سرگودھا: دس سالہ بچے نے گولی مار کر پھوپھی کو قتل کردیا

پولیس کے مطابق بچے نے ہمسائے کے کہنے پر اپنی پھوپھی پر پستول تانی اور گولی چلا دی، جو خاتون کے سر کے آر پار ہو گئی۔

تھانہ صدر سرگودھا کے سب انسپکٹر امان اللہ کے مطابق:  'بچے  نے پولیس کو بتایا کہ پستول اچانک چلی اور پھوپھی کو گولی لگ گئی۔' (فائل تصویر: سوشل میڈیا)

پولیس کے مطابق سرگودھا میں تین بچوں کی ماں ایک 22 سالہ خاتون کو ان کے چچا زاد بھائی کے 10 سالہ بیٹے نے مبینہ طور پر سر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔

سرگودھا کے تھانہ صدر میں مقتولہ کے شوہر عمران ریاض کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق کنول پروین 14 ستمبر کو اپنے بھائی معظم علی کو ان کے بیٹے کی پیدائش پر مبارک باد دینے گئی تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق: 'اس موقعے پر خاتون کے چچازاد بھائی انصر کا بیٹا ایک ہمسائے وقاص آرائیں کے ساتھ موجود تھا اور وقاص اسے پستول چلانے کی تربیت دے رہے تھے، جس پر کنول کو غصہ آیا اور انہوں نے پوچھا کہ وہ (وقاص) وہاں کیا کر رہے ہیں؟'

جس پر وقاص اشتعال میں آ گئے اور کہا: 'بچے کو تمہیں مارنے کی تربیت دے رہا ہوں، تم عمران کے ساتھ بھاگ جو گئی تھی۔' اس بات پر کنول اور وقاص میں تلخ کلامی ہوئی اور وقاص نے بچے کو 30 بور کی پستول پکڑاتے ہوئے کہا: 'شاگرد کنول پر نشانہ لو۔'

ایف آئی آر کے مطابق بچے نے وقاص کے کہنے پر گولی چلا دی جو کنول کے سر میں لگی اور وہ موقعے پر ہی ہلاک ہو گئیں۔

مقتولہ کے شوہر اور گوجرہ کے رہائشی عمران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آٹھ برس قبل ان کی کنول سے پسند کی شادی ہوئی تھی، اس وقت ان کی عمر تقریباً 15 برس تھی۔ شروع میں سسرال والے ناراض تھے مگر بعد میں صلح ہوگئی۔

واقعے کے حوالے سے عمران نے بتایا: 'میرے سالے معظم کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو میں اور کنول ان کے گھر آئے، میں دیہاڑی دار مزدور ہوں، اس لیے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ کچھ روز اپنے میکے میں رہیں، جب کچھ پیسے آئیں گے تو میں واپس گھر لے جاؤں گا۔ میں واپس جانے کے لیے مڑا اور ابھی گھر کے باہر محلے داروں سے بات چیت کر رہا تھا کہ گولی چلنے کی آواز آئی۔'

انہوں نے مزید بتایا: 'میں واپس گھر کے اندر بھاگا تو بچہ 30 بور کی پستول ہاتھ میں لیے کھڑا تھا جبکہ کنول کے ماتھے سے گولی پار ہو چکی تھی اور وہ مردہ حالت میں زمین پر موجود تھیں۔'

عمران نے شک ظاہر کیا کہ 'وقاص نے بچے کو ایسا کرنے کے لیے بھڑکایا کیونکہ وقاص کسی زمانے میں کنول سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر ایسا نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے ان کے دل میں حسد نے گھر کر لیا۔'

تھانہ صدر سرگودھا کے سب انسپکٹر امان اللہ کے مطابق: 'بچے کی عمر نو سے 10 برس ہے، جس نے پولیس کو بتایا کہ پستول اچانک چلی اور پھوپھی کو گولی لگ گئی۔' انہوں نے بتایا کہ وقاص کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ بچے کو فائرنگ کی تربیت دے رہے تھے جبکہ اہل علاقہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وقاص کنول کی شادی کے خواہش مند تھے مگر کنول کی شادی عمران سے ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سب انسپکٹر امان اللہ کے مطابق بچے کو حراست میں نہیں لیا گیا البتہ وقاص مفرور ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ بچے کو کسی نے جان بوجھ کر پستول دی کیونکہ پستول کا چیمبر چڑھا ہوا تھا اور ماتھے کا نشانہ لیا گیا، یہ تربیت کے ساتھ ہی ممکن ہے۔'

ایڈوکیٹ سپریم کورٹ پاکستان افتخار شاہ نے اس کیس کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'جووینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000 کے مطابق مذکورہ بچے کو سزائے موت تو نہیں ہو سکتی مگر اسے عمر قید ہو سکتی ہے کیونکہ ایف آئی آر کے مطابق بچے نے گولی چلائی جو مقتولہ کے ماتھے کے آر پار ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ بچے کا نشانہ پکا تھا اور وہ پستول چلانا جانتا تھا جبکہ دوسری جانب وقاص، جنہوں نے مبینہ طور پر ایسا کرنے کی ترغیب دی، کی سزا کا تعین اس وقت ہوگا جب گواہان اور ثبوت پیش ہوں گے، جو اس کیس میں کافی ہیں۔'

افتخار شاہ کہتے ہیں کہ ایسے مقدمات میں چونکہ بچہ مقتولہ کا رشتے دار ہے اس لیے دیت دے کر بھی کیس ختم ہو سکتا ہے جبکہ کچھ کیسز میں رشتے دار معاف کر دیتے ہیں۔ 'مگر اب قوانین کے مطابق ایسے کیسز میں ریاست کیس کا حصہ بن جاتی ہے اور معافی کے باوجود ریاست مجرم کو سزا دلواتی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان