20 سالہ جنگ 20 دن میں ختم نہیں ہو سکتی: اشرف غنی

افغان صدر اشرف غنی کا طالبان کے حوالے سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی ریاست کی میزبانی میں افغانستان کی 19 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریقوں کے مابین جاری مذاکرات بات چیت کے ضابطہ اخلاق پر اختلافات کے باعث سست روی کا شکار ہو گئے ہیں۔

(اے ایف پی)

بین الاافغان مذاکرات میں تعطل کے بعد افغانستان کے  صدر اشرف غنی نے طالبان سے ’جرات کا مظاہرہ اور ملک میں جنگ بندی‘ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قطر کے دو روزہ دورے کے اختتام پر دارالحکومت دوحہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر غنی نے کہا کہ افغانستان کا طویل تنازع بندوق کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کے آغاز کے تین ہفتوں بعد سفارتکاروں اور ماہرین تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے طالبان کے حوالے سے کہا کہ ’کوئی بھی (طاقت) آپ کو مٹا نہیں سکتی۔‘

صدر غنی کا طالبان کے حوالے سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی ریاست کی میزبانی میں افغانستان کی 19 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریقوں کے مابین جاری مذاکرات بات چیت کے ضابطہ اخلاق پر اختلافات کے باعث سست روی کا شکار ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذاکرات میں جنگ بندی یا افغانستان میں مستقبل میں طرز حکومت جیسے عنوانات پر ابھی تک بات نہیں کی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں تشدد کی لہر بدستور جاری ہے جہاں پیر کے روز ایک خودکش حملے میں صوبائی گورنر کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کی تھی جنہوں نے ’دوحہ امن عمل‘ کو نتیجہ خیز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دھوم دھام سے شروع ہونے والی اس بات چیت میں ابھی تک بہت کم پیشرفت ہوئی ہے لیکن صدر غنی نے ایسے سوالات کو رد کر دیا جن سے اشارہ ملتا ہو کہ بات چیت مکمل طور پر رک گئی ہے۔

دوحہ میں خطاب کے بعد انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم 20 دن میں 20 سال کی جنگ ختم نہیں کرسکتے۔‘

اس سے قبل افغانستان کے وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے کہا تھا کہ دونوں فریقین تاحال بات چیت کے ضابطہ اخلاق پر بھی متفق نہیں ہوئے ہیں۔

طالبان اور افغان حکومت دونوں بات چیت کا ایجنڈا طے کرنے سے پہلے مشترکہ مقصد پر اتفاق رائے کے لیے ابھی تک کوششیں کر رہے ہیں۔

طالبان سنی فقہ کے حنفی مکتب پر عمل درآمد چاہتے ہیں لیکن حکومتی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے تشیع ہزارہ برادری اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہونے کا خدشہ ہے۔

ایک اور متنازع موضوع یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے معاہدے کا مستقبل کے امن معاہدے کی تشکیل میں کیا کردار ہو گا۔

اتمر نے کہا: ’افغان ٹیم نے مشترکہ مقصد کا تعین کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں لیکن وہ دونوں فریق کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔‘

تقریبا ایک ہفتے سے فریقین کے مابین کوئی باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی ہے تاہم  دونوں نے اصرار کیا ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے طریقوں پر غیر رسمی گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ دوحہ میں امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے صدر غنی سے ملاقات کے بعد ٹویٹ میں لکھا: ’صدر کو امن کا موقع گنوانا نہیں چاہیے اور یہ کہ امریکہ اس میں مدد کے لیے تیار ہے۔‘

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان اور افغان امن مذاکرات کاروں کے درمیان قطر میں گذشتہ ماہ شروع ہونے والے مذاکرات کے لیے ضابطہ اخلاق پر اتفاق ہو گیا ہے۔

تین سرکاری ذرائع نے منگل کو روئٹرز کو بتایا کہ یہ پیشرفت امریکی عہدیداروں کی مدد سے حاصل ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے 19 اصول وضع کیے ہیں جن کے تحت بات چیت کے دوران ان کے مذاکرات کاروں کو عمل کرنا ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سینئر مغربی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’ضابطہ اخلاق کی تشکیل انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر راضی ہیں حالانکہ افغانستان میں فی الحال تشدد کم نہیں ہوا ہے۔‘

افغان حکومت نے روئٹرز کی اس رپورٹ کہ فریقین نے مذاکرات کے لیے اصول طے کر لیے ہیں، کو مسترد کر دیا ہے۔

 افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ روئٹرز کی رپورٹ غلط ہے کیوں کہ اس کو ’وضاحت‘ کے بغیر شائع کیا گیا ہے۔

جب اس ٹویٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو حکومتی مذاکراتی ٹیم میں شامل ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ افغان حکام کو اس رپورٹ پر اس لیے اعتراض تھا کیوں کہ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں فریقی کے درمیان باقاعدہ اتفاق رائے قائم ہو گیا ہے تاہم انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ کچھ زمینی اصول طے ہوچکے ہیں۔

امن عمل میں شامل سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ پیشرفت پیر کے روز افغان صدر اشرف غنی کے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے دورے کے دوران سامنے آئی ہے۔ غنی نے وہاں قطری رہنماؤں کے علاوہ امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے کمانڈر جنرل آسٹن ملر سے بھی بات چیت کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا