سعودی حکومت نے عمرے پر جزوی پابندی ہٹا دی

حکو مت نے سات ماہ بعد اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم غیرملکی رہائشیوں کو عمرے کی ادائیگی کی اجازت دے دی، تاہم یہ تعداد ایک دن میں چھ ہزار زائرین تک ہو گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زائرین کی آمد سے مختلف شعبوں میں ملک کو سالانہ 12 ارب ڈالر زکی آمدنی حاصل ہوتی ہے(روئٹرز)

مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ میں اتوار کو سات ماہ بعد پہلی بار اس وقت گہما گہمی دیکھی گئی جب سعودی حکام نے جزوی طور پر عمرے کی ادائیگی پر سے پابندی ہٹا دی۔

عمرہ اور حج کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال سعودی عرب پہنچتے تھے تاہم کرونا وبا کو روکنے کے لیے سات ماہ پہلے عمرے کی ادائیگی پر پابندی لگا دی گئی تھی جب کہ رواں سال حج کے لیے بھی ملک میں موجود افراد کی محدود تعداد کو اس کی اجازت دی گئی۔

سلطنت نے اتوار کو اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم غیرملکی رہائشیوں کو عمرے کی ادائیگی کی اجازت دی ہے، تاہم  یہ تعداد ایک دن میں چھ ہزار زائرین یا حرم کی گنجائش کا محض 30 فیصد ہو گی۔  بیرون ملک سے آنے والے مسلمانوں کے لیے یہ پابندی یکم نومبر سے ہٹا لی جائے گی۔گذشتہ سال دنیا بھر سے ایک کروڑ 90 لاکھ زائرین عمرے اور حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے۔

مارچ میں قومی لاک ڈاؤن کے دوران اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے کے بعد اوبر ٹیکسی چلانے والے یاسر الزہرانی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’پورے مکے میں آج خوشی لوٹ آئی ہے۔ یہ احساس قید کی سزا ختم ہونے جیسا ہے۔ ہم اس مقدس شہر میں رہتے ہوئے بھی روحانی احساس کھو چکے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں دعا کرتا ہوں کہ ہم دوبارہ کبھی اس صورت حال سے نہ گزریں جس کا سامنا ہم نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران کیا۔ یہ ایک خوف ناک خواب کی مانند تھا۔۔۔ اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بمشکل ہی کوئی کام ملا۔‘

کرونا کے وبائی مرض کے بعد مکہ اور مدینہ میں زائرین کے لیے قائم ایک ہزار تین سو سے زیادہ ہوٹلز اور سینکڑوں سٹورز میں سے بیشتر ویران ہو گئے تھے، جہاں کی کھڑکیوں دروازوں پر دھول جم گئی تھی۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ماسک پہنے ہوئے زائرین کے چھوٹے چھوٹے گروپ مسجد حرم میں داخل ہوئے۔ طوافِ کعبہ کے دوران حکام نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ ایک دوسرے سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔زائرین کو اب بھی کعبہ کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان معیشت  کو متنوع بنانے کی مہم کے تحت ملک میں مذہبی اور تفریحی سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 2020 تک عمرہ زائرین کی تعداد کو ایک کروڑ 50 لاکھ تک بڑھانا تھا تاہم اس منصوبے کو کرونا وائرس نے متاثر کیا ہے۔

منصوبے کے تحت 2030 تک زائرین کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زائرین کی آمد سے مختلف شعبوں میں ملک کو سالانہ 12 ارب ڈالر زکی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

مسجدِ حرم کے قریب بلند و بالا ہوٹلز زیادہ تر خالی تھے اور عمرے کے دوبارہ شروع ہونے سے کچھ گھنٹے قبل تک شاپنگ مالز، درجنوں دکانیں اور ریستوراں بھی بند پڑے تھے۔ ماہرین اقتصادیات نے اندازہ لگایا ہے کہ مکہ کے ہوٹلز کے کاروبار میں اس سال کم از کم 40 فیصد کی گراوٹ ہوسکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا