قبائلی اضلاع میں لوگ عدالتوں اور جرگوں سے مایوس: رپورٹ

قبائلی اضلاع میں زمینوں کا ملکیتی ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے عدالتیں فیصلہ نہیں کر پاتیں: مہمند سے رکن صوبائی اسمبلی۔

وانا کے نواح میں مسلح قبائلی افراد جرگےمیں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے قبائلی اضلاع میں پولیس، عدالتی نظام اور جرگوں سے مایوس لوگ اپنی زمینوں کے تنازعات کا پرتشدد حل ڈھونڈنے پر مجبورہو گئے ہیں۔

لوگوں کے پاس زمینوں کا ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے تنازعات عدالتوں سے حل نہیں ہو رہے، تنیجتاً وہ مقامی جرگوں سے رجوع کر رہے ہیں کیونکہ جرگہ اچھا ہو یا برا، فیصلہ تو سناتا ہے۔

ضلع مہمند سے رُکن صوبائی اسمعبلی عباس الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قبائلی اضلاع میں عدالتوں نے زمینی تنازعات کو حل کرنے کی بجائے مذید متنازع بنا دیا ہے کیونکہ عدالت زمین کے انتقال کے کاغذات اور دوسرا ریکارڈ مانگتی ہے جو کسی کے پاس موجود نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جو لوگ تنازع ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ جرگے کے پاس جاتے ہیں اور جو جرگے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو وہ عدالتوں کا رُح کرتے ہیں اور زمین کو متنازع بنا کر زمین کے اصل مالک کو معاملے میں پھنسا دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زمین کے اصل مالک کے پاس بھی ریکارڈ نہیں ہوتا اور نہ ہی دعویٰ کرنے والے کے پاس، لہٰذا زمین کے اصل مالک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقدمے کو جرگے کے پاس لے جائے تاکہ کوئی ان کا حق نہ چھین سکے۔ دوسری طرف دعویٰ کرنے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مقدمے کو متنازع بنایا جائے اور مقدمے کو جرگے کی بجائے عدالت میں لے جایا جائے تاکہ مستقبل قریب میں فیصلہ آنے کی اُمید بھی ختم ہوجائے۔

وانا سے تعلق رکنے والے محمد انور کا کہنا تھا کہ جرگوں نے وکیلوں سے بھی زیادہ فیس لینا شروع کر دی ہے، ہر تھانے میں ڈی آر سی کے نام سے موجود مشیران اور پولیس اہلکار فریقین سے 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک روپے وصول کرتے ہیں۔

قبائلی اضلاع میں زمینوں کے تنازعوں کی روشنی میں کچھ عرصہ پہلے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اجلاس میں لینڈ ریکوزیش ایکٹ کو فوری طور پر نافذ کرنے پر زور دیا گیا تھا مگر ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا اور معاملات کو تھانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وانا سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما امان اللہ نے، جو خود ڈی آر سی کا حصہ رہے ہیں، انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ پولیس تھانوں میں غیر قانونی جرگے ہو رہے ہیں، جو فریق زیادہ پیسے دیتے ہیں فیصلہ ان کے حق میں کر دیا جاتا ہے۔ ‘دوسری طرف جرگے والے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، ہر پولیس افسر نے کمیشن ایجنٹس رکھے ہوئے ہیں اور وہ ان ایجنٹوں سے فیصلے کرواتے ہیں۔’

ایک قبائلی امیر حمزہ کا کہنا تھا کہ جب انصاف نہ ملے تو لوگ اسلحہ اُٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں، گذشتہ ایک سال سے مختلف قبائلی علاقوں میں لوگ زمینوں کے تنازعات پر ایک دوسرے کے خلاف اسلحے کا استعمال کررہے ہیں۔ ‘ہر قبائلی ضلعے میں عدالتوں سے مایوس ہونے والوں نے آپس میں جھگڑے شروع کر دیے ہیں۔’

امان اللہ کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے مایوسی کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ جج اپنے اضلاع سے دور دراز علاقوں میں مقدمات سن رہے ہیں، انہیں معمولی سے مقدمے کی سماعت کی خاطر دوسرے اضلاع میں جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وانا ٹانک سے 200 کلومیٹر دور ہے اور وانا کے سول جج ٹانک میں تعینات ہیں۔   

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان