جب ’پب جی‘ نے بھارت اور پاکستان میں تعاون کی مثال قائم کی

چین سے کشیدگی کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے پب جی پر پابندی عائد ہونے کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی زیان شفیق اپنی ای سپورٹس ٹیم کے کھلاڑیوں سے محروم ہو گئے، لیکن انہوں نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں سے تعاون حاصل کیا۔

18 سالہ زیان کو خدشہ تھا کہ ان کے اس اقدام کا بہت ہی بھیانک انجام ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اس کے نتیجے میں بھارتی اور پاکستانی گیمرز کے مابین   اتحاد قائم ہوا  (تصویر: اے ایف پی)

بھارت کی چین کے ساتھ کشیدگی کے دوران جب نئی دہلی کی قوم پرست حکومت نے موبائل گیم پب جی پر پابندی عائد کی تو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی زیان شفیق اچانک اپنی ای سپورٹس ٹیم کے کھلاڑیوں سے محروم ہو گئے۔

زیان نے اس صورت حال میں ایک انتہائی غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور گیم کی خاطر سرحد پار پاکستان سے تعاون حاصل کیا۔

18 سالہ زیان کو خدشہ تھا کہ ان کے اس اقدام کا بہت ہی بھیانک انجام ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اس کے نتیجے میں بھارتی اور پاکستانی گیمرز کے مابین ایسا اتحاد قائم ہوا جس کی مثال دنیا کے اس خطرناک ترین خطے میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔

زیان نے اے ایف پی کو بتایا: ’اس اقدام کے دوران یقیناً ہمارے ذہن میں بہت سے خدشات تھے، جس میں سنگین ردعمل کا امکان بھی شامل تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور دونوں اطراف کے لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ ای سپورٹس ہے جس پر دونوں ممالک کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘

پب جی ایک فوجی طرز کا جنگی کھیل ہے جہاں ٹیمیں آن لائن لڑتی ہیں۔ اس موبائل ایپ کو دنیا بھر میں کروڑوں بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

اس کھیل سے جوہری ہتھیاروں سے مسلح پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑے تنازع یعنی کشمیر کی حقیقی زندگی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، جہاں ہر روز سرحد پر گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ معمول بن چکا ہے۔

لیکن سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت نے دیگر کئی ایپس کے ساتھ چینی ٹیک کمپنی ٹیسینٹ (Tencent) کے ساتھ لائسنس یافتہ پب جی گیم پر ملک میں پابندی لگا دی۔

بھارت کے اس اقدام سے زیان شفیق کی ٹیم منتشر ہو گئی جو پب جی ورلڈ لیگ میں پہنچنے کے لیے پہلے ہی شاٹ حاصل کرچکے تھے۔ یہ لیگ جتنے والی ٹیم کو 20 لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔

زیان نے کہا: ’میں کسی طرح اپنی ٹیم کے لیے ایک سلاٹ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا لیکن مجھے بھارتی کھلاڑیوں کو لینے کی اجازت نہیں تھی۔ لہذا میں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے رابطہ کیا۔‘

’پاکستان ٹیم گذشتہ سال ورلڈ لیگ میں کھیلی تھی، لہذا میں نے ان سے کہا کہ وہ میرے ساتھ تعاون کریں اور وہ اس پر راضی بھی ہوگئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زیان کے اس اقدام سے بھارت اور پاکستان کے مابین کئی دہائیوں سے پائے جانے والے تناؤ میں کمی واقع ہوئی ہے، جن کے درمیان کھیلوں کے تعلقات اب تک بحال نہیں ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک میں جنون کی حد تک پسند کیے جانے والے کھیل کرکٹ کی باہمی سیریز کھیلے 13 سال گزر چکے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں بھارت کی ایک نان آفیشل کبڈی ٹیم کے حوالے سے اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا تھا جب وہ ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچی تھی۔ بھارتی حکومت اور کبڈی فیڈریشن دونوں نے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ اتنے خراب نہیں رہے ہیں۔ 1987 میں بھارت کے لیجنڈ کھلاڑی سچن تندولکر، پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستانی ٹیم کے خلاف ممبئی میں کھیلے گئے ایک میچ میں فیلڈنگ کر رہے تھے  لیکن اس طرح کا منظر اب ناقابل تصور ہے۔

زیان کی ٹیم بالآخر پب جی ورلڈ لیگ کے اگلے مرحلے تک پہنچنے میں ناکام ہوگئی لیکن پاکستانی کھلاڑیوں میں شامل عبدالحسیب نے کہا کہ سرحد کی دونوں جانب سے بنایا گیا یہ تعاون ہی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں سرحدوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے خوشی ہوئی۔ آخر میں ہمیں دونوں ممالک سے محبت اور حمایت ملی جس نے اس پلیٹ فارم پر رہنے اور پاکستان اور بھارت دونوں کی نمائندگی کرنے کے ہمارے مقصد کو پورا کیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا