کینسر مریض کی درخواست ضمانت دو سال سے تاخیر کا شکار

قتل کے جرم میں عمر قید کاٹنے والے فیضان نے بلڈ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے دو سال قبل درخواست ضمانت دی تھی۔

پاکستان کے نظام انصاف میں سستی اور خامیوں کا اعتراف خود اعلیٰ عدلیہ کے ججز کرتے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ عدالتوں میں ججز کی تعداد سے کہیں زیادہ کیسوں کی بھر مار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم کیسوں کی سماعت بروقت نہیں ہوپاتی۔

ایسی ہی ایک مثال منڈی بہاؤالدین کے فیضان احمد کی درخواست ضمانت بھی ہے۔ جوتے مرمت کرکے گزربسر کرنے والے محمد اکرم کے دو بیٹوں کو قتل کے ایک مقدمے میں مقامی عدالت نےعمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد وہ گذشتہ کئی سال سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔

ان کے وکیل چوہدری نعمان عتیق کے مطابق جب ان دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تو فیضان اس وقت بھی زیر علاج تھے اور بلڈ کینسر کے باعث ان کی شوکت خانم ہسپتال سے کیموتھراپی ہورہی تھی۔ 'اس اندھے قتل کے مقدمے کا ایک ملزم جو بااثر زمیندار تھا وہ بری ہوگیا جب کہ یہ دونوں بھائی قید کاٹ کر رہے ہیں۔'

انہوں نے بتایا کہ فیضان کی بیماری کی بنیاد پر 2018 میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی گئی جس پر عدالت عالیہ نے جیل کے ڈاکٹروں سے میڈیکل رپورٹ طلب کی تھی۔

جیل کی تحریری رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فیضان بلڈ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے مریض ہیں، ان کا علاج جیل میں نہیں ہوسکتا اور دیگر قیدیوں کے ساتھ رہنے سے ان میں بھی ہیپاٹائٹس کی بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے لہٰذا انہیں جیل سے باہرعلاج کی سہولت ملنی چاہیے۔

چوہدری نعمان کے مطابق دو سال گزرنے کے باوجود طبی بنیادوں پر دائر فیضان کی درخواست ضمانت پر سماعت نہ ہوسکی، آخری بار سماعت کے لیے ہائی کورٹ میں تاریخ اسی دن مقرر تھی جب مریم نواز کی ضمانت ہوئی۔

اس کیس کی وجہ سے فیضان کے درخواست کی سماعت ملتوی ہوئی اور آج تک دوبارہ مقرر نہ ہوسکی جب کہ جلد سماعت کے لیے آٹھ بار درخواستیں بھی دی گئیں، پھر کرونا وبا کی وجہ سے اور اب عدالتی چھٹیوں کی وجہ سے ان کی درخواست التوا کا شکار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ جب یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تو فاضل جج نے کہا تھا کہ طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت کی بجائے انہیں کی عمر قید کے خلاف اپیل دائر کی جائے کیونکہ اس میں کافی گنجائش دکھائی دیتی ہے لہٰذا اپیل بھی دائر کی گئی لیکن اس پر بھی سماعت نہ ہوسکی۔

ملزم کے والد محمد اکرم نے بتایا کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں 'طاقت ورقیدیوں کو علاج کی اجازت ہے مگر میرے کینسر کے مریض بیٹے کی دوسال سے درخواست پر سماعت کیوں نہیں؟'

اکرم نے کہا کہ انہیں ہر پیشی پر اپنے بیٹے کو دوائیں پہنچانے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ کرونا کے دنوں کے بعد پانچ ماہ سے انہیں ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ اکرم مایوس ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی ضمانت کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان