کراچی چڑیا گھر کی برفانی مادہ ریچھ شدید گرمی سے پریشان

کراچی کے تاریخی چڑیا گھر میں موجود ایک شامی برفانی مادہ ریچھ کی حالت زار کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر کراچی کے تاریخی چڑیا گھر میں موجود ایک شامی برفانی مادہ ریچھ کی حالت زار کے حوالے سے صارفین شدید تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور انہوں نے سندھ حکومت اور چڑیا گھر کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ریچھ کو فوری طور پر ریسکیو کیا جائے۔ 

صحافی اور نیوز اینکر رابعہ انعم نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'اس ریچھ کو فوراً ریسکیو کرنے کی ضرورت ہے، مدد کریں۔ '

جس کے جواب میں سندھ کے صوبائی وزیر اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ریچھ کی تصاویر کے ساتھ ٹویٹ کی کہ 'چڑیا گھر انتظامیہ سے ابتدائی رپورٹ منگوالی گئی ہے، میونسپل کمشنر بھی وہاں گئے ہیں۔ اس ریچھ کا نام رانو ہے اور اس کی حالت بہتر ہے، اس کا خیال رکھا جا رہا ہے، شاید تنہائی اس کا ایک مسئلہ ہوسکتا ہے، کیوں کہ یہ چڑیا گھر کی واحد مادہ ریچھ ہے۔'

جب اس حوالے سے کراچی چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ویٹنری ڈاکٹر عامر اسماعیل رضوی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ 'یہ شامی برفانی مادہ ریچھ ہے، جو 2017 میں کراچی کے سفاری پارک سے جانے والے کچھ جانوروں کے تبادلے کے طور پر بھیجا گیا تھا۔' 

جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق برفانی ریچھ امریکا، کینیڈا، روس، شام اور ایشیا کے کئی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ریچھ کی یہ نسل ہمالیائی برفانی ریچھ کے نام سے جانی جاتی ہے، جو شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقام دیوسائی نیشنل پارک میں پائی جاتی ہے اور محکمہ جنگلی حیات کے مطابق دیوسائی نیشنل پارک میں اس وقت بھورے ریچھوں کی تعداد 17 سے بڑھ کر 78 ہوگئی ہے۔

اس وقت دیوسائی نیشنل پارک میں برفباری شروع ہوگئی ہے اور ماہرین کے مطابق برفباری کے بعد یہ ریچھ چھ ماہ کے لیے سرمائی نیند () میں جانے کی تیاریاں کرنے میں مصروف ہیں، جو اپریل کے آخری ہفتے تک جاری رہے گی۔

جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق اگر ریچھوں کو خوراک نہ ملے تو یہ سردیوں کی نیند سے دوبارہ کبھی نہیں جاگتے اور ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ایک طرف جہاں موسم سرما سے پہلے دنیا بھر میں موجود برفانی ریچھ سرمائی نیند کی تیاریاں کر رہے ہیں، وہیں کراچی چڑیا گھر کی یہ واحد مادہ ریچھ ساحلی شہر کراچی کی گرمی سے پریشان نظر آتی ہے۔

کراچی چڑیا گھر میں بنے ریچھوں کے واحد پنجرے کے ساتھ کھڑا ایک صدی پرانا برگد کا درخت بھی گر چکا ہے۔ چڑیا گھر کے ایک ملازم کے مطابق یہ درخت ریچھ کے پنجرے کو ٹھنڈا رکھتا تھا، مگر اب درخت کے گرنے سے پنجرے میں گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر عامر اسماعیل رضوی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ 'جس پنجرے میں اس شامی برفانی ریچھ کو رکھا گیا ہے، وہ ایک بڑے سائز کا پنجرا ہے، جس میں نہانے کے لیے دو تالاب بنے ہوئے ہیں اور اسے اتنی مقدار میں کھانا دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹ بھر کر کھاسکے۔'

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر اسماعیل رضوی نے کہا کہ 'یہ سب بے تکی باتیں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ریچھ کو کھانا نہیں دیا جارہا یا وہ ہلنے جلنے کے قابل نہیں ہے، اس میں کوئی صداقت نہیں ہے'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ تمام سہولیات کے باوجود، ہائبرنیشن یا سرمائی نیند، جو ان ریچھوں کی زندگی کا ایک اہم فطرتی عمل ہے، اس کا کیا ہوگا؟ تو ڈاکٹر عامر اسماعیل رضوی نے جواب دیا: 'میرے حساب سے تو دنیا بھر کے کسی بھی چڑیا گھر میں رہنے والے جانوروں کا ہائبرنیشن یا لمبی نیند کا تصور ہی نہیں ہے'۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات