ہلالِ پاکستان اعزاز حاصل کرنے والے جو بائیڈن کی پاکستانی کے لیے کیا پالیسی ہوگی؟

امریکہ میں مقیم اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بائیڈن نتظامیہ پاکستان کے ساتھ بہت فعال ہو گی، بالخصوص افغانستان کے مسئلے پر۔

جو بائیڈن کو 2011 میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز ا گیا۔ (اے ایف پی)

جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ 20 جنوری 2021 کو انہیں اقتدار کی منتقلی ہو جائے گی۔ اس دوران ان کی ابتدائی ٹیم اقتدار سنبھالنے کی تیاریاں شروع کر چکی ہے اور کابینہ اور مختلف اہم پوسٹوں پر تعیناتی کے لیے لوگوں کو چنا جا رہا ہے۔

تاہم امریکہ میں اقتدار کی یہ منتقلی اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ ہارنے والے صدر ٹرمپ نے ابھی تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی۔ اس صورت میں بائیڈن کو جہاں اپنی ٹیم منتخب کرنے کا چیلنج درپیش ہے وہیں انہیں ٹرمپ سے اقتدار لینے کے لیے قانونی چارہ جوئی کا راستہ بھی اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ مگر اس صورت حال کے باوجود 77 سالہ بائیڈن پر جوش ہیں اور انہوں نے اقتدار ہاتھ میں لینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

امریکہ کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجوں پر قریبی حلقوں سے مشاورت جاری ہے۔ چین، افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ اور شمالی کوریا کے حوالے سے وہ جو بھی پالیسی اپنائیں گے اس کے اثرات پاکستان پر پڑیں گے۔ اپنی الیکشن مہم کے دوران وہ مودی کی کشمیر پالیسی پر اپنے خدشات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ امریکہ کی نئی انتظامیہ پاکستان کے لیے کیسی رہے گی؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بائیڈن اپنی نائب صدارت کے دور میں پاکستان کے دوست کے طور پر سامنے آئے تھے اور انہیں پاکستان کا دوسرا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہلال پاکستان مل چکا ہے۔ اب جبکہ وہ صدر منتخب ہو چکے ہیں تو ان کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی کیسی ہو گی، انڈپینڈنٹ اردو نے یہ سوال امریکہ میں موجود پاکستان کے نامور تجزیہ نگاروں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے اس کا کیا جواب دیا وہ جانتے ہیں:

ڈاکٹر حسن عباس امریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ پاکستان کے ساتھ بہت فعال ہو گی، بالخصوص افغانستان کے مسئلے پر۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم واشنگٹن میں ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ رکھنے والے جنوبی ایشیا کے ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ پاکستان طالبان کا حمایتی ہے اور کشمیر میں جیش محمد جیسے جنگجو گروپوں کا سرپرست ہے۔ بائیڈن انتظامیہ پاکستان کے ساتھ ٹرمپ کے دور سے آگے کا سفر شروع کرے گی اور افغانستان سے اگر امریکہ کی فوجوں کا انخلا ہوتا ہے تو مستقبل میں انسداد دہشت گردی کے لیے پاک امریکہ تعاون زیادہ حساس ہو جائے گا۔ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت کے لیے اس کی سیکورٹی خدشات کو اہمیت دینی ہو گی۔

انور اقبال واشنگٹن میں ڈان گروپ کے نمائندہ ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان کے حوالے سے اس لیے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ واشنگٹن کو افغانستان میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جب وہ افغانستان سے نکلے تو فوری طور پر وہاں کوئی بحران نہ آئے اگر ایسا ہوا تو امریکہ کی بدنامی ہو گی کہ اس نے افغانستان کو کمزور کیا۔

پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت تبدیلی ایران کے حوالے سے ہو سکتی ہے۔ بائیڈن ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنائیں گے اور ہو سکتا ہے پابندیاں بھی اٹھا لیں جس سے پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت بحال ہو سکتی ہے، اسے ایران سے تیل اور گیس مل سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ نے چین کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دے رکھا ہے وہ سی پیک کا بھی مخالف ہے لیکن پہلے وہ کون سا پاکستان کو کوئی امداد دے رہا ہے اور اب تو کرونا کی وجہ سے اس کی معیشت اس قابل رہی بھی نہیں کہ وہ کسی ملک کی امداد اگلے دو چار سالوں میں کر سکے۔

عظیم ایم میاں جنگ گروپ سے وابستہ سینیئر صحافی ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کوئی امریکی صدر ایسا نہیں آیا جو بائیڈن سے زیادہ پاکستان اور خطے کو سمجھتا ہو کیونکہ بائیڈن سینیٹ کی فارن ریلیشنز کونسل کے چیئرمین رہ چکے ہیں جن کو گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے معاملات چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری وہ براہ راست دیکھنے کا تجربہ ہے، اس لیے وہ پاکستان یا خطے سے متعلق پالیسیوں پر اپنے سیکریٹری آف سٹیٹ یا کسی اور ادارے کے محتاج کم ہوں گے اور اپنی رائے براہ راست دیں گے۔

’دوسرا یہ کہ انڈیا کے ساتھ جو معاہدے ٹرمپ کے دور میں ہو چکے وہ برقرار رہیں گے لیکن پاکستان کی لیڈر شپ اگر قابل ہو تو وہ خطے میں بیلنس آف پاور کے لیے امریکہ سے کچھ حاصل کر سکتی ہے۔ دوسری طرف چونکہ چین کے ساتھ امریکہ کی دشمنی ہے اس لیے جو کچھ چین کے خلاف ہو گا اس کے اثرات بھی پاکستان پر پڑیں گے۔‘

ڈاکٹر سمیع اللہ خان لاشاری ٹیکسس یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ ’واشنگٹن میں اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ افغانسان میں امن کا قیام پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اس لیے بائیڈن انتظامیہ کے لیے بھی پاکستان کی اہمیت برقرار رہے گی۔ لیکن دیکھنا یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنے کارڈ کس طرح کھیلتا ہے کیونکہ اس سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ہماری ضرورت تھی اور اگر مشرف چاہتے تو کشمیر کے مسئلے کا حل اور پاکستان کے لیے نیوکلیئر سٹیٹس لے سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

’الیکشن مہم میں بھی بائیڈن کشمیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ کاملا ہیرس کی ماں انڈین ہے اس لیے وہ سماجی اور ثقافتی طور پر بھی اس مسئلے کو بہتر طور بائیڈن انتظامیہ کو سمجھا سکتی ہیں۔ یہ سمجھنا کہ وہ انڈیا کی حمایت کریں گی ایسا نہیں ہے کیونکہ وہ پہلی غیر سفید فام خاتون نائب صدر ہیں اس لیے وہ بہت زیادہ محتاط ہوں گی۔ بائیڈن کا پاکستان کے حوالے سے تاثر مثبت ہے وہ نائب صدر کے طور پر پاکستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور ہلال پاکستان بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ڈیموکریٹس ویسے بھی تاریخی طور پر مکالمے، معاملات کے حل اور تجارت پر فوکس کرتے ہیں اس لیے پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کا ایک سافٹ امیج بنا ہے کہ وہ بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے چلا رہا ہے اس طرح کے منصوبوں کے لیے اسے فنڈنگ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔‘

آفاق فاروقی امریکہ سے نکلنے والے ہفت روزہ پاکستان پوسٹ کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ بائیڈن کو افغانستان میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے شدید خدشات ہیں مگر پھر بھی مثبت بات یہ ہے کہ وہ انڈیا کے حمایتی ہونے کے باوجود مودی کے مخالف ہیں کیونکہ کشمیر کے سٹیٹس کے مسئلے، وہاں لاک ڈاؤن اور بھارت میں اقلیتوں سے انتہائی غیر مساویانہ سلوک کا ذمہ دار وہ مودی کو سمجھتے ہیں۔ دوسری مثبت بات یہ بھی ہے کہ ایسے پاکستانی یہاں پر ہیں جو گذشتہ 30 سال سے بائیڈن کے انتہائی قریب رہے ہیں اور وہ کوئی بھی بات بائیڈن تک پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی خدمات سے فائدہ اٹھائے۔

کاملا ہیرس جب صدر کے طور پر اپنی مہم چلا رہی تھیں تو ان کی نیشنل کمپین کے شریک چیئرمین ایک پاکستانی ڈاکٹر آصف محمود تھے جو ان کے انتہائی قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود کا کمال یہ بھی ہے کہ کشمیر ایشو پر جتنے کانگریس مینوں نے بھارت کے خلاف بیانات دیے ان میں ڈاکٹر آصف محمود کا ہاتھ تھا حتیٰ کہ کانگریس میں بھارتی کاکس کے چیئرمین ہیوسٹن میں مودی کے جلسے میں اس لیے نہیں گئے کہ کشمیر پر وہ مودی کی پالیسی سے متفق نہیں تھے اور اس میں بھی ڈاکٹر آصف کا ہی کردار تھا۔

شہاب قرنی واشنگٹن میں کمیونٹی چینل ’آئی 95‘ کے چیف ایگزیکٹیو اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بائیڈن کے صدر بننے سے پاکستان کے حوالے سے جو اہم تبدیلی آئے گی وہ یہ ہے کہ بائیڈن سول سپرمیسی پر یقین رکھتے ہیں اور کیری لوگر بل میں بھی بائیڈن نے ہی اسے سول اداروں کی مضبوطی سے مشروط کیا تھا، جس کا خمیازہ حسین حقانی کو بھگتنا پڑا تھا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستانی اداروں کو اس کا اندازہ ہو چکا ہے ا س لیے بائیڈن کے صدر بننے کے بعد سے وہ حسین حقانی سے دن رات رابطے کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ غلط فہمی ہو گئی تھی، آپ جانے دیں اور پاکستان کے لیے بائیڈن کو قائل کریں۔

بائیڈن انتظامیہ امریکہ میں طاقتور عالمی جمہورتیں (گلوبل سمٹ آن سٹرانگ ڈیموکریسیز) کرانے جا رہی ہے جس میں دنیا کی دس مضبوط ترین جمہوریتوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور نام نہاد جمہوریتوں کے خلاف ایک اتحاد قائم کیا جائے گا جس میں انڈیا بھی امریکہ کا پارٹنر ہو گا۔ اس کانفرنس کا ہدف چین ہو گا اور ظاہر ہے کہ چین کے ساتھ پاکستان کو بھی شمار کیا جائے گا۔

’واشنگٹن پوسٹ میں ششی تھرور کے بیٹے اشان تھرور کے بیٹے کی سٹوری جسے احسن اقبال نے ٹویٹ کیا تو امریکی سفارت حانے نے ری ٹویٹ کر دیا، اس کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سٹوری اس پر ہے کہ ٹرمپ کی شکست دنیا میں شخصی آمروں کے لیے آفت ثابت ہو گی۔ پھر یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بائیڈن کی انتخابی مہم میں بلوم برگ اور جارج سورس نے سات سات کروڑ ڈالر عطیہ کیے۔ جارج سورس پورے مشرقی یورپ میں جمہوریتوں کا چیمپیئن کہلاتا ہے اس لیے بائیڈن اس لابی کے مخالف کوئی بھی قدم نہیں اٹھائیں گے۔‘

ڈاکٹر مونا کاظم شاہ ڈی ڈبلیو اردو کی امریکہ میں نمائندہ ہیں۔ انہوں نے  انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسیوں میں صدر کے ساتھ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگان اور دیگر اداروں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے اور عموماً یہ پالیسیاں دور رس ہوتی ہیں کسی پارٹی کے بر سر اقتدار آنے سے ان میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوتی۔ چونکہ امریکہ کو افغانستان کے لیے ہماری شدید ضرورت ہے اس لیے بائیڈن وہاں سے امریکہ فوجوں کے انخلا کا فیصلہ کرتے ہیں یا وہاں اپنی فوجیں رکھنے کا، ہر دو صورتوں میں انہیں پاکستان کی ضرورت ہو گی۔ لیکن جب انڈیا کا معاملہ آتا ہے تو انڈیا امریکہ کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اب چین کے خلاف اس کا فوجی اتحادی بھی ہے اس لیے انڈیا کی قیمت پر امریکہ کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کرے گا۔ پاکستان کو یہ نکتہ سمجھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے ہوں گے اور امریکہ جو ڈیزائن دے گا اسے قبول کرنا ہو گا۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ