اسلام آباد چڑیا گھر:محکمہ جنگلی حیات کا ریچھوں کو اردن بھیجنے سے انکار

مرغزار چڑیا گھر میں موجود بیمار بھورے ریچھوں کے جوڑے کو اردن منتقل کیا جانا تھا تاہم محکمہ جنگلی حیات اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نے عین روانگی سے قبل ان کو بھجوانے سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے مرغزار چڑیا گھر میں بد انتظامی کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ تمام جانوروں کو ایوبیہ نیشنل پارک جبکہ ’دنیا کے تنہا ترین ہاتھی‘ کاوان کو کمبوڈیا منتقل کیا جائے۔

کاوان تو گذشتہ ہفتے ملک چھوڑ گیا جبکہ پیچھے رہ جانے والے ہمالیائی بھورے ریچھوں کے جوڑے کو بھی اردن روانہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاہم محکمہ جنگلی حیات اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نے عین روانگی سے قبل ریچھوں کو بھجوانے سے انکار کر دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کی معلومات کے مطابق ہمالیائی بھورے ریچھوں کا جوڑا 'ببلو اور سوزی' شدید نفسیاتی بیماری کا شکار ہے جبکہ مادہ ریچھ سوزی قید میں ہونے کی وجہ سے گردے کی بیماری میں بھی مبتلا ہے۔

یہ جوڑا کئی سالوں سے چڑیا گھر میں قید کی زندگی گزار رہا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات نے انہیں مداری کرانے والوں سے بازیاب کروایا تھا جو ریچھوں سے کرتب کروا کر پیسے کماتے تھے اور ان کے دانت بھی توڑ چکے تھے۔

گذشتہ ماہ میں بین الاقوامی تنظیموں نے کاوان ہاتھی کے ساتھ ساتھ ان ریچھوں کی دیکھ بھال بھی کی اور منتقلی کے انتظامات کیے۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا واضح حکم بھی موجود ہے جس کی روشنی میں محکمہ جنگلی حیات نے ریچھوں کے جانے کا این او سی بھی جاری کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم عین وقت پر عدالتی حکم سے منحرف ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ جنگلی حیات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

مرغزار چڑیا گھر میں ان ریچھوں کے علاوہ تین بندر اور ایک سفید ہرن بھی موجود ہے، جن کی قسمت کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس حوالے سے دس دسمبر کو ہونے والی سماعت میں ریمارکس دیے کہ 'چڑیا گھر کے ریچھوں نے وہ تکلیف برداشت کی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔'

انہوں نے کہا کہ اردن کی سینکچری میں دیگر ریچھ اور جانوروں کے ماہرین بھی موجود ہیں اور اگر وائلڈ لائف انتظامیہ اس دوران اس معیار کی سینکچری بنانے میں کامیاب ہو جائے تو انہیں واپس لے آئیں۔

چیف جسٹس کے مطابق عدالت نے ڈیڑھ سال میں اس کیس کا فیصلہ سنایا، اس دوران انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا گیا، صرف سیاست ہوئی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'بھورے ریچھوں کی جان کو شدید خطرات ہیں، محکمہ وائلڈ لائف اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان