اساتذہ کو سٹوپڈ نہیں آئیڈئیے کو حماقت کہا: صوبائی وزیر تعلیم

اپنی متنازع ٹوئیٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے سٹوپڈ کا لفظ استعمال نہیں کیا میں نے تو جاہل لکھا ہے۔' مگر پھر مراد راس مان بھی گئے کہ انہوں نے سٹوپڈ لفظ استعمال کیا، ان کا کہنا تھا: 'میں نے اساتذہ کو نہیں بلکہ ان کے آئیڈیا کو حماقت کہا ہے۔'

(سوشل میڈیا)

وزیر برائے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب مراد راس نے گذشتہ دنوں سرکاری اساتذہ کے حوالے سے ایک ٹویٹ کی جو سکولوں میں سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو درست کرنے کی بات کررہے ہیں۔

مراد راس نے اپنی اس ٹویٹ میں لکھا ' سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کچھ جاہل لوگ چاہتے ہیں کہ میں سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو کا خاتمہ کر دوں اور اساتذہ کا ایسی جگہ سے جہاں ان کی ضرورت ہے، تبادلہ کر دوں، ان جگہوں پر، جہاں ان کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سراسر حماقت ہے۔ جو بھی ایس ٹی آر کے خلاف ہے اسے یہ شعبہ چھوڑ دینا چاہیے۔'

مراد راس کی اس ٹویٹ کو متعلقہ حلقوں نے کافی تنقید کی نظر سے دیکھا۔ اور ان کی ٹویٹ کے جواب میں مختلف ٹویٹر صارفین نے یہ اعتراض کیا کہ مراد راس صوبائی وزیر تعلیم ہیں مگر اپنی ٹویٹس میں جو زبان استعمال کر رہے ہیں وہ ان کے عہدے کو زیب نہیں دیتی۔

جبکہ اساتذہ کے حلقوں میں بھی کافی غم و غصہ پایا گیا کہ وزیر تعلیم نے اساتذہ کو جاہل اور احمق کہا ہے۔

مراد راس کی اس ٹویٹ کے حوالے سے انڈپینڈینٹ اردو نے جب ان سے رابطہ کیا تو پہلے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ انہوں نے اپنی کسی ٹویٹ میں 'سٹوپڈ' (احمق) کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'میں نے سٹوپڈ کا لفظ استعمال نہیں کیا میں نے تو جاہل لکھا ہے۔' مگر پھر مراد راس مان بھی گئے کہ انہوں نے سٹوپڈ لفظ استعمال کیا، ان کا کہنا تھا: 'میں نے اساتذہ کو نہیں بلکہ ان کے آئیڈیا کو حماقت کہا ہے۔' جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے دریافت کیا کہ آخر اساتذہ کا مسئلہ کیا ہے تو ان کو جواب تھا، ' ان کے تو مسائل ہی نہیں ختم ہوتے۔'

ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا ذاتی ٹویٹراکاؤنٹ ہے اور اس پر تعلیم سے متعلقہ معلومات وہ صرف لوگوں کی آگاہی کے لیے پوسٹ کرتے ہیں۔'

ان  کی ٹیوٹ سے اساتذہ کی ہونے والی دل آزاری کے حوالے سے صوبائی وزیرتعلیم بولے: 'یہ ایک بہت ہی بیکار بحث ہے کوئی اساتذہ پریشان نہیں ہیں۔ ان کا ایس ٹی آر کا آئیڈیا انتہائی احمقانہ ہے اور میں نے بھی اس آئیڈیا کو احمقانہ کہا ہے، انہیں میری ٹویٹ سمجھ میں نہیں آئی، انگریزی تو سمجھیں پہلے میری۔' سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو 60 بچوں پر ایک ٹیچر نہیں بلکہ 40 بچوں پر ایک ٹیچر ہے۔ اب اگر انہیں یہ ریشونہیں معلوم تو ان کو ٹیچر نہیں ہونا چاہیے۔ ان اساتذہ کو تو آج تک کسی نے پوچھا نہیں ہے جتنا میں نے ان کے لیے کیا ہے وہ کسی نے نہیں کیا۔ میں نے ان کی زندگیاں آسان کیں ہیں اوراگر میں ان کے ایس ٹی آر کے آئیڈیا پر جاؤں گا تو میں احمق ہوں گا۔ ان کا دل چاہ رہا ہے کہ ہم وہاں سے اساتذہ نکالیں جہاں ان کا اپنا چاہ رہا ہے جانے کو۔ میں نے 11 ہزاران اساتذہ کومختلف سکولوں میں بھیجا ہے جو حکومت سے تنخواہیں لے رہے تھے، بیٹھ کر روٹیاں توڑ رہے تھے اور کچھ بھی نہیں کر رہے تھے۔ ان کو میں نے کام پر لگایا ہے۔ یہ اب شور اس لیے مچا رہے ہیں کہ وہ پکڑے گئے ہیں اور  انہیں سکولوں میں جا کر پڑھانا پڑے گا۔'

ایس ٹی آر ہے کیا؟

پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: 'ایس ٹی آر کا مطلب یہ ہے کہ ایک جماعت میں بچوں کی تعداد ایک استاد کے لیے کتنی ہونی چاہیے؟

بین الاقوامی معیار کے مطابق پرائمری لیول پر ایک ٹیچر کے پاس 25 سے 30 بچے ہونے چاہئیں۔ سیکنڈری میں 30 سے 35 یا 40۔ اس سے اوپر نہیں جانا چاہیے۔

سرکاری سطح پر ہمارے ایسے ہزاروں پرائمری سکول ہیں جہاں پر صرف تین، دو یا ایک استاد ہے۔ جبکہ بچے کہیں 20، 60 یا 70 ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ایک پرائمری سکول میں چاہے بچے 60 ہیں یا 200 ہیں وہاں پر کلاسیں آپ کی پانچ یا چھ چلیں گی۔ اس کے لیے حکومت ہمیں کم از کم چھ اساتذہ ضرور دے۔  مگر حکومت کہتی ہے کہ جہاں 80 بچے ہوں گے وہاں وہ ہمیں تین استاد دیں گے اور 80 کے بعد جب وہاں 130 بچے ہو جائیں گے توحکومت ہمیں ایک استاد مزید دے گی۔

ہم کہتے ہیں کہ اگر 50 بچوں کا بھی سیکشن بنے گا توان کو کلاس میں بٹھانا ہی ممکن نہیں ہے۔ نہ گنجائش ہے نہ اتنا فرنیچرہے۔ اگر آپ 20 یا 25 کا سیکشن نہیں بنا سکتے تو آپ 30 یا 35 سے اوپر نہ جائیں۔ مڈل اور ہائی سکول کے لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک سیکشن میں بچوں کی تعداد 40 سے زیادہ نہ ہو۔ جبکہ ہرسیکشن کے کم از کم پانچ استاد ہوں۔ جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ ایک سیکشن 50 یا 60 بچوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ اور ساتھ کہتے ہیں کہ 60 بچوں پر ایک ٹیچر دیں گے۔'

رانا لیاقت کہتے ہیں کہ 60 بچوں پر ایک استاد کی ریشو وزیر تعلیم نے مقرر کی ہے  'ان سے پہلی حکومت میں یہ ریشو 40 سے 50 تھی لیکن اس وقت بھی ہمارا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کے لیے ہمیں بین الاقوامی معیار کو اپنانا چاہیے۔ بس اوور لوڈڈ ہو گی تو اس کے حادثے کا بھی قریبی امکان ہے۔'

مراد راس 60 بچوں پر ایک ٹیچر کی ریشو سے انکار کر چکے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ ریشو 40 بچوں پر ایک استاد کی ہے۔

اس حوالے سے پنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز پنجاب کے صوبائی صدر کاشف شہزاد چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: مراد راس جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ انہوں نے غیر دستخط شدہ ایک نوٹفیکیشن نکالا تھا۔ غیر دستخط شدہ نوٹیفیکیشن نکالنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ دستاویز کورٹ میں چیلنج نہ ہوجائے۔ اسی حوالے سے رانا لیاقت نے بھی اانڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس دستاویز پر حکومت کے کسی عہدیدار کے دستخط نہیں ہیں جبکہ یہ نوٹیفیکیشن  راولپنڈی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے اور اس پر سماعت بھی ہوئی تھی۔ جس میں معزز جج نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر برہمی کا اظہار کیا۔ اور انہوں نے اساتذہ کی تعداد بھی کم از کم چار کرنے کا حکم دیا تھا۔'

وزیر تعلیم کی ٹویٹ کے حوالے سے رانالیاقت کا کہنا ہے: 'مراد راس نے کہا کہ جو ایس ٹی آر کو ختم کرنے کی بات کر رہا ہے وہ احمق ہے۔ ہمارا موقف یہ کہ یہ بے وقوفی کی بات نہیں ہے ہم تو آپ کو اس کا جواز پیش کر رہے ہیں کہ آپ پوری دنیا کے تعلیمی معیار کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھیں کہ ان کا ایک سیکشن کتنے بچوں پر مشتمل ہوتا ہے؟ ان بچوں کو کیا سہولیات دی جاتی ہیں؟ آپ ہمیں وہ سہولیات نہیں دے سکتے تو کم از کم کلاس کا حجم تو کم کر دیں۔ مڈل اور ہائی سکول میں آپ 40 سے 45 بچوں سے اوپر نہ جائیں اور پرائمری میں 25 سے30 بچےہوں۔ جیسے جیسے 25 بچوں کی تعداد مزید شامل ہوتی ہے اس پر ایک نیا ٹیچر آپ اس سکول میں دیتے جائیں۔ اور ہائی سکول میں 40 کے اوپر تعداد جائے تو اس حساب سے نئے اساتذہ دیتے جائیں۔'

رانا لیاقت کے خیال میں: 26ماہ گزر چکے ہیں اور وزیر تعلیم نے جو کام کرنے کے دعوے کیے تھے وہ کر نہیں پائےاور وہ ذہنی دباؤ کاشکار ہیں اسی لیے وہ اپنا غصہ یوں نکال رہے ہیں۔

کاشف شہزاد چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو کو یہ بھی انکشاف کیا کہ اس وقت پنجاب کے سرکاری سکولوں میں78 ہزار سینکشنڈ سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ جن میں سے گریڈ 17 سے 20 تک کی تقریباً چھ ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ ڈھائی ہزار کے قریب سکول گزشہ دو ماہ سے ہیڈ ماسٹر کے بغیر چل رہے ہیں کیونکہ یہ حکومت دو برس سے ترقیاں نہیں دے رہی۔ ان سیٹوں کے علاوہ 70 سے 72 ہزار آسامیاں بچتی ہیں جن میں گریڈ 14، 15 اور 16 کی جگہیں خالی ہیں ان میں سے 50 فیصد پروموشن کی اسامیاں ہیں اور اگر یہ پروموشن کرتے ہیں تو پرائمری سکول کی 40 ہزار کے قریب آسامیاں خالی ہوجائیں گی۔'

اس پر رانا لیاقت کا کہنا تھا: 'پنجاب میں 70ہزار کے قریب سرکاری سکول ہیں 78 ہزارآسامیاں تو ایک دو مہینے پہلے کی بات ہے۔ میرے حساب کتاب کے مطابق صوبے کے کچھ اضلاع میں تقریباً 20 سے 25 ہزار اساتذہ نے  ریٹائرمنٹ لی ہے۔ جس کے بعد قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر بھی انہوں نے پابندی لگا دی ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ فرض کریں کہ 'میرے سکول میں 20 اساتذہ کی سیٹیں ہیں مگر ان میں سے کچھ خالی ہیں۔ میں حکومت سے سالانہ بجٹ 20 اساتذہ کا ہی مانگوں گا کہ اگر سال کے بیچ کوئی نیا استاد آجائے تو اس کی تنخواہ کا مسئلہ نہ ہو۔ اب یہ بھی فرض کریں کہ ان سیٹوں کے عوض مجھے دو کروڑ روپے کا سالانہ بجٹ ملا۔ میرے پاس توکچھ سیٹیں خالی ہیں تو ظاہری بات ہے بجٹ کی رقم بچ گئی۔ اب حکومت یہ کرتی ہے کہ ان سیٹوں کو پر نہیں کرتی اور ظاہر یہ کرتی ہے کہ انہوں نے پیسہ بچایا ہے اور اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے ایس ٹی آر کو بڑھا دیا جاتا ہے۔'

'دوسری طرف کاشف شہزاد چوہدری کہتے ہیں: مراد راس کہتے ہیں کہ ہم ریشنلائزیشن کر کے سٹاف کی کمی کو پورا کر دیں گے۔ (یعنی جس سکول میں اساتذہ کم ہیں وہاں پر دوسرے سکولوں سے ٹیچر کو شفٹ کردینا)۔ مراد راس کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم ریشنلائزیشن سے اساتذہ کی 90 فیصد کمی کو پورا کر دیں گے مگر دراصل یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ اتنے اساتذہ سرپلس نہیں تھے۔ اسی لیے انہوں نے ایس ٹی آر بڑھا کر 60 کر دیا تاکہ اپنی بات کو سچ ثابت کر سکیں۔ ایس ٹی آر بڑھانے سے ہر جماعت میں 20 بچوں کا اضافہ ہو گیا۔ اور سکولوں میں اساتذہ سرپلس نظر آنا شروع ہو گئے۔ ہم نے کبھی مطالبہ نہیں کیا کہ حکومت ایس ٹی آر ختم کر دے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایس ٹی آر کو منطقی بنائیں۔ اس بات سے ان کو چڑ ہے کہ جو بات یہ کہہ چکے ہیں کہ میں اساتذہ کی کمی بغیر پیسے خرچ کیے پوری کر رہا ہوں وہ نعرہ ان کے گلے پڑ جاتا ہے اپنی اسی بات کے درست ہونے کے جواز میں یہ الٹے سیدھے کام کرتے ہیں۔ ہم ان کی انہیں پالیسیوں کے خلاف 4 نومبر کو سول سیکرٹیریٹ پنجاب  کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور دھرنا بھی دیں گے۔'

وزیرتعلیم مراد راس کی ٹویٹس پر سرکاری سکولوں کے اساتذہ تو نالاں ہوئے ہی مگر آل پاکستان پرائیویٹ سکولزفیڈریشن کے صدر کاشف مرزانے بھی سخت غصہ کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'اساتذہ تو والدین کی طرح ہوتے ہیں۔ مراد راس ایک بد تہذیب انسان ہیں جنہیں یہ ہی نہیں معلوم کہ باپ کے لیے کیا الفاظ استعمال کرنے ہیں۔' ان کا کہنا تھا: 'وزیر تعلیم مراد راس پہلے بھی اس قسم کے الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ جب سے یہ آئے ہیں تب سے یہ بدتمیزی کرتے چلے آرہے ہیں اور اساتذہ چاہے وہ پبلک سیکٹر سے ہوں یا پرائیویٹ یہ ان کے لیے غلط زبان استعمال کرتے ہیں۔ ان کے فیصلے اور ٹویٹس ہمارے لاکھوں بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مراد راس اس عہدے کے لائق نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہیے وہ ان کو کہیں اور لگا دیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان