’کھربوں کی سرمایہ کاری لایا،20 کروڑ کےنالے کی تعمیر پر کیس بنا دیا‘

لاہور کی احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ضمنی ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر  فرد جرم عائد کردیا ہے۔

کیس میں نامزد ملزم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنے وکیل امجد پرویز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے (اے ایف پی)

لاہور کی احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ضمنی ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر  فرد جرم عائد کر دی ہے اور27 اگست کو ریفرنس پر باقاعدہ سماعت کے لیے گواہوں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

احتساب عدالت لاہورکے جج امجد نذیر چوھدری نے جمعرات کو رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت کی۔

کیس میں نامزد ملزم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنے وکیل امجد پرویز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت کے سامنے ملزمان کے وکلا اور نیب پراسیکیوٹر نے کچھ دیر دلائل دیے جس کے بعد فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مکمل کی گئی۔

عدالتی کارروائی

سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکلا نے فرد جرم عائد کیے جانے کی کارروائی روکنے کے لیے دلائل دینے کی استدعا کی جو عدالت نے منظور کر لی۔ لیکن شہباز شریف کے مشورے سے ان کے وکیل امجد پرویز نے بعد میں کہا کہ صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہوا ہے اور شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر اجلاس میں شریک ہونا ہے۔

جج امجد نذیر چوھدری نے استفسار کیا کہ ملزم حمزہ شہباز کہاں ہے؟ عدالت میں موجود جیل افسر نے بتایا کہ ملزم حمزہ شہباز کے وارنٹ جیل سے آ گئے ہیں ملزم راستے میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے قرار دیا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد شہباز شریف دستخط کر کے چلے جائیں اور ملزم کے وکیل بعد میں بحث کر لیں۔ اسی دوران شہابز شریف بولے ’میری کمر میں درد ہے زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا، عدالت میں کرسی پر بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھی اسلام آباد روانہ ہونا تھا اس کے باوجود میں عدالتی حکم کی تعمیل میں پیش ہو گیا ہوں۔‘

اس کے جواب میں جج نے کہا کہ ’آپ کے وکیل صاحب کہہ رہے ہیں کہ فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی سے قبل وہ بحث کرنا چاہتے ہیں۔ فرد جرم تو پہلے بھی دیگر ملزمان پر لگ چکی ہے اب ضمنی ریفرنس آیا ہے۔‘

اس دوران عدالت کی اجازت سے شہباز شریف کرسی پر بیٹھ گئے اور حمزہ شہباز کو بھی عدالت پیش کر دیا گیا۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف پر رمضان شوگر ملز کے لیے جو گندا نالہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا وہ بے بنیاد ہے۔ لہذا اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی بلاجواز اور بے بنیاد ہے۔

فاضل جج نے پوچھا ’آپ نے پہلے ریفرنس میں عائد فرد جرم پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا تو اب کیسے کہہ رہے ہیں کہ فرد جرم کی کارروائی بے بنیاد ہے؟‘

امجد پرویز نے درخواست کی کہ اگر فرد جرم عائد کرنا لازم ہے تو فرد جرم عائد ہونے کے بعد شہباز شریف کی بریت کی درخواست دائر کرنے کا قانونی حق ختم نہیں ہونا چاہیے۔ وکیل صفائی کے مطابق اس پراجیکٹ کی منظوری صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی نے دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ شہباز کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ایک بھی بیان صفحہ مثل پر موجود نہیں ہے جب کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا پہلے: ’آپ کہہ رہے تھے شہباز شریف نے جانا ہے، انہیں جلدی ہے۔ آج یہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہے میری طرف سے 10 گھنٹے دلائل دیں میں سننے کو تیار ہوں۔ چھ سات ماہ سے کیس چل رہا آج فرد جرم عائد کر دیتے ہیں۔‘

عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل محمد اورنگزیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’آپ کیس کے 80 فیصد دلائل تو دے چکے ہیں۔‘ وکیل نے کہا: ’جناب میری تیاری نہیں ہے ایک موقع دے دیں۔‘جس کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ آج فرد جرم عائد کرنے کے بعد ملزموں کا کوئی قانونی حق متاثر نہیں ہو گا۔

عدالت کی اجازت سے نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا: ’حمزہ شہباز رمضان شوگر ملز کے سی ای او ہیں۔ ملزم نے ایم پی اے مولانا رحمت اللہ سے درخواست دلوا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ رمضان شوگر ملز کے لیے تحصیل بھوانہ کے قریب 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر نالہ تعمیر کیا گیا۔ حکومتی محکموں نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی خوشنودی کے لیے مقامی آبادیوں کے فنڈز رمضان شوگر ملز کے لیے استعمال کیے۔ قانون عوامی نمائندوں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، تجاوز کی نہیں۔‘ 

پراسکیوٹر نیب کے مطابق حمزہ شہباز نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اس کا فائدہ ملزم نے حاصل کیا۔

ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ انکوائری میں شامل باقی ملزموں کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ نیب واضح طور پر عدالت کو بتائے کہ انکوائری میں شامل دیگر افراد کہاں ہیں؟

نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب آرڈیننس کے تحت باقی ملزموں کی عدم موجودگی یا مقدمے میں شامل نہ ہونے کی صورت میں فرد جرم کی کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔

عدالت کے سامنے شہباز شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا: ’میں گنہگار انسان ہوں مگر عوام کی خدمت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ پنجاب کی عوام کی 10 سال خدمت کی۔ پراسکیوشن جو چاہے بولیں مگر ان کو پتہ ہے حقیقت کیا ہے۔ پنجاب کے عوام کی خدمت کے لیے سرکاری دورے کیے مگر کرورڑوں روپے کے ٹی اے ڈی اے چھوڑے ہیں جو میرا قانونی حق تھا۔‘

شہباز شریف کے مطابق: ’میں نے اپنی گاڑی کے لیے بھی پیٹرول کبھی نہیں لیا۔ عوامی خوشحالی اور ترقی کے لیے اربوں نہیں کھربوں روپے کے منصوبے شروع کیے۔ کھربوں روپے کی سرمایہ کاری لے کر آیا۔ میں نے ٹیم کے ساتھ مل کر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کروائی۔ آج یہاں احد چیمہ بیٹھے ہیں فواد حسن بیٹھے ہیں اورنج لائن ٹرین میں 100 ارب روپے بچائے، میں آپ کو کیا کیا مثالیں بتاؤں؟ اس گندے نالے کی قیمت 20 کروڑ روپے ہے جس کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے۔‘

شہباز شریف نے کہا ایک طرف میں ٹی اے ڈی اے نہ لوں اور گندے نالے کی رقم میں جھک ماروں گا؟ 

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیشی کے مدنظر احتساب عدالت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ احتساب عدالت کے اندر اور باہر پولیس کی نفری بھی تعینات سیکریٹریٹ چوک سے ایم اے او کالج چوک تک کنٹینرز اور خار دار تاریں لگا کر راستے بند کر دیے گئے تھے اس کے باوجود ن لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر اپنے قائدین کا استقبال کرنے کے لیے موجود رہی اور ان کی گاڑیوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان