پاکستان: ’کرونا ویکسین خریداری کے لیے 15 کروڑ ڈالر مختص‘

ڈی جی نیشنل ہیلتھ سروسز پاکستان ڈاکٹر ملک محمد صفی کے مطابق ’ہم مختلف کمپنیوں سے ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کے عمل میں ہیں اور حکومت نے اس مقصد کے لیے 15 کروڑ ڈالر کے ابتدائی فنڈز بھی مختص کیے ہیں۔‘

(اے ایف پی)

پاکستانی حکومت نے اگلے سال کی دوسری سہ ماہی تک براہ راست بین الاقوامی مارکیٹ سے کووڈ 19 ویکسین خریدنے کے لیے 15 کروڑ ڈالر کا ابتدائی فنڈ مختص کیا ہے۔

دوا ساز کمپنی فائزر نے رواں ہفتے بیان دیا تھا کہ ابتدائی آزمائشی نتائج کی بنیاد پر اس کی تجرباتی COVID-19 کی ویکسین 90 فیصد سے زیادہ موثر ثابت ہوئی ہے جو اس وائرس کے خلاف جنگ میں ایک اہم کامیابی ہے۔ کرونا وائرس کے ہاتھوں اب تک دنیا بھر میں 13 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس وبا نے عالمی معیشت کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔

دوسری جانب یورپی کمپنی سے مسابقت میں روس نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی بنائی گئی کرونا ویکسین سپوٹنک وی عبوری آزمائشی نتائج کے مطابق COVID-19 سے لوگوں کی حفاظت کے لیے 92 فیصد موثر ہے۔

چین میں قومی پروگرام کے تحت صحت سے وابستہ کارکنوں اور دیگر ہائی رسک پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سینوواک بائیوٹیک کی تجرباتی COVID-19  ویکسین پہلے ہی لگائی جا رہی ہے۔

ڈی جی نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ملک محمد صفی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہم ان کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ اگلے سال مارچ تک COVID-19 کی ویکسین بنا لیں گی۔‘  

’ہم مختلف کمپنیوں سے ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کے عمل میں ہیں اور حکومت نے اس مقصد کے لیے 150 ملین ڈالر کے ابتدائی فنڈز بھی مختص کیے ہیں۔‘ کمپنیوں کا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو اس فنڈ میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کی بیس فیصد آبادی کے لیے کرونا ویکسین گاوی الائنس سے بھی مفت ملنے کا امکان ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ملک محمد صفی  نے کہا  ’ہم نے گاوی کے ساتھ 4.5 کروڑ افراد کے لیے نو کروڑ خوراکیں لینے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں ، اور توقع ہے کہ آئندہ سال کی تیسری سہ ماہی میں ان کی فراہمی کی جائے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کو ٹیکہ لگانے کے لیے دو خوراکیں درکار تھیں اور ہر خوراک کی قیمت لگ بھگ 10 ڈالر تھی لیکن ’ہم اسے گاوی سے مفت حاصل کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ گاوی الائنس ایک عوامی نجی شراکت کا ادارہ ہے جو ترقی پذیر ممالک کو ویکسین فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پاکستان سمیت کم اور درمیانی آمدنی والے 92 ممالک گاوی کی بدولت کوویڈ 19 کی ویکسین تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ گاوی کا مقصد 2021 کے آخر تک دو بلین ویکسین کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔

ملک محمد صفی نے بتایا کہ چونکہ گاوی کے ذریعے مفت ویکسین کی فراہمی تاخیر کا شکار ہے ، لہذا ہم براہ راست کمپنیوں سے یہ ویکسین خریدنے کے لیے ابتدائی انتظامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تکنیکی نگرانی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین صحت اور متعدی بیماریوں کے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور مختلف کوویڈ 19 ویکسینوں کی آزمائش کے بعد ان کی افادیت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

ملک محمد صفی نے کہا ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ویکسین کی حفاظت اور افادیت پر سمجھوتہ کیے بغیر 'تیز رجسٹریشن' کیلیے ریگولیٹری عمل ہموار کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فروری سے ہی کرونا کے پھیلاو کو روکنے کی جدوجہد کر رہا ہے نیز ایک چینی ویکسین کے فیز تھری ٹرائلز میں بھی ہماری شراکت موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت