پتھر سے فن پارے بنانے والے سوات کے جبران یوسف

شوق میں بغیر کسی استاد کے سنگ تراشی سیکھنے والے جبران یوسف کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی طرح کے فن کاروں کو داد اور درست معاوضہ ملے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے جبران یوسف 14 سال سے سنگ تراشی کا کام بغیر کسی استاد کے سکھائے کر رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کو اس کے پیسے نہیں ملتے اور وہ اپنے شوق کے لیے اسے کرتے ہیں۔

مینگورہ کے گنبت میرہ علاقے کے رہائشی جبران یوسف ایک کم آمدنی والے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنا گھر بار چلانے کے لیے ایک کارخانے میں کام کرتے تھے تاہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کارخانہ چار مہینے بند رہا جس کی وجہ سے جبران بے روزگار ہو گئے۔

وہ مختلف اشیا جیسے گلاس، گلدان، پھول، ڈونگے وغیرہ بناتے ہیں جس کے لیے وہ پتھر فضا گٹ کی زمرد کان سے لاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے ساتھ ایک بار دھوکا بھی ہو چکا ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل ان کے پاس ایک شخص آیا جس نے کہا کہ وہ دبئی میں آثار قدیمہ کا کام کرتا ہے اور ان کو ان کے فن پاروں کے پیسے دے گا۔

جبران کے کہا کہ وہ پہلے ایک پتھر کی بنی پلیٹ لے گیا جسے بنانے میں دس ماہ لگے تھے اور جس کے پیسے اس نے آج تک نہیں دیے ہیں۔

جبران بتاتے ہیں کہ سوات میں سنگ تراشی کے شوقین بہت ہیں لیکن ان کو اپنے کام کے لیے پیسے نہیں ملتے جس کی وجہ سے بہت سنگ تراش مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور سنگ تراشی کا کام ان کو چھوڑنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں لوگ ان کی طرح ہر فن اور فنکار کو داد دیں اور ان کو ان کی محنت اور فن کا درست معاوضہ ملے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن