’خیبر پختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے لوگوں کو یوگا کی ضرورت ہے‘

شہناز من اللہ کا کہنا ہے کہ یوں تو ہر شخص چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے اور مذہب سے ہو، اس کو یوگا ورزش کرنی چاہیے تاہم ان کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

شہناز من اللہ پچھلے کئی سالوں سے یوگا ورزش سکھاتی آرہی ہیں۔

یوگا سیکھنے کے خواہشمند لوگ اکثر گروپس کی شکل میں ان سے زندگی جینے اور سکون حاصل کرنے کا یہ گر حاصل کرتے رہتے ہیں۔

اکثر لوگ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ شہناز کے بتائے ہوئے طریقے اپنا کر ان کی زندگی بدل گئی ہے۔

شہناز نے حال ہی میں یوگا کے فوائد پر انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یوگاایک مفید ورزش ہے جس سے اعصابی نظام کو تقویت ملتی ہے اور زندگی پرسکون ہوجاتی ہے۔

’یوگا سنسکرت زبان کے لفظ یگ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ملاپ۔ ملاپ جسم، دماغ اور روح کے ایک سمت میں ہونے کا نام ہے۔ جب آپ ایک ہاتھ ہلاتے ہیں، اور اس پر توجہ دیتے ہیں تو اس ہاتھ میں آپ کا روح اور دماغ ہونا چاہیے۔ جب یہ تین چیزیں ایک سمت میں ہوں تو زندگی کا مزہ آتا ہے۔زندگی کا لطف آتا ہے۔ کیونکہ یہ آپ کو ماضی اور حال کی سوچوں سے آزاد کرتاہے۔‘

شہناز من اللہ کا کہنا ہے کہ یوں تو ہر شخص چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے اور مذہب سے ہو، اس کو یوگا ورزش کرنی چاہیے تاہم ان کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کی اکثریت  نے بہت دکھ درد جھیلا ہےجس سے ان کے اعصابی نظام پر سخت منفی  اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

’یہاں پر کیا کیا مصیبتیں لوگوں  پر آئی ہیں لیکن ان کی رہنمائی کرنے والا نہیں ہے کہ اس سٹریس سے خود کو نکالنا کیسے ہے۔ تو اس یوگا کو آپ خواہ ایک علاج سمجھیں یا ریلیف۔  لیکن اس میں ہم سانسوں کی جو مشقیں سکھاتے ہیں اس سے ان کے سالہا سال کا سٹریس نکل جاتا ہے۔‘

یوگا کی ماہر شہناز من اللہ مزید کہتی ہیں ’جب آپ ماضی میں جاتے ہیں تو جسم گرم ہوجاتا ہے اور جب آپ مستقبل میں جاتے ہیں تو آپ کا جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہم پوری زندگی اپنے جسم کے ساتھ کررہے ہوتے ہیں جس سے جسم بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو یوگا آپ کو ان سب سے بچاتا ہے۔ اور آپ پرسکون ہوجاتے ہیں۔ یہی طمانیت آپ کو خوشی عطاکرتی ہے۔اور زندگی کا مقصد واضح ہوجاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت