ٹرمپ ری پبلکن کے صدارتی امیدوار نامزد، وائٹ ہاؤس کے باہر ہنگامے

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی قبول کر لی، جب کہ ’بلیک لائیوز میٹر‘نے وائٹ ہاؤس کے باہر بڑا مظاہرہ کیا۔

امریکہ میں ’بلیک لائیوزمیٹر‘ تحریک کے سینکڑوں افراد نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مظاہرہ اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ رپبلکن نیشنل کنونش (آر این سی) سے خطاب کر رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہونے والے  مظاہرین غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے نعرے بازی کی اور صدر ٹرمپ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں شامل 18 سالہ کہیرا ویڈربرین نے کہا: ’ہم ٹرمپ کی شکست چاہتے ہیں۔ ہمیں پورا نظام لپیٹنے اور انقلاب کی ضرورت ہے۔‘ مظاہرین نے ڈھول کی تھاپ پر ’پینس اور ٹرمپ آؤٹ‘ کے نعرے لگائے۔

ہوسٹن سے تعلق رکھنے والے ایک سیاہ فام طالب علم کا کہنا تھا کہ یہ صدور کچھ نہیں کریں گے کیونکہ وہ سیاہ فام نہیں ہیں جنہیں سڑکوں پر گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ واشنگٹن کے رہائشی 33 سالہ سفید فام امریکی شہری مائیکل لیجنڈ نے کہا کہ بہت لوگ تیار بیٹھے ہیں کہ ٹرمپ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔

مظاہرین سے چند میٹر کے فاصلے پر بڑی دھاتی باڑوں کے پیچھے رپبلکن پارٹی کے ارب پتی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں خطاب کر رہے تھے جس کا مقصد دوبارہ صدارتی الیکشن لڑنے کے پارٹی کی طرف سے نامزدگی کا حصول تھا۔

مظاہرین میں شامل مریم اوپن ہائمر کا تعلق فلاڈیلفیا سے تھا۔ انہوں نے کہا: ’ہم نہیں چاہتے کہ ڈونلڈٹرمپ صدارتی الیکشن کے نامزدگی قبول کریں۔ ہمارا مقصد ایسا ہونے سے روکنا ہے۔‘ 53 سالہ اوپن ہائمر کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں ٹرمپ اپنے لوگوں کی تشدد کے لیے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور ہم اپنے لوگوں کو پرامن رہنے کا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک کتبہ اٹھا رکھا تھا جس پر ’پولیس فاشزم کی آلہ کار ہے‘ کے الفاظ درج تھے۔

حالیہ ہفتوں میں کمزور پڑ جانے والی ملک گیر بلیک لائیوز میٹر تحریک مئی میں شروع  ہوئی تھی۔ اس سے پہلے منی سوٹا میں پولیس نے جارج فلائیڈ نامی سیاہ فام شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس سے پہلے رپبلکن نیشنل کنونشن سے خطاب میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ان کے انتخابی حریف جوبائیڈن ’امریکہ کی عظمت‘ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریئل اسٹیٹ ڈویلپر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکیوں اوراس تباہی کے درمیان کھڑے ہیں جو ان کے بقول ان کے کمزور ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن تین نومبر کو کامیابی کی صورت میں لائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا: ’اس الیکشن سے فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ہم امریکی خواب بچانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ جو بائیڈن امریکہ کی روح کو بچانے والے نہیں ہیں۔ وہ امریکہ میں ملازمت کے مواقع تباہ کرنے والے ہیں۔ انہیں موقع دینے کی صورت میں وہ امریکہ کی عظمت کو تباہ کرنے والے ثابت ہوں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار بائیں بازو کو مل گیا تو وہ آپ کے مضفات کو منہدم اور اسلحہ ضبط کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کی تحریک دھوکوں اور بڑی بڑی غلطیوں سے بھری ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس اور صدارتی الیکشن کی مہم کو الگ رکھنے کی طویل عرصے سے چلی آنے والی روایت کو توڑتے ہوئے رپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے اس کے جنوبی لان میں سٹیج کے سامنے 15 سو سفید رنگ کی کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ سٹیج کو امریکی پرچموں کو سجایا گیا تھا۔ دو بڑی بڑی سکرینیں بھی لگائی گئی تھیں۔

کنونش سے خطاب میں رپبلکن پارٹی کے دوسرے رہنماؤں اور ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا نے بھی خطاب کیا اور ٹرمپ کے ان الفاظ کی مزید وضاحت کی کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ملک میں لاقانونیت پھیلے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ