'جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ بڑھ رہا ہے'

کرونا وائرس ویکسین کی تیاری میں اہم کردار کرنے والی پروفیسر سارہ گلبرٹ کے مطابق جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں پھیلنے کے امکانات ہماری طرز زندگی کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔

کرونا وائرس کا آغاز ابھی تک ایک راز ہے لیکن زیادہ تر سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے کسی اور جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

آکسفورڈ میں کرونا (کورونا) وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے کام پر مامور ایک پروفیسر نے تنبیہ کی ہے کہ جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں منتقل ہونے کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 کرونا وائرس سے امیونٹی دینے والی ویکسین کی تلاش میں کلیدی کردار ادا کرنے والی سارہ گلبرٹ کا ماننا ہے کہ ہماری طرز زندگی کی وجہ سے جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں پھیلنے کے امکانات زیادہ ہو گئے ہیں، خاص طور پر گنجان آبادیوں میں اضافہ، بڑھتا بین الااقوامی سفر اور جنگلات کی کمی اس کی وجہ ہیں۔

کرونا وائرس کا آغاز ابھی تک ایک راز ہے لیکن زیادہ تر سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے کسی اور جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

حال ہی میں دنیا بھر میں پھیلنے والی بیماریاں جیسے کہ ایبولا، سارس اور ویسٹ نائل وائرس بھی جانوروں سے شروع ہوئے لیکن کووڈ 19 ان میں سب سے زیادہ پھیلنے والا وائرس ثابت ہوا ہے۔

 دی انڈپینڈنٹ جنگلی جانوروں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے ایک عالمی کوشش کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ حیاتیاتی تنوع کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اخبار کی 'سٹاپ دی ال لیگل وائلڈ لائف ٹریڈ' مہم کو خیراتی اداروں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں جیسے کہ اینیملز ایشیا، ورلڈ اینیمل پروٹیکشن، یو ایس اینڈ سپیس فار جائنٹس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال جانوروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے تقریباً ایک ارب لوگ بیمار اور لاکھوں ہلاکتیں ہوتی ہیں جبکہ دنیا بھر میں سامنے آنے والے 60 فیصد انفیکشنز جانوروں سے انسانوں میں پھیل رہے ہیں۔

پروفیسر گلبرٹ کے مطابق ان بیماریوں سے پھیلنے والا خطرہ مستقبل میں ختم ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ دنیا زیادہ گلوبلائز ہو رہی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے جینز انسٹی ٹیوٹ کی ویکسینلوجی پروفیسر نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: 'جس طرح سے دنیا میں چیزیں ہو رہی ہیں ہم مستقبل میں جانوروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں کی وبا پھیلتے دیکھیں گے۔ گنجان آبادیوں میں اضافہ، زیادہ سفر اور جنگلات کی کمی یہ سب عوامل اس بات کو زیادہ ممکن بناتے ہیں کہ وبائیں سامنے آئیں گی اور پھیلیں گی۔'

گذشتہ مہینے اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی تنبیہ کی تھی کہ اگر جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو جانوروں سے پھیلنے والی بیماریاں بڑھتی رہیں گی۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی منصوبے اور انٹرنیشنل لائیو سٹاک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق وائرس کے پیتھوجن کا جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا فطری ماحول کی تباہی، جنگلی زمینوں پر تعمیرات، جنگلی حیات کے استحصال، قدرتی وسائل کی تلاش اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

یونیورسل فلو کی ویکسین کی تیاری میں شریک پروفیسر گلبرٹ کا ماننا ہے کہ ان بیماریوں کے علاوہ بھی مستقبل میں اس انفلوئنزا سے خطرہ ہے جیسا 2017 اور 2018 میں دیکھا گیا تھا۔

سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پروینشن کے مطابق امریکہ میں 2017 اور 2018 کے سرما کے دوران انفلوئنزا نے تقریباً 80 ہزار افراد کو ہلاک کیا تھا۔ یہ کئی دہائیوں میں اس وائرس کا مہلک ترین پھیلاؤ تھا۔

پروفیسر گلبرٹ کا کہنا ہے کہ 'مستبقل میں ایک اور فلو وبا کی شکل اختیار کرے گا۔ یہ دوبارہ واپس آئے گا۔ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ اس کی کون سی ذیلی قسم ہو گی۔ میں ایک ایسی یونیورسل فلو ویکسین پر کام کر رہی تھی جو فلو کی تمام اقسام پر اثر کرے گی، چاہے یہ ایچ ون این ون ہو، ایچ تھری این تھری ہو یا ایچ سیون این سیون۔'

ان کا مزید کہنا ہے کہ 'سب کا علاج کرنے والی اس ایک ویکیسن کی تخلیق کے بعد ہمیں کسی بھی وائرس کی ذیلی ساخت کی تشخیص کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔'

ابھی تک یونیورسل فلو کی کوئی منظور شدہ ویکسین عام استعمال کے لیے سامنے نہیں آ سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر گلبرٹ کا کہنا ہے کہ 'جہاں تک یادداشت جاتی ہے، ہر صدی میں فلو سے تعلق رکھنے والی وبا کئی بار پھیلتی رہی ہے، جس کی کئی اقسام ہیں تو ہم کبھی فلو کو ختم نہیں کر سکتے۔ ہم نے چیچک کا خاتمہ کر لیا ہے کیونکہ وہ جانوروں میں موجود نہیں ہے۔ ہم پولیو کے خاتمے کے بھی قریب آ چکے ہیں۔ اس ہفتے ایک بہت اچھا نتیجہ سامنے آیا ہے کہ افریقہ سے پولیو ختم ہو گیا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ خسرے جیسی اور بیماریاں بھی ہیں جو ختم ہو سکتی ہیں کیونکہ جانوروں میں ان کے ذخیرے موجود نہیں ہیں لیکن اس کا اطلاق فلو پر نہیں ہوتا۔ فلو کئی جنگلی جانوروں میں موجود ہے جہاں سے وہ منتقل ہو سکتا اور ہم اس کے ذخیرے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ یہ انسانوں کو متاثر کرتا رہے گا اور پھر ایک اور قسم کے فلو کی وبا ہو گی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔'

پروفیسر گلبرٹ اور ان کی ٹیم نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ آکسفورڈ کی ویکسین کا ٹرائل ڈیٹا جلد ہی ریگولیٹرز کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

اگر تازہ ترین نتائج میں فیز تھری کے دوران اس کی زیادہ صلاحیت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد اسے لائسنس دے دیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ ویکسین اے زی ڈی ون ٹو ٹو ٹو (AZD1222) رواں سال کے آخر تک دستیاب ہو سکتی ہے۔

آسٹرازینکا جس کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ اس ویکسین کی تیاری میں شراکت داری ہے، نے وعدہ کیا ہے کہ اگلے موسم گرم تک اس ویکسین کی دو ارب خوراکیں تیار کی جائیں گی۔

اس وقت یہ ویکسین برطانیہ، جنوبی افریقہ، برازیل اور امریکہ میں ہزاروں رضاکاروں پر آزمائی جا رہی ہے۔ ایسی ہی دوسری ویکسینز بھی اسی مرحلے تک پہنچ چکی ہیں اور پروفیسر گلبرٹ پراعتماد ہیں کہ ان میں سے کئی مثبت نتائج سامنے لائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'میرا خیال ہے کہ اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ ان میں سے کئی ویکسینز اچھے نتائج ثابت کریں گی۔ ہم نے اینٹی باڈیز کی بلند سطح دیکھی ہے، ہم ان میں سے کئی مضبوط ٹی سیلز کا ردعمل بھی دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ کام کرتی ہے تو باقی ویکسینز بھی کام کریں گی۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ ایسی کئی ویکسینز ہوں گی۔ کرونا وائرس کے خلاف جانوروں کی ویکسینز بھی موجود ہیں۔ دو لائسنس یافتہ ویکسین موجود ہیں جو کام کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک بووین جبکہ دوسری ایوین کرونا وائرس کے خلاف کام کرتی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ آپ کرونا وائرس کے خلاف ویکسین استعمال کر سکتے ہیں لیکن ہم نے ابھی تک انسانوں پر ان کو استعمال نہیں کیا۔'

'پہلے اصولوں کی بنیاد پر اس بات کا بہت امکان موجود ہے کہ ہم کرونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرلیں گے اور اگر ہم دو ارب خوراکیں تیار کر لیتے ہیں تو دوسرے مینوفیکچرر بھی  اس میں شامل ہو جائیں گے۔ یہ سب سے اچھا حل ہے۔'

لیکن پروفیسر گلبرٹ تسلیم کرتی ہیں کہ اس مرحلے پر یہ طے کرنا 'بہت مشکل' ہے کہ اے زی ڈی ون ٹو ٹو ٹو  (AZD1222) کتنے وقت تک حفاظت دے گی اور اس سے امیونٹی کی کون سی سطح حاصل کی جائے گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق