ایچ آئی وی سے صحت یاب ہونے والے پہلے مریض کی موت

54 سالہ ٹموتھی براؤن کو ’دی برلن پیشنٹ‘ کا کوڈ نام دیا گیا تھا۔

ٹموتھی براؤن نے منگل کو کیلی فورنیا میں واقع اپنے گھر میں وفات پائی (فائل تصویر: اے ایف پی)

ایچ آئی وی سے صحت یاب ہونے والے پہلے مریض ٹموتھی براؤن 54 سال کی عمر میں کینسر چل بسے۔ انہیں ’دی برلن پیشنٹ‘ کا کوڈ نام دیا گیا تھا۔

ٹموتھی کے پارٹنر ٹم ہیوفگن کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق انہوں نے منگل کو کیلی فورنیا میں واقع اپنے گھر میں وفات پائی۔

ان کی موت کی وجہ اس کینسر کی واپسی بتائی جا رہی ہے جس کا علاج انہوں نے 2007 اور 2008 میں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے ذریعے کروایا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق براؤن کا تاریخی علاج کرنے والے ڈاکٹر جیرو ہیوٹر کا کہنا ہے کہ ’ٹموتھی نے ثابت کیا کہ یہ خصوصی حالات کے تحت ممکن ہو سکتا ہے۔ کئی ڈاکٹر اس حوالے سے شکوک کا شکار تھے کہ کیا ایچ آئی وی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے کہ کینسر نے واپس آ کر ان کی جان لے لی، کیونکہ وہ ایچ آئی وی سے صحت یاب ہو چکے تھے۔‘

انٹرنیشنل ایڈز سوسائٹی، جہاں براؤن نے اپنے کامیاب علاج کے بعد تقریر کی تھی، کے بیان میں کہا گیا کہ ٹموتھی براؤن اور ڈاکٹر ہیوٹر کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس بیماری کے علاج پر تحقیق کی۔

براؤن میں جب ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تو وہ برلن میں مترجم کی ملازمت کر رہے تھے۔ براؤن کی پہلی ٹرانسپلاٹیشن 2007 میں کی گئی تھی جس میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اسی ڈونر سے ان کی دوبارہ ٹرانسپلاٹیشن 2008 میں کی گئی تھی اور یہ بھی کامیاب رہی تھی لیکن گذشتہ سال ان کا کینسر واپس آ گیا جس کے بعد ان کی حالت بگڑنے لگی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے ٹرانسپلانٹ کے بارے میں خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے براؤن کا کہنا تھا کہ ’میں خوش ہوں کہ میں نے یہ کروایا۔ اس سے وہ دروازے کھلے ہیں جو پہلے بند تھے۔ اس سے سائنسدانوں کو پہلے سے زیادہ محنت کرنے کا حوصلہ ملے گا۔‘

کہا جا رہا ہے کہ براؤن کی ہی طرح ٹرانسپلانٹ کروانے والے ایک اور مریض ایڈم کاسٹیلیجو جن کو ’دی لندن پیشنٹ‘ کا کوڈ نام دیا گیا تھا اور گذشتہ سال انہوں نے اپنی اصل شناخت ظاہر کر دی تھی، بھی ایچ آئی وی سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

 ڈاکٹرز کے مطابق ایسے ڈونرز تلاش کرنا کافی خطرناک اور مشکل ہے۔ محققین ایسی تھراپی کے تجربے بھی کر رہے ہیں جن سے ٹرانسپلانٹ جیسے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جولائی میں ایک ایڈز کانفرنس کے دوران محققین کا کہنا تھا کہ انہوں نے برازیل میں ادویات کے مرکب سے ایچ آئی وی کو جسم سے نکالنے کا طویل مدتی حل تلاش کر لیا ہے۔

امریکی ریاست بالٹی مور سے تعلق رکھنے والے مسٹر کنگ، جو ایک بلاگ چلاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’براؤن ایچ آئی وی رکھنے والے افراد کے لیے مقناطیس کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ان کے لیے علاج اور امید کی انسانی شکل تھے۔ براؤن شروع سے ہی کہتے تھے کہ وہ واحد مریض نہیں ہونا چاہتے جو اس سے صحت یاب ہوا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ اس پر مزید کام کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت