیہ میں مقم غیر سفید فام لوگوں پر، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں،  کرونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ دباؤ پڑا ہے،  نہ صرف معاشی بلکہ بیماری کے لحاظ سے بھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'زندگی معمول پر واپس تو آرہی ہے لیکن شاید کچھ حد تک ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا