نتن یاہو معاہدے کی ’حمایت‘ پر بحرین اور مصر کے شکر گزار

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے  متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کی ’حمایت‘ کرنے پر مصر، سلطنت عمان اور بحرین کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ جمعرات کو طے پایا تھا (اے ایف پی)

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے  متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کی ’حمایت‘ کرنے پر مصر، سلطنت عمان اور بحرین کا شکریہ ادا کیا ہے۔

نتن یاہو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں مصری صدر السیسی، بحرین اور عمان کی حکومتوں کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی تاریخی امن معاہدے کی حمایت کی جو کے خطے میں امن کے دائرے کو پھیلانے اور بہتری کے لیے مثبت قدم ہو گا۔‘

اس سے قبل بھی اسرائیل کے خطے میں دو عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدے ہو چکے ہیں جن میں مصر کے ساتھ 1979 اور اردن کے ساتھ 1994 میں ہونے والا معاہدہ شامل ہے۔

امریکی انتطامیہ نے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق اسرائیل اور خلیج کی عرب ریاستوں میں تعلقات معمول پر لانے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین یا عمان اور سوڈان اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والے اگلے ممالک ہو سکتے ہیں۔

فروری میں یوگینڈا کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے سوڈان کے حکمران فتح البرہان سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ’تعلقات معمول پر لانے اور تعاون شروع کرنے پراتفاق کیا ہے۔‘

دنیا کیا کہتی ہے؟

دنیا بھر کے کئی ممالک نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے  پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے جب کہ بعض نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں دونوں ملکوں کو امریکہ کے دو عظیم دوست اور ان کے درمیان معاہدے کو بڑی پیشرفت اور تاریخی امن معاہدہ قرار دیا ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہر کوئی کہتا تھا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے لیکن ایسا ہو گیا۔ 49 سال بعد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات اپنے سفارتی تعلقات معمول پر لے آئیں گے۔‘

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کو ’خوش آئند، دلیرانہ اور سیاسی فہم و فراست کا لازمی پورا کیا جانا والا تقاضہ‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی قیادت، ایران، ترکی اور یمن کے حوثی باغی اس اسرائیل امارات معاہدے پر سخت ناراض ہیں۔

فلسطینی رہنماؤں نے معاہدے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ فلسطین نے متحدہ عرب امارات سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے معاہدے کو فلسطینی عوام کے خلاف ’جارحیت‘ اور ان کے مقصد کے  ساتھ ’بےوفائی‘ قرار دیا ہے۔

اردن جس کی اسرائیل اور مغربی کنارے کے ساتھ سرحد ملتی ہے، نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے کا انحصار اسرائیلی اقدامات پر ہو گا جس میں اس کا فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل پر مؤقف بھی شامل ہے۔               

اردن کے وزیر خارجہ ایمان السفادی نے کہا کہ ’امن عمل پر معاہدے کے اثرات ان اقدامات سے جڑے ہوئے ہیں جو اسرائیل کی جانب کیے جائیں گے۔‘

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ علاقے کی خوشحالی اور استحکام کے لیے معاہدے کروانے والوں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں کو اپنا حصہ بنانے کا عمل روکنے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو گا۔

اسرائیل کے سخت مخالف ملک ایران نے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اسرائیل کی ’مجرم‘ اور ’قابض انتظامیہ‘ کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل اور اسرائیلی جرائم میں شامل ہونے کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

جبکہ ترکی نے عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’غداری‘ قرار دیا ہے۔

ترک وزات خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے فلسطین کاز کو ’دھوکہ‘ دیتے ہوئے اپنے محدود مفادات پورے کیے۔ ’تاریخ اور علاقے کے لوگوں کا ضمیر اس منافقت کو نہ کبھی بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے۔‘

ایرانی اتحادی یمن کے حوثی باغیوں نے معاہدے کی مذمت کرتے  ہوئے اسے عرب اور مسلم امہ کے لیے اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ثابت ہو گیا کہ یہ ممالک جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے اسرائیلی مفادات کو پورا کرنے والے ہیں۔‘

ادھر یورپی ممالک نے اسرائیل عرب امارات معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا کام معطل کر دے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایوزلدریان کا کہنا تھا کہ اس فریم ورک کے تحت فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے سے روکنا مثبت قدم ہے۔

اسی طرح چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤلی جیان نے کہا ہے کہ چین کو خوشی ہے کہ اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی جب کہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ حاصل ہو گا۔

جرمنی نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیر خارجہ ہائیکوماس نے کہا ہے کہ دو ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آنا علاقائی میں امن کے لیے اہم قدم ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریش نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدے سے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو دو قوموں کے اصول پر حل کو عملی شکل دی جا سکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کو موقع ملے گا کہ بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کریں تاکہ علاقائی تنازعے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو قوموں کے اصول کی بنیاد پر حل کیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا