تین لاشوں کا معمہ: دروازہ اندر سے بند تھا تو قتل کس نے کیے؟

پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ایک فلیٹ سے برآمد ہونے والی تین لاشوں سے جڑے اس معمے نے پولیس کو الجھا دیا ہے۔

(فائل فوٹو)

پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں پیر کو ڈینز کمپلیکس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہونے والی تین لاشوں سے جڑا معمہ تاحال حل طلب ہے۔

پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا تو تینوں کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ تفصیلات کے مطابق دو کمروں پر مشتمل فلیٹ کے اندر تینوں لاشیں مختلف حصوں سے ملیں۔  

کیس کی تفتیش کرنے والے ایس پی کنٹونمنٹ سرکل پشاور حسن جہانگیر وٹو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ فلیٹ کمپلیکس کی چوتھی منزل پر ہے، واقعے کی اطلاع پولیس کو اس وقت ملی جب لوگوں کو فلیٹ کے دروازے کے نیچے سے خون دکھائی دیا اور اندر سے بدبو آ رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی تو فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا جسے توڑ کر جب اندر داخل ہوئے تو ایک لاش بالکل دروزے کے قریب پڑی تھی۔

'فلیٹ کے اندر ایک لاؤنج اور دو بیڈ رومز تھے۔ ایک لاش دروزے کے ساتھ ، دوسری ایک کمرے اور تیسری دوسرے بیڈ روم کے قریب پڑی تھی، تینوں لاشیں بری حالت میں تھیں، ایسا لگ رہا تھا کہ لاشیں دو تین دن سے پڑی تھیں۔ دروازے والی لاش کو دو گولیاں، بیڈ روم کے ساتھ پڑی لاش کو سر پر دو گولیاں جبکہ تیسری لاش کو بھی گولیاں ماری گئی تھیں۔'

تینوں لاشیں کس کی ہیں؟

ایس پی حسن جہانگیر نے بتایا کہ مرنے والوں میں سے ایک نوید سومرو کا تعلق سندھ کے خیر پور ضلعے سے ہے، دوسرے شخص کا نام ضیا الدین تھا، جن کا تعلق قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل سے تھا۔ ان کی طورخم بازار میں جوس کی دکان تھی اور وہ ایک مسجد میں پیش امام بھی تھے، تیسرے شخص کی شناخت ابھی نہیں ہوئی۔ تاہم ان کے قریب ملنے والے پاسپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ شاید وہ نوید کے بھائی تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ نوید لکڑی کا کاروبار کرتے تھے اور وہ افغانستان اور ایران بھی لکڑی سپلائی کرتے تھے، جبکہ ضیاالدین کے رشتہ داروں نے پولیس کو بتایا کہ نوید اور ضیاالدین دوست تھے۔

ایس پی حسن جہانگیر سے جب پوچھا گیا کہ اگرفلیٹ اندر سے لاک تھا تو قاتل کون ہو سکتا ہے؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ یہ ابھی واضح نہیں، تاہم پولیس کو شک ہے کہ فلیٹ کے اندر موجود افراد کے درمیان آپس میں ہی کچھ تنازع ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ فلیٹ میں ملنے والا پستول نوید کے قریب پڑا تھا اور وہاں سے گولیوں کے خول بھی برآمد ہوئے، مزید اسلحے سمیت فلیٹ سے تھوڑی مقدار میں چرس اور شراب بھی برآمد ہوئی۔

حسن نے بتایا کہ پولیس نے کیس کی تفتیش کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جن میں ایک ٹیم سیلولر فورنزک، دوسری ٹیم دیگر معلومات کو دیکھ رہی ہےاور تیسری ٹیم اسلحے کے فورنزک پر کام رہی ہے۔ 'ہم سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھ رہے ہیں تاکہ معلوم کر سکیں کہ فلیٹ سے کوئی شخص باہر تو نہیں گیا، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان