کراچی کی بارش اور گرینڈ پارلیمانی کمیٹی

پچھلے دنوں قومی اسمبلی کے سپیکر نے گرینڈ پارلیمانی کمیٹی قائم کی جس نے صرف ایک ہفتہ میں ثابت کر دیا کہ یہ کام کی نہیں۔

(اے ایف پی)

آپ سب کو عید الاضحی مبارک۔ میں دعا گو ہوں کے اللہ آپ کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور آپ کا ہر وبا سے محفوظ رکھے۔

ایک بوسیدہ نظام کی اہم نشانی یہ ہے کہ اس میں کوئی ادارہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سب ایک دوسرے کو قصوروار قرار دیتے ہیں۔ تعمیر اور ترقی کی طرف پہلا قدم ہی یہ ہوتا ہے کہ سب اپنا اپنا قصور مانیں اور اصلاح کے لیے تیار ہوں۔

یہ تحریر آہ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

پچھلے دنوں کراچی میں معمولی بارش کے بعد جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ اسی ناکام اور بوسیدہ نظام کی طرف اشارہ کر رہے تھے جس کی نشاندہی ہم پچھلے ڈیڑھ سال سے کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے تمام لوگ شہر کی سیلاب زدہ سڑکیں دکھاتے رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے لوگ کچھ خشک سڑکوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر پھیلانے میں مصروف رہے۔ مگر عوام ان دونوں سے نہ صرف مایوس ہو چکے ہیں بلکہ انہیں مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں۔

تحریک انصاف کی نہ صرف مرکز میں حکومت ہے بلکہ کراچی شہر سے انہیں 14 قومی اسمبلی کی اور 21 صوبائی اسمبلی کی نشستیں دی گئیں۔ مگر اتنی بڑی تعداد میں کراچی کی سیٹیں لینے کے باوجود بھی ان کی حکومت نے اس شہر کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ ان کی مرکزی حکومت اور صوبائی اتحادی ایم کیو ایم وسائل اور اختیار کے باوجود شہر کے مسائل سے لاتعلق رہیں۔ جب بارش ہوئی تو اس پارٹی کے تمام ممبران کی یہی کوشش تھی کے سارا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈالا جائے۔

پیپلز پارٹی پچھلے 12 سال سے سندھ کی حاکم جماعت ہے مگر کراچی کو نہ انہوں نے کبھی اپنا شہر سمجھا اور نہ ایسا لگتا ہے اسے اپنانے کا ارادہ ہے۔ متحدہ کے ظہور سے پہلے اس شہر کی زیادہ تر سیٹیں یہی پارٹی جیتتی تھی مگر اب پچھلے 32 سال سے انہوں نے اس شہر کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

تحریک انصاف کو نہ صرف کراچی سے نشستیں ملیں مگر جو بقایا سیٹیں ہیں وہ ان کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے جیتی اور میئر بھی اسی جماعت کا ہے۔ مگر شہر کے مسائل کا حل کرنے کی بجائے ان کا یہی رونا ہے کے انہیں کام کرنے کے لیے وسائل اور اختیار نہیں ملتے۔ اگر ایسا ہے تو کیا کسی نے ان کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر کہا ہے کہ اس شہر کے میئر بنیں۔ اگر نہیں کر سکتے تو چھوڑ دیں۔ مگر عہدے چھوڑنا انہیں گوارا نہیں ہے اور عوام جائیں بھاڑ میں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاسی جماعتوں کی نااہلی سے تو ہم سب واقف ہیں مگر اسی شہر میں کراچی میونسپل کارپوریشن بھی ہے اور واٹر بورڈ بھی جس میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلعی کمشنر اور ان کا عملہ اس کے علاوہ ہے۔ ان تمام ریاستی اداروں نے فیصلہ کر لیا ہے کے سرکاری نوکری صرف تنخواہ لینے کے لیے ہوتی ہے اس میں کام کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے اور نہ کوئی پوچھنے والا ہے۔

اس کے علاوہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک ادارہ این ڈی ایم اے بھی ہے جس کا کام اس طرح کی قدرتی آفات میں عوام کی مدد کرنا ہے مگر وہ بھی بس لوگوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے علاوہ اور کسی کام کا نہیں ہے۔

پریس کانفرنس سنو تو ایسا لگتا کے اس سے اچھی پلاننگ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی مگر کام صفر۔ پی آئی اے، سی اے اے اور دوسرے سرکاری اداروں کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ سارے ریاستی ادارے بس کاغذی حد تک ہی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آپ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور ریاستی ادارے سب انحطاط اور تنزل کا شکار ہیں۔ پچھلے دنوں قومی اسمبلی کے سپیکر نے گرینڈ پارلیمانی کمیٹی قائم کی جس کی سربراہی شاہ محمود قریشی کے ذمہ لگائی گئی۔ ہم نے اس کمیٹی کا قومی سیاسی مذاکرات کے نعم البدل کے طور پر قبول نہیں کیا اور یہ بھی کہا کے یہ کمیٹی ناکام رہے گی۔ صرف ایک ہفتہ میں ہی انہوں نے ہمیں درست قرار دیا اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف رہے۔

 میں دو سال میں بار بار آپ کو شواہد کے ساتھ یہ دکھا چکا ہوں کے اب قومی سیاسی مذاکرات شروع ہونے چاہیے ورنہ خدا نخواستہ نہ یہ ریاست رہے گی اور نہ یہ ملک۔ ہمارے دشمن بھی اس بات سے آگاہ ہیں کے اس بوسیدہ عمارت کو ایک دھکا دے کر گرایا جا سکتا ہے۔ کئی لاکھ فوج بھی دفاع نہیں کر سکتی جب اندرونی نظام ناکارہ ہو چکا ہو۔ ہوش کے ناخن لیں اور فوری نئے  نظام کی تعمیر کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ