پی ایس 5 یا ایکس باکس میں زیادہ بہتر کون ہے؟

کنسول گیمنگ کی نئی جنریشن پلے سٹیشن 5 ، ایکس باکس سیریز ایکس اور ایکس باکس سیریز ایس لانچ ہو چکے ہیں۔

صحیح معنوں میں ایکس بکس اور پلے سٹیشن دونوں نے اس بار اپنے کنسولز کے دو ورژن لانچ کیے ہیں۔ اس میں پلے سٹیشن 5 کا بغیر ڈسک ڈرائیو کے ایک آل ڈیجیٹل ورژن متعارف کرایا گیا ہے (اور اس کی قیمت 100 پاؤنڈ کم ہوگی) اس لیے آپ کو اپنی تمام گیم ڈاؤن لوڈ کرنی ہوں گی۔ پلے سٹیشن کا دوسرا ورژن معمول کی ڈسک ڈرائیو کے ساتھ ہے۔

دوسری جانب ایکس باکس سیریز ایکس اور ایس کے درمیان فرق زیادہ نمایاں ہے۔ ایس سیریز کا کنسول کم پاور کے ساتھ تھوڑا چھوٹا ہے تاکہ کچھ گیمز قدرے کم کارکردگی کے ساتھ چل سکیں۔

اگرچہ ان میں بہت زیادہ نئی گیم شامل نہیں کی گئیں لیکن دونوں کنسولز میں پرانے ورژن کے مقابلے میں بہت ساری اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جیسا کہ نئے ڈیزائن اور کافی حد تک بہتر کارکردگی۔

لیکن جو بات کم واضح ہے وہ یہ ہے کہ کون سا کنسول خریدنا سب سے بہتر ہے۔

کافی وقت لگانے کے بعد ہم نے یہ جانچنے کی کوشش کی ہے کہ مائیکروسافٹ یا سونی کے نئی جنریشن کے کون سے کنسول یہ جنگ جیت پاتے ہیں۔

اگرچہ پی ایس 5 اور ایکس بکس سیریز ایکس دونوں ہی پری آڈر پر لانچنگ کے بعد باضابطہ طور پر فروخت ہوچکے ہیں لیکن ہم کرسمس سے پہلے ان کی مزید فروخت کی توقع کر رہے ہیں۔

 ایکس بکس سیریز ایکس (قیمت 449.99 پاؤنڈ)

پرانے ورژن سے مطابقت: آپ نئے ورژن پر گذشتہ جنریشنز کی اور ایکس بکس ون کی تمام گیمز کھیل سکتے ہیں اور پرانی ایسیسریز جیسے کنٹرولر استعمال کرسکتے ہیں

ریزولوشن: 8K تک

فریم ریٹ: 120fps تک

سٹوریج: 1TB ایس ایس ڈی

 سی پی یو:  8 کور، 3.8 گیگا ہرٹز اے ایم ڈی زین ٹو

جی پی یو: 12.0 ٹیرا فلاپ، اے ایم ڈی  آر ڈی این اے ٹو

ریم: 16 جی بی GDDR6

پلے سٹیشن 5 (قیمت آل ڈیجیٹل:   349.99  پاؤنڈ۔  ڈسک ورژن: 449.99 پاؤنڈ)

پرانے ورژن سے مطابقت: آپ نئے ورژن پر صرف پی ایس 4 کی گیمز کرسکتے ہیں

ریزولوشن: 8K تک

فریم ریٹ: 120fps تک

سٹوریج: 825 جی بی ایس ایس ڈی

سی پی یو: 8 کور، 3.5 گیگا ہرٹز اے ایم ڈی زین ٹو

جی پی یو: 10.3 ٹیرا فلاپ، اے ایم ڈی  آر ڈی این اے ٹو

ریم: 16 جی بی GDDR6

پی ایس 5 بمقابلہ ایکس باکس سیریز ایکس: ڈیزائن

دونوں کنسولز کے بارے میں ان کی ظاہری شکل کے علاؤہ کچھ زیادہ واضح فرق نہیں ہے اور یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کنسولز عام طور پر کیا کر سکتے ہیں۔ ایکس بکس کے دونوں ورژن مستطیل شکل میں ہیں جو آپ کے ٹی وی کے نیچے چھپ جاتے ہیں اور انہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کسی کا ان پر دھیان نہیں جاتا۔ دوسری جانب پلے سٹیشن ایک بڑا، خم دار سلیب ہے جس کو چھپانا ناممکن ہے۔

آپ کو شاید اب تک پتہ چل چکا ہو گا کہ آپ کو PS5 کا ڈیزائن پسند ہے یا نہیں۔ یہ حقیقت میں بھی ایسے ہی نظر آتا ہے جیسے تصویروں میں، سوائے اس کی ان تمام متنازع خصوصیات کو جن کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بہرحال یہ اور بھی خم دار ہے۔ اوپری حصے پر اس کا خم چمگاڈر کے کانوں کی طرح باہر نکلے ہوئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جب یہ آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ اس روشن اور چمکدار سفید کنسول کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

لیکن جب تک آپ کا پلے سٹیشن کے ساتھ قریبی اور ذاتی تعلق نہیں بن جاتا اس وقت تک آپ اس کی جسامت کی حقیقی تعریف نہیں کر سکتے۔ اس پر کافی چرچا ہوا ہے اور پلے سٹیشن کی کمپنی اس حوالے سے بات کرنے میں شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتی لیکن کنسول کی اصل خوبصورتی آپ کو اس وقت تک متاثر نہیں کر سکتی جب تک کہ آپ اسے حقیقت میں نہ دیکھیں۔

اس کا سائز صرف خوبصورتی کی علامت نہیں ہے بلکہ ایک عملی نقطہ  بھی ہے یعنی آپ جہاں چاہتے ہیں اس کنسول کو ہر جگہ فٹ نہیں کر سکتے۔ خریدنے سے پہلے اپنی جگہ کی پیمائش کریں اور اگر یہ فٹ نہیں ہوتا ہے اس کی وجہ اس کا متنازع ڈیزائن ہو گا، ایسا نہیں بھی ہو سکتا ہے لیکن آپ کو توقع سے کہیں زیادہ اس کی نمائش کرنا پڑ سکتی ہے۔

دوسری طرف ایسا لگتا ہے کہ ایکس باکس نے اپنے کنسول کو غائب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ اگرچہ سفید ایکس باکس سیریز ایس بلیک ایکس باکس سیریز ایکس کے مقابلے میں قدرے زیادہ دلچسپ ہے اور دونوں کنسولز ایسے بکس دکھائی دیتے ہیں جو چھپنے کا اچھا کام کر سکتے ہیں۔

آخر کار یہ ایک ذاتی پسند ہے۔ دونوں ایکس بکس سیریز ایکس اور سیریز ایس شاید آپ کو زیادہ پریشان نہ کریں لیکن ان کا امکان بھی نہیں ہے کہ یہ آپ کو پرجوش بنائیں۔ پلے سٹیشن ایک ہی وقت میں یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔

PS5 بمقابلہ ایکس باکس سیریز ایکس: کارکردگی

ایکس بکس اور پلے سٹیشن دونوں ہی اپنی پچھلی جنریشن کے مقابلے میں حیرت انگیز بہتری لائے ہیں۔ سنیپ میں گیمز کا لوڈ، گرافکس، ریزولوشن اور فریم ریٹ خوبصورت ہیں۔ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ وسعت بخش اور مفصل معلوم ہوتی ہیں۔

لیکن ہم واقعی ابھی اس مقام پر نہیں ہیں جہاں کسی بھی گیم نے دو کنسولز کی زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کی ہے اور اس لیے اس کا موازنہ کرنا مشکل ہے کہ کون سا کنسول سب سے زیادہ دلچسپ اور دلکش گیمز کے لیے بنائے گئے ہیں۔

آپ اپنی پسند کی سپیس کا موازنہ کرسکتے ہیں جیسے ان کے پروسیسرز کی رفتار اور میموری کی سپیس، ایکس باکس سیریز ایکس اس میں کامیاب سمجھی جا سکتی ہے لیکن صرف اسی میدان میں۔ آخر کار اہم بات یہ ہے کہ ہارڈ ویئر گیمز کو کس طرح طاقتور بناتا ہے۔ اور ابھی تک ہم نے واقعتا اس کا مشاہدہ نہیں کیا۔

دونوں کنسولز گذشتہ کنریشن سے بہت بہتر اور بہت اچھے ہیں لیکن ہم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے جہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کون سا کنسول زیادہ بہتر ہے۔ اس کے لیے قرعہ اندازی کی ضرورت ہو گی۔

PS5 بمقابلہ ایکس باکس سیریز ایکس: گیمز

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت پلے سٹیشن نے یہ مقابلہ جیت لیا ہے۔

ایکس بکس میں کوئی خاص گیمز نہیں ہیں: جو بھی گیم آپ اس پر کھیل سکتے ہو وہ آپ PS5 یا پچھلے ایکس بکس پر بھی کھیل سکتے ہیں اور عام طور پر دونوں پر۔ دوسری طرف پلے سٹیشن میں ایکسکلوسیو گیمز کی کافی تعداد میں موجود ہیں جیسا کہ سپائڈر مین۔ مائلز مورالز PS4 پر موجود ہیں لیکن دوسری گیمز جیسے ڈیمنز سولز اور بلٹ ان آسٹرو پلے روم گیم صرف PS5 پر دستیاب ہیں۔

لیکن یہ مستقبل میں بدل سکتا ہے۔ ایکس بکس کے پاس کے دو اہم کارڈز ہیں۔ گیم پاس (جو ماہانہ سبسکرپشن پر دستیاب ہے) اور اس کا پیرنٹ کمپنی ڈویلپرز بیتیسڈا سے زینی میکس گیم کا حالیہ حصول۔

مائیکروسافٹ ’گیم پاس‘ کے بارے میں بہت پرعزم ہے جو آپ کو گیمز کا ایک بہت بڑا مجموعہ فراہم کرتا ہے جسے آپ ماہانہ بنیادوں پر قیمت ادا کرکے کھیل سکتے ہیں اور مائیکروسافٹ اسے اپنے مستقبل کے ایک اہم حصے کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے لیے اور بھی بہت سے ٹائیٹلزبنائے جا رہے ہیں اور یہ امکان نہیں ہے کہ پلے سٹیشن کے مساوی ’پلے سٹیشن ناؤ‘ کی پیش کش کافی حد تک موثر ہوگی کیوں کہ سونی نے اپنی لائبریری میں ٹائٹلز شامل کرنے کے لیے اتنی ہی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اور بیتیسڈا کے حصول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایکس بکس اپنی گیمز کے لیے بڑے منصوبے بنا رہا ہے تاہم یہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔ کمپنی نے یہ نہیں کہا کہ وہ اپنے آئندہ ٹائٹلز کے لیے صرف ایکس بکس کو مجبور کرے گی جس میں ’دا ایلڈر سکرولز‘، ڈوم اینڈ ڈزآنرڈ جیسی سیریز کی نئی گیمز شامل ہوسکتی ہیں۔ لیکن اس یہ نہیں کہا کہ ایسا نہیں ہوگا اور یہ ان کے لیے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ انہیں ’گیم پاس‘ کو بھی دے دیں۔

اگرچہ یہ شاید پرانی گیمز ہی ہیں جو اب بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جبکہ ایکس بکس پرانے کنسولز سے مطابقت رکھنے کے لیے ایک بہتر کام کرتا ہے، اس پر ایکس بکس کی حقیقی پرانی گیمز کھیلی جا سکتی ہیں جو 20 سال پہلے متعارف کرائی گئی تھیں اس کا مطلب ہے کہ آپ ان گیمز کو دوبارہ کھیل سکیں گے جن سے آپ ماضی میں لطف اندوز ہوئے تھے۔ موجودہ جنریشن کی گیمز اور اگلی جنریشن کی گیمز کو نئے کنسول خریدے بغیر کھیلا جا سکے گا۔ یہ کہنا ایک بہت ہی اچھی دلیل ہے کہ یہ بہترین گیمز متعارف کرنے والی کمپنی ہے، کم از کم لانچنگ سے پہلے تو ایسا کہا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ ان دونوں کنسولز کے مابین کافی مقابلہ ہے ابھی اس مقابلے میں پلے سٹیشن آگے ہے لیکن یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور بہت ساری وجوہات ہیں جن پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ یہ مستقبل میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

PS5 بمقابلہ ایکس باکس سیریز ایکس: کنٹرولرز

وہی فرق جو خود کنسولز کے ڈیزائن میں پایا جاتا ہے وہی ان کے کنٹرولرز میں بھی موجود ہے۔

ایکس بکس اپنی گذشتہ جنریشن سے یکساں ہے جب کہ پلے سٹیشن کے ڈیزائن اوور ہال اور ذہانت جیسی خصوصیات اس سے مختلف ہیں۔

ایک نظر میں آپ مشکل سے نئے ایکس بکس کے پرانے کنٹرولر کو پہچان نہیں سکتے اور صرف وہ چیزیں جو ان میں فرق کرتی ہیں وہ ایک نیا شیئر بٹن اور قدرے دوبارہ ڈیزائن کردہ ڈی پیڈ ہیں۔

 یہاں تک کہ جب آپ اسے استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو تبدیلیاں کافی معمولی محسوس ہوتی ہیں، کچھ حصوں پر قدرے جدید وائبریشن معمولی ایرگونومک ردوبدل ہیں۔

عام طور پر نئے ایکس بکس کے بارے میں جو ایک ہی بات کی جائے تو وہ ہو گی کہ اگر آپ کو اپنا موجودہ ایکس بکس پسند ہے تو آپ کو اس کا نیا ورژن پسند آئے گا۔ لیکن اگر آپ کو اپنا موجودہ ایکس بکس پسند ہے تو ضروری نہیں ہے کہ کوئی ایسی چیز ہو جو اس کو فوری طور پر اپ گریڈ کر سکے۔

تاہم پلے سٹیشن کا کنٹرولر میں بہت ساری تبدیلیوں اور نئی خصوصیات کے ساتھ تصور کیا جا سکتا اور یہ سب بہت اچھے بھی ہیں۔

اس کا کنٹرولر اب پہلے سے بڑا ہے تاکہ ایکس بکس کنٹرولر کی طرح اس کے کنارے پر پھسلنے کی بجائے ہاتھ میں مضبوط رہے۔ ایسی خصوصیات جو بظاہر بے وقوفانہ نئے پن جیسی لگتی ہیں جیسے انتہائی واضح ہاپٹک فیڈ بیک اور درست تھرتھراہٹ جو حقیقت میں کنٹرولر کے شولڈرز پر بٹن دبانے کو زیادہ مشکل یا آسان بنا سکتی ہیں، حقیقت میں دلچسپ بہتری کا نمونہ پیش کرتی ہیں اور کنٹرولر کو حقیقی اگلی جنریشن جیسا بناتی ہیں۔

پچھلے کنسولز کو دیکھا جائے تو یہ واضح تھا کہ ایکس بکس اس حوالے سے فاتح تھا لیکن نیا کنٹرولر پلے سٹیشن کو اپنے حریف پر سبقت دیتا ہے اور یہ بہت سارے طریقوں سے اسے بہتر بناتا ہے۔ ایک بار پھر پلے سٹیشن غالبا ان خوبیوں کے حوالے سے فاتح ہے لیکن آپ جو بھی کنسول استعمال کرتے تھے شاید وہ آپ کو بہترین لگے۔

حتمی فیصلہ: کون سا کنسول آپ کو خریدنا چاہئے؟

مجموعی طور پر یہ واضح ہے کہ ابھی کے لیے پی ایس 5 فاتح ہے، اس میں کئی گیمز اور چالیں ہیں۔ اگر آپ آج اسے اپ گریڈ کر رہے ہیں اور کنسول کے ساتھ آپ کا ماضی میں کوئی تجربہ نہیں ہے تو یہ مجموعی طور پر زیادہ یقین کرنے کے لائق دلیل پیش کرتا ہے۔

لیکن آج بہت کم لوگ اسے اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ اور ان میں سے بہت کم افراد کے پاس گذشتہ جنریشن کے کنسولز کے لیے کوئی وابستگی یا ان کا سامان موجود ہے۔

اس وقت کنسول خریدنا تقریبا ناممکن ہے جب پہلے سے ہی پری آرڈر پر تمام کنسول فروخت ہو چکے ہوں لیکن کھیل کی موجودہ حالت سے پتہ چلتا ہے کہ ضروری ہے کہ جلدی سے آگے بڑھیں اور ایسا کریں۔ دونوں کنسولز اپنے پروسیس کے آغاز پر ہیں اور اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا ہے کہ آنے والے مہینوں اور یہاں تک کہ سال گزر جانے تک کون سا کنسول واقعی بہترین ہو گا کیونکہ مستقبل میں مزید گیمز دستیاب ہوں گی۔

اگر آپ انتظار نہیں کرتے تو انتخاب کا واضح اور بور کر دینے والا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ آپ کے پاس پہلے سے جو بھی کنسول موجود ہے آپ اسی کو منتخب کریں۔ اب یہ صرف واقفیت کے بارے میں نہیں ہے ، لیکن چونکہ دونوں کنسولز میں پچھلی جنریشن سے مطابقت پائی جاتی ہے لہذا یہ ایک سوال بن جاتا ہے کہ آپ پہلے سے خریدی ہوئی گیمز اور ایسیسریز کو رکھنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔

لہذا لانچنگ کے دن پی ایس 5 دونوں میں بہترین کنسول ہے لیکن اس کے بعد اور بھی کئی دن آنے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا