نئے نیب قوانین میں ’نیا‘ کیا ہے؟

حکومت نے پارلیمان میں نیب قوانین میں ترمیم کا بل پیش کیا ہے۔ اس بل میں کیا چیز نئی ہے اور کیا ہے جو جوں کا توں ہے؟

بل کے مسودے کے مطابق نیب قوانین میں مجوزہ ترمیمات کی نوعیت تقریباً وہی ہے جو ترامیم اس سے قبل ’نیب ترمیمی آرڈیننس 2019‘ کے ذریعے کی گئی تھیں۔(تصویر: وکی پیڈیا)

حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کے لیے ’نیب ترمیمی بل 2020‘ اسمبلی میں پیش کیا ہے۔

بل کے مسودے کے مطابق نیب قوانین میں مجوزہ ترمیمات کی نوعیت تقریباً وہی ہے جو ترامیم اس سے قبل ’نیب ترمیمی آرڈیننس 2019‘ کے ذریعے کی گئی تھیں۔ مجوزہ ترامیم کی رو سے نیب قوانین کا اطلاق کاروباری طبقے، سرکاری افسران کی جانب سے نیک نیتی پر مبنی اقدامات اور ضابطہ کار کی خلاف ورزیوں اور وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات پر نہیں ہو گا۔

قبل ازیں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم دفعہ 9(اے) (6) کی تعریف بدل کر اس جرم کا ثابت کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا تھا، حالیہ مجوزہ بل میں اس سقم کو دور کیا گیا ہے اور ’اختیارات کے ناجائز استعمال‘ کو ثابت کرنے کے لیے ’اثاثوں میں آمدن سے زائد اضافے کو ثابت‘ کرنے کی اضافی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

یہ ایک بہتر اقدام ہے، بصورت دیگر دفعات 9(اے)(6) اور 9 (اے)(5) میں فرق ہی ختم ہو جاتا اور ناجائز اختیارات کے استعمال کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے پہلے ’آمدن سے زائد اثاثوں‘ کا جرم ثابت کرنا پڑتا، حالانکہ دونوں جرائم کی نوعیت الگ ہے۔

تاہم مجوزہ بل کے مطابق نیب کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے اس امر کے مضبوط شواہد پیش کرنا ہوں گے کہ آیا ملزم نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے خود یا کسی دیگر فرد یا بےنامی دار وغیرہ کے ذریعے ’مالی فوائد‘ حاصل کیے۔

قانون میں اس وضاحت کے اضافہ سے نیب قوانین میں موجود ابہام دور ہو جائے گا اور نیب کے لیے لازم ہو گا کہ محض ضابطہ کار کی بے ضابطگی کی بنیاد پر سرکاری افسران پر مقدمہ بنانے کے بجائے ان پر مالی فوائد کے حصول کے جرم کو ثابت کرے۔ اس مجوزہ ترمیم سے نیب کے بہت سے غیر ضروری مقدمات ختم ہونے کا امکان ہے۔

لیکن ان مجوزہ ترامیم کا سب سے مہلک اور خطرناک پہلو دفعات چھ، سات اور آٹھ میں ترامیم ہیں، جن کے مطابق چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کے عہدوں پر اگلی مدت کے لیے ’توسیع پر پابندی‘ کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نیب قوانین کے مطابق چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کے عہدوں کی مقررہ معیاد بالترتیب چار سال اور تین سال متعین ہے، جس میں توسیع ممکن نہیں۔

حالیہ حکومتی مجوزہ ترمیمی بل کے ذریعے قانون کی ان متعلقہ شقوں سے ’ناقابل توسیع‘ کے الفاظ حذف کر کے اس مدت ملازمت کو توسیع دینے کے اختیار کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ اقدام احتساب قانون کی منشا کے خلاف ہو گا جس سے ان عہدوں پر تعینات اشخاص کی غیر جانبداری متاثر ہو گی اور ان عہدوں پر براجمان افراد مدت ملازمت میں توسیع کی فطری خواہش کی بنیاد پر اپنے فرائض منصبی کو آزادنہ انداز میں سرانجام دینے سے قاصر رہیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا بھر میں ریگولیٹری اتھارٹی تین بنیادی اصولوں یعنی خودمختاری، غیر جانبداری اور شفافیت کے حصول کے لیے بنائی جاتی ہیں، لیکن اس شق کے اضافے سے نیب کی پہلے سے گرتی ساکھ مزید متاثر ہو گی اور ان عہدوں پر براجمان افراد پر ذاتی مفاد اور حکومتی اثر و دباؤ کے تاثر کو مزید تقویت ملے گی۔ اس سے نیب کے پہلے سے ڈگمگاتے وجود کو مزید دھچکہ لگے گا۔

حکومتی مجوزہ ترامیم اس اعتبار سے مکمل مایوس کن ہیں کہ اس بل میں ان پہلوؤں پر قطعاً کوئی قانون سازی کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جو دراصل نیب کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں۔ سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلے میں نیب کے احتسابی عمل کو غیر شفاف اور جانبدار قرار دیا۔ نیب کو سیاسی وابستگیاں بدلنے اور اسے سیاسی جماعتوں میں اکھاڑ پچھاڑ کے لیے آلہ کار بننے کی مذمت کی اور چیئرمین نیب کے گرفتاری کے اختیارات پر سخت گرفت کی۔

اس سے پہلے ایک مقدمے میں نیب کے رضاکارانہ واپسی کے اختیارات پر قدغن لگائی اور پلی بارگین کے اختیارات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اسی طرح بہت سے مقدمات میں نیب قوانین میں ضمانت کا اختیار نہ ہونے پر قانون سازی کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ گرفتاری کے لا محدود اختیارات اور پھر ضمانت کا مناسب قانون نہ ہونے کے باعث اس عمل کو انسانی حقوق کے منافی اور انسانی شرف و عظمت کے خلاف قرار دیا گیا۔

اسی طرح بہت سے مقدمات میں اعلیٰ عدلیہ نے نیب کے اس اختیار پر بھی سوال اٹھائے کہ نیب کس قسم اور کتنی مالیت کے کیسوں کی تحقیقات کر سکتا ہے اور اس حوالے سے واضح ہدایات بھی دیں کہ نیب صرف میگا کرپشن کے مقدمات کی چھان بین کے لیے بنایا گیا ہے۔

اسی طرح نیب کی تحقیق و تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے اور مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قابل عمل طریقہ کار وضع کرنے پر بھی تحفظات کا وقتاً فوقتاً اظہار موجود ہے، لیکن حیرت ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی ان واضح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان میں سے کسی سقم کو دور کرنے کی کوئی تجویز نہیں پیش کی گئی اور یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ غیر قانونی گرفتاریوں اور یک طرفہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

مجوزہ ترامیم سے کاروباری طبقہ اور سرکاری ملازمین تو مستفید ہوں گے لیکن سیاست دانوں پر احتساب کا شکنجہ اسی طرح کسا رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر