عاصم باجوہ کا وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے بیرون ملک کاروبار کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لگے 'الزامات' کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ جمعے کو معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

عاصم باجوہ اور ان کے رشتہ داروں کے بیرون ملک اثاثوں میں 2002 کے بعد مبینہ طور پر اضافہ شروع ہوا: صحافی احمد نورانی کا دعویٰ(اے ایفپی)

سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنی اہلیہ، بیٹوں اور بھائیوں کے بیرون ملک کاروباروں اور جائیدادوں سے متعلق 'الزامات' کی تردید کرتے ہوئے اسے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے بیرون ملک اہل خانہ کے کاروبار سے متعلق  'الزامات' کی تردید جمعرات کی شام ٹویٹر پر چار صفحات پر مشتمل انگریزی زبان میں تحریر کردہ بیان میں دی۔ 

ایک اور اہم پیش رفت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا اضافی عہدہ رکھنے والے عاصم باجوہ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بطور ‏چیئرمین سی پیک اتھارٹی وہ ان منصوبوں پر پوری توجہ دے سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جمعے کو وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ پیش کر دیں گے۔

یاد رہے کہ صحافی احمد نورانی نے 27 اگست کو پاکستان فوج کے سابق ترجمان عاصم سلیم باجوہ کے اہل خانہ کے بیرون ملک کاروباروں اور جائیدادوں سے متعلق 'دستاویزی  ثبوتوں' کے ساتھ ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ  عاصم باجوہ نے اثاثوں کی تفصیل میں اپنی اہلیہ کے بیرون ملک کاروبار یا اثاثوں سے متعلق حقائق کو مخفی رکھا اور یہ کہ ان کی اہلیہ، بیٹے اور بھائی پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات، امریکہ اور کینیڈا میں سینکڑوں کاروباری کمپنیوں اور جائیدادوں کے مالک ہیں۔

احمد نورانی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عاصم باجوہ اور ان کے رشتہ داروں کے بیرون ملک اثاثوں میں 2002 کے بعد مبینہ طور پر اضافہ شروع ہوا اور یہی وہ سال تھا جب عاصم باجوہ فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف کے سٹاف آفیسر تعینات ہوئے، اس کے بعد وہ  کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

احمد نورانی کی رپورٹ 'فیکٹ فوکس' نامی نسبتاً نئی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی جو احمد نورانی کے مطابق وہ اور ان کے کچھ دوست مل کر چلا رہے ہیں۔ احمد نورانی نے، جو آج کل ایک فیلوشپ کے سلسلے میں امریکہ میں مقیم ہیں، رپورٹ کی اشاعت کے بعد مختلف انٹرویوز میں دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ جلد پاکستان واپس آئیں گے۔

عاصم سلیم باجوہ کی وضاحت

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے آج ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان کے ابتدائیہ میں احمد نورانی کی رپورٹ کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے 'جھوٹ' اور'غلط' قرار دیا اور فیکٹ فوکس کی خبر میں موجود تین اہم باتوں کا ذکر کیا۔

بیان میں انہوں  نے مندرجہ ذیل وضاحتیں اور تردیدیں پیش کیں۔

1۔ انہوں نے اثاثوں کی تفصیلات میں اپنی اہلیہ کے بیرون ملک اثاثوں یا کاروباروں کی تفصیلات درج نہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تفصیلات جمع کرانے کے روز (22 جون کو) ان کی بیوی کسی بیرون ملک کاروبار میں سرمایہ کار یا شراکت دار نہیں تھیں۔

'میری اہلیہ نے یکم جون کو بیرون ملک کمپنی سے سرمایہ کاری ختم کر دی تھی اور اس سلسلے میں تمام ضروری حقائق امریکہ میں سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں بھی ناموں کی تبدیلی کا عمل مکمل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب یہ صرف دفتری کارروائی کا مکمل ہونا باقی ہے۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ مسز عاصم باجوہ نے 2002 سے یکم جون، 2020 تک کے 18 سالہ عرصے کے دوران امریکہ میں ان کے بھائیوں کی کمپنی میں صرف 19492 امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کی، جو جنرل صاحب کی ذاتی بچت سے حاصل کی گئی تھی اور جس کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔

2۔ عاصم باجوہ نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے نام پر امریکہ اور یو اے ای میں پاپا جونز نامی پیزا چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باجکو گلوبل مینجمنٹ کمپنی کسی ادارے کی بنیادی کمپنی نہیں بلکہ یہ باجکو کی کمپنیوں کو معاوضے پر خدمات فراہم کرتی ہے اور باجکو گلوبل مینجمنٹ کا امریکہ، یو اے ای میں پاپا جونز یا جائیداد کے کاروبار میں کوئی شراکت داری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیکٹ فوکس کی خبر میں بعض ناموں کو بار بار دہرا کر باجکو کمپنیوں کے تعداد 99 ظاہر کی گئی جبکہ حقیقتاً امریکہ اور یو اے ای میں ان کمپنیوں کی تعداد بالترتیب 27 اور دو ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کے بھائیوں نے 18 سال کے عرصے میں (پاپا جونز کی) فرینچائز اور جائیدادیں خریدنے کے لیے سات کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی، جس میں سے چھ کروڑ ڈالرز مقامی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے قرض کی صورت میں حاصل کیے گئے جبکہ 18 برس میں میرے بھائیوں اور اہلیہ کی اپنی جیب سے سرمایہ کاری کا حجم 73950 امریکی ڈالرز تھا، جس میں سے میری اہلیہ کا حصہ محض 19492 امریکی ڈالرز تھے اور پانچ بھائیوں کی کل سرمایہ کاری 54458امریکی ڈالرز تھی، جو قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی اور اس کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان رقوم سے زیادہ جس سرمایہ کاری کا ذکر کیا گیا ہے وہ پیسے دراصل ان کے بھائیوں نے اپنے اپنے منافعوں کو دوبارہ کمپنیوں میں لگا کر حاصل کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پانچ بھائیوں میں سے دو بھائی ڈاکٹر ہیں جبکہ ایک بھائی ایک امریکی بینک میں نائب صدر کے عہدہ تک پہنچے اور ایک دوسرے بھائی ایک ریستوراں چلانے والی کمپنی میں کنٹرولر کے عہدے پر رہے۔ ان میں سے کوئی بھائی بھی عاصم باجوہ پر انحصار نہیں کرتے۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس کمپنی میں ان کی اہلیہ اور بھائیوں کے علاوہ 50 دوسرے بھی شراکت دار ہیں۔

3۔ احمد نورانی کی رپورٹ میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں پر لگائے گئے 'الزامات' سے متعلق  بیان میں دعویٰ کیاگیا کہ ان کے بیٹوں کے نام پر رجسٹرڈ ساین بلڈرز اور موچی کارڈوئینرز نامی کمپنیوں نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا جبکہ ان کے ایک دوسرے بیٹے کے نام پر رجسٹرڈ ہمالیہ پرائیوٹ لمیٹڈ ایک چھوٹی کمپنی ہے جس نے اب تک محض پانچ لاکھ روپے کا منافع کمایا ہے۔

اسی طرح کرپٹن نامی کمپنی نے، جس کے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ عاصم باجوہ کے سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بننے کے بعد بنائی گئی تھی،بھی ابھی تک کوئی کاروبار نہیں کیاجبکہ ایڈوانس مارکیٹنگ اور ساین نیچر نامی کمپنیاں بھی کوئی کاروبار نہیں کر پائیں۔

عاصم سلیم باجوہ کے دو بھائیوں کے نام پر رجسٹرڈ کمپنی سلک لائن کا ذکر کرتے ہوئے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کمپنی بنیادی طور پر رحیم یار خان میں کام کرتی ہےاور اسے سی پیک کا کوئی ٹھیکہ یا کام کبھی بھی نہیں ملا۔ بیان کے مطابق: 'ان کے ایک بیٹے کا امریکہ میں گھر ہے جو انہوں نے بینک سے 80 فیصد مورٹگیج کے ذریعے حاصل کیا تھا۔

انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ ان کے تمام بیٹے امریکہ کے اچھے تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ ہیں اور وہاں اچھی نوکریاں کر رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مالی طور پر عاصم سلیم باجوہ پر انحصار نہیں کرتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان