اس تمام بندوبست میں وزیرِ اعظم کہاں ہیں؟

جو وزیر اعظم حزب اختلاف سے بات کرنے کا روادار نہ ہو وہ سماج کو بند گلی کے علاوہ کہاں لے جائے گا؟

 آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر ملک میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں کا اعلان اور وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا (اے ایف پی)

حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس سے لے کر فوجی قیادت اور اپوزیشن کی مبینہ ملاقات تک، سوالات کا دفتر کھلا ہے اور اس میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس بندوبست میں جناب عمران خان کی افادیت کیا ہے؟

حزب اختلاف کی کانفرنس نے انہیں اپنا مخاطب بنانے کے قابل نہیں سمجھا اور فوجی قیادت سے اہل سیاست کی ملاقات میں بھی وہ موجود نہیں تھے۔ ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی جیسے نازک مرحلے پر بھی ان کی کوئی خیر خبر نہ مل سکی کہ سامنے آتے اور حزب اختلاف سے بات کرتے۔ کشمیر میں بحرانی صورت حال پیدا ہوئی تب بھی ان کی افتاد طبع داخلی سطح پر کسی وسیع تر مکالمے اور مشاورت کی راہ میں حائل ہو گئی۔

میرے جیسے طالب علم کے پیش نظر سوال اب یہ ہے کہ کیا جمہوری نظام ایک ایسے وزیر اعظم کا متحمل ہو سکتا ہے جو اہم مراحل پر معاملات کی ’اونر شپ‘ لینے اور ’لیڈنگ فرام دی فرنٹ‘ کی بجائے ’اینگری ینگ مین‘ کی طرح خفا ہو کر بیٹھ جاتا ہو کہ میں نے تو فلاں اور فلاں سے بات نہیں کرنی، میری ان سے کٹی ہے، محلے کے شرفا خود ہی جا کر بات کر لیں۔

روایت یہ ہے کہ فوجی قیادت اور اہل سیاست میں ہونے والی ملاقات کا پس منظر گلگت بلتستان میں انتخابات تھے۔ ان انتخابات کی ایک اپنی معنویت ہے۔ خطے میں صورت حال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ چین سے ہزیمت اٹھانے والی بھارتی قیادت داخلی دباؤ سے نجات کے لیے پاکستان کو نسبتا آسان فریق سمجھ کر کوئی مہم جوئی کر سکتی ہے۔ ایسے میں فوجی قیادت نے انتخابات سے الگ رہنے اور ایک قومی ادارے کی حیثیت سے سیاسی معاملات سے دور رہنے کی بات کی تو یہ قابل فہم بات ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ محض داخلی معاملہ نہیں تھا، یہ تزویراتی معاملہ بھی تھا۔

 اہل سیاست اور فوجی قیادت میں مشاورت میں حرج ہی کیا ہے؟ پاکستان کے اہل سیاست، پاکستان کے اداروں سے مل رہے ہیں، را یا موساد سے نہیں مل رہے۔ وزیر اعظم اپنی افتاد طبع کے اسیر نہ ہوتے تو اس ملاقات کی شکل کچھ اور ہوتی۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو اجلاس کے دوران سوال نہ پوچھنا پڑتا کہ وزیر اعظم کہاں ہیں۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعظم یا وزیر دفاع نے کی ہوتی۔ اجلاس پارلیمان کی عمارت میں کہیں ہوا ہوتا۔ میزبان کوئی سیاسی شخصیت ہوتی۔ ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری ہو جاتا۔ خبر جاری ہوتی تو کسی کو’آرم ٹوسٹنگ‘ کا احساس نہ ہوتا۔ غیر محتاط وزرائے کرام اس ملاقات کی بنیاد پر حزب اختلاف کو طعنے نہ دیتے۔ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ماحول رہتا جہاں خیر خواہی اور ملکی سلامتی ہی مر کز و محور قرار پاتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں یہ ہوا کہ ملاقات پہلے ہوئی لیکن اس کی خبر حزب اختلاف کی کانفرنس کے بعد لیک ہوئی۔ اب بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں اور آدمی سوچتا ہے:

کس کا یقین کیجیے، کس کا نہ کیجیے
لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ

ہر آدمی اپنی افتاد طبع کے حساب سے اس کی شرح بیان کرے گا۔ شیخ رشید جیسے لوگ جب اس پر طبع آزمائی کریں گے تو حزب اختلاف کے لیے یہ کوئی خوشگوار صورت حال نہیں ہو گی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ آئندہ کے لیے ایسے اشتراک کار اور مشاورت کے امکانات سکڑتے جائیں گے۔ یہ کام کسی کی سیاست کے لیے تو شاید خوشگوار چیز ہو، ریاست کے لیے ہر گز خوشگوار نہیں ہے۔

عمران خان اپنی ذات کے گنبد میں قید ہیں۔ اپنے تئیں تقویٰ اور پاکئی داماں کی ایک ایسی خلعت انہوں نے اوڑھ رکھی ہے جس کا عالم امکانات میں کہیں وجود نہیں۔ عقیدت سے جن کارکنان کی کمر دہری ہو چکی ہے انہیں تو وہ یقین دلا سکیں گے کہ دیکھا میں نے کسی کرپٹ سے بات نہیں کی، میں نے کسی کرپٹ سے ملنا گوارا نہیں کیا۔ لیکن جنہوں نے عقل و فہم کو طلاق نہیں دے رکھی وہ جانتے ہیں ان دعووں کی حقیقت کیا ہے۔ کسی کو شک ہے تو عمران خان کی کابینہ میں موجود رجال کار کے چہروں کو ایک بار پھر دیکھ لے۔ جیسے ٹکٹ بانٹے گئے اور پھر وزارتیں، اس سب کے بعد اخلاقیات اور انسداد بدعنوانی کا پرچم تھامنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ انتظامی نا اہلی اور طرز حکومت کے مسائل کو خود فریبی پر مبنی اس بیانیے سے نہیں ڈھانپا جا سکتا۔

جب آپ وزیر اعظم ہیں تو امور ریاست کو دیکھنا اور قائدانہ کردار ادا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس ویژن اور صلاحیت ہی نہیں تو یہ عذر آپ کے کام نہیں آ سکتا کہ میں کسی بدعنوان سے ملنا گوارا نہیں کرتا اس لیے ناراض ہو کر گھر بیٹھ جاتا ہوں۔ وزیر اعظم پاکستان کے منصب کے کچھ تقاضے ہیں۔ سٹیٹس مین شپ اسی کا نام ہے کہ آپ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اشتراک کار کی گنجائش رکھیں۔ لیکن جو وزیر اعظم حزب اختلاف سے بات کرنے کا روادار نہ ہو وہ سماج کو بند گلی کے علاوہ کہاں لے جائے گا؟ بند گلی میں حکومتیں تو نہیں چل سکتیں۔

فوج کا پیغام واضح ہے کہ اسے سیاست سے دور رکھا جائے۔ لیکن کیا یہ پیغام صرف حزب اختلاف کے لیے ہے؟ یقیناً اایسا نہیں ہے، کیونکہ اس ملاقات میں حزب اقتدار کے ایسے لوگ بھی موجود تھے جو جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کے تذکرے کر کے فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔

پیغام تو سب کے لیے ہے۔ حکومت کا عالم یہ ہے کہ ڈھنگ کی ایک پالیسی نہیں بنا سکی اور وزرا کے سارے طنطنے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ وزیر اعظم یہ اقوال زریں اکثر دہراتے رہتے ہیں کہ میری پالیسیوں کو فوج کی تائید حاصل ہے۔ وزیر اعظم کو سمجھنا ہو گا فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں اور اپنی پالیسیوں کا دفاع دلائل سے کریں، ایک پیج کے حوالہ جات سے نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ