’مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر‘

سوال تو وہیں موجود ہے کہ ڈھائی سال کی ننھی کلی کو دیکھ کسی میں ایسے جذبات کیسے جاگ سکتے ہیں؟ کیا کوئی دانشور اس سوال کا جواب ڈھونڈ کر لا سکتا ہے۔

اس کی ماں نے اس کے سنہرے ریشمی بالوں میں کنگھی کی ہو گی۔ اس کے سیب کی طرح لال گالوں کو چوما ہو گا تو اسے علم نہ ہوگا کہ یہ کومل چہرہ اور پھول سے ہاتھ پاوں اسے دوبارہ چومنے کو نہ مل پائیں گے۔

اس ڈھائی سالہ بچی نے جس کا نام زینب بتایا جا رہے مرتے وقت اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا تھا۔ تبھی میڈیا پر اس ننھی منی کلی کی تصویریں اسی طرح جاری کی گئی ہیں۔ نامعلوم اس نے یہ اپنا پھول سا بازو اپنی آنکھوں پر خود کو دنیا سے چھپانے کے لیے رکھا ہے یا اس بےرحم دنیا کو اپنی آنکھوں سے اوجھل کرنے کے لیے۔ یا پھر شاید جو کچھ اس پر بیت رہی تھی اس کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے کیونکہ عام طور پر دو سال کے بچے اس انداز سے نہیں سوتے۔

بچپن میں سنتے تھے کہ جب کہیں پر کوئی قتل ہوتا ہے یا بہت ظلم ہوتا ہے تو آسمان لال ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو نہ آسمان سرخ ہوا نہ ہی لال آندھی آئی۔ دنیا ویسے ہی چل رہی ہے۔ قیامت کیوں نہ آگئی۔ سب خاموش۔۔۔ سب کو اپنی یا اپنی سیاست کی پڑی ہے۔

ایسے میں درندوں کے ہاتھوں مسلی جانے والی کلی کی کس کو خبر؟ دو سالہ ایلان کردی کی لاش ترکی کے ساحل پر اوندھی پڑی ملی تھی تو پوری دنیا کے اخبارات کی شہہ سرخی بنی تھی۔ جرمنی نے پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے کیونکہ وہ باضمیر قومیں ہیں جن کے دل میں صرف اپنے نہیں دوسرے کے بچوں کا درد بھی ہے۔ ڈھائی سالہ زینب کی لاش ایلان کی طرح اوندھی نہیں سیدھی پڑی ہے لیکن اس کی آنکھوں کو ڈھانپے اس کا ہاتھ دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔

ڈی ایچ کیو چارسدہ کی میڈیکل آفیسر نے بتایا کہ بچی کے جسم پر تشدد اور زخموں کے نشان بتا رہے ہیں کہ بچی کو نہایت بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا ہے۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ بچی کو 6 اکتوبر کو اغوا کیا گیا تھا لیکن کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ بچی کو ڈھونڈنے کے لیے کیا کوششیں کی گئیں۔

پاکستان میں کوئی ایسا مکینزم ہی نہیں ہے کہ اگر کوئی بچہ اغوا ہو جائے تو پورے شہر کو الرٹ کیسے کیا جا سکے۔ امریکہ اور چند دیگر ممالک میں ایمبر الرٹ کا نظام ایسا شاندار ہے کہ بچے کے اغوا ہوتے ہی شہر کے ہر فرد کے موبائل پر الارم بجنے لگتا ہے جس کے ذریعے پولیس کی طرف سے لکھا ہوا پیغام بھیجا جاتا ہے کہ کس جگہ کوئی بچہ اغوا ہوا ہے اور کون سے گاڑی پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان ممالک میں وال مارٹ جیسے بڑے سٹورز اور شاپنگ مال پر ان بچوں کی تصاویر آویزاں ہوتی ہیں جو اغوا شدہ ہوتے ہیں اور ان کی بھی جو بازیاب ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بڑے کاروباری ادارے اور گروپس بچوں کی تلاش میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔

آخر ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام رائج کیوں نہیں کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ہمارے ترجیح نہیں ہیں اور غریب کا بچہ تو لاوارث ہوتا ہے جو حکومت کیا اپنے ماں باپ کی بھی ترجیح نہیں ہوتا۔

پیمرا کی طرف سے حکم ہے کہ موٹر وے واقعے پر نہ تو قلم اٹھایا جائے نہ ہی آواز کہ اس سے پولیس کی رہی سہی عزت خاک میں ملنے کا امکان ہے کہ اب تک ایک ملزم نہ پکڑ سکی ۔ ملزم عابد یقینا بہت خوش ہو گا کہ سب کچھ ٹھنڈا پڑ گیا۔ کچھ ہی دن میں لوگ سب بھول بھال جائیں گے۔ حیلے بہانوں سے اس طرح کے واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر حکومت  اسی طرح کے حیلے تراشتی ہے۔

جو سرکار بھی آتی ہے ایسے معاملات میں اس کے یہی چال چلن ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے قصور کی زینب کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے زمین و آسمان ایک کر دیا تھا نہ جانے آج وہ کہاں ہیں۔ کیا کوئی ہے جو پوچھے کہ موٹروے واقعے کی کوریج پر پابندی لگا کر آپ ملزم کی شناخت چھپا رہے ہیں یا ملزم کو چھپا رہے ہیں۔

اگر یہی قانون تمام جرائم پر لاگو کریں گے تو میڈیا ریاست کے ایک ستون کے طور پر جرائم کو سامنے لانے میں جو کردار ادا کرتا ہے اس سے محروم ہو جائے گا۔ موٹر وے کے سانحے میں متاثرہ خاتون نے جب زینب کی بے آسرا چھوٹی سی لاش جنگل میں پڑی دیکھی ہوگی تو نہ جانے ان کے دکھ میں اضافہ ہوا ہو گا یا زینب نے ان کا درد بانٹ لیا ہو گا۔ شاید ان کو اس چیز کا احساس ہوا ہو کہ بدقسمت تو تھیں کہ ایک غلط جگہ غلط مقام اور غلط نظام کا شکار ہو گئیں لیکن وہ کم از کم  ننھی زینب جیسی بد قست نہیں تھیں جس کے پھول جیسے جسم کے ساتھ اندوہ ناک سلوک کر کے سینہ اور پیٹ چاک کر دیا ہو۔  شاید وہ اب شکر کرتی ہوں کہ ان کے بچے محفوظ رہے، زینب بننے سے بچ گئے۔

خبر یہ ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے مجرموں کی گرفتاری کے فوری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کاش وہ یہ ہدایات بچی کے اغوا کے فورا بعد اس کی بازیابی کے لیے جاری کرتے تو شاید زینب آج زندہ ہوتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بسکٹ کا اشتہار تو خیر اس معاشرے میں کیا عریانی پھیلاتا مگر ڈھائی سالہ زینب کی اس تصویر نے اس معاشرے اور یہاں کے نظام کو عریاں کر کے رکھ دیا ہے۔ ٹی وی کے اشتہاروں، گانوں، فلموں اور رقص کو برائی کا سسب قرار دینے والوں سے سوال ہے کہ ڈھائی سالہ بچی کے لباس میں ایسی کیا خرابی ہو گی کہ وہ اس سلوک کی مستحق ٹھہری۔ ہمارے ملک کے دانشور کسی بسکٹ کے اشتہار کی ٹوہ میں رہتے ہیں کوینکہ ان کے کندھوں پر یہ ذمے داری آن پڑی ہے کہ اس معاشرے کو عریانیت سے نجات دلانی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک بہن یا بیٹی پوری آستین کا نہایت مناسب لباس پہن کر کرکٹ کھیلے تو فحاشی سات گز کا گھاگرا اور چنری پہن کر ثقافتی رقص کر لے تو معاشرے کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے جبکہ ایک باڈی بلڈر مرد انتہائی مختصر لباس میں ورزش کرے یا کبڈی کا کھلاڑی لنگوٹ باندھ کر اکھاڑے میں اترے تو ملک کا فخر کہلاتا ہے۔ یہی دانشور ان کے جسمانی خدوخال کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں تو کیا شرم حیا صرف عورت ہونے تک محدود ہے۔۔۔۔۔

لیکن سوال تو وہیں موجود ہے کہ ڈھائی سال کی ننھی کلی کو دیکھ کسی میں ایسے جذبات کیسے جاگ سکتے ہیں؟ کیا کوئی دانشور اس سوال کا جواب ڈھونڈ کر لا سکتا ہے۔

زہرہ نگاہ کہتی ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا۔۔۔۔

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

 تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر

کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے

۔۔۔۔

کسی لکڑی کے تختے پر گلہری سانپ بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا! منصف و اکبر

مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین