کشمیر میں 'سردیوں کے شہنشاہ' چلہ کلاں کا آغاز

21 دسمبر سے شروع ہونے والے چلہ کلاں کے دوران اگرچہ خون جما دینے والی سردی پڑتی ہے، لیکن کشمیری پھر بھی ایک دوسرے کو مبارک باد دینا نہیں بھولتے۔

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف محکمہ موسمیات کے حکام سردی کی اس لہر کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں (تصاویر: جلال الدین مغل)

جموں وکشمیر میں 'سردیوں کا شہنشاہ' مانے جانے والے 40 روزہ 'چلہ کلاں' کا 21 دسمبر سے آغاز ہو چکا ہے، تاہم اس سال چلہ کلاں کی آمد سے قبل ہی سردیوں کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف محکمہ موسمیات کے حکام سردی کی اس لہر کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں اور معمر کشمیری افراد کے بقول ماضی قریب کی کئی دہائیوں میں اس نوعیت کی سردی محسوس نہیں کی گئی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ موسمیات کے حکام کا خیال ہے کہ اس مرتبہ جموں وکشمیر کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی 14 ڈگری تک گر سکتا ہے جو کئی دہائیوں میں پڑنے والی سردی کے ریکارڈ توڑ دے گا۔

جموں و کشمیر میں موسم سرما کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ 'چلہ کلاں' یا بڑا جاڑہ 40 روز پر مشتمل ہے، پھر 20 روز کا 'چلہ خورد' اور آخر میں دس روزہ 'چلہ بچہ' یا چھوٹا جاڑہ آتا ہے۔ پہلے 40 دنوں میں یخ بستہ سردی لوگوں کو گھروں میں مقید رکھتی ہے۔ اگلے 20 دنوں میں برف پگھلنا شروع ہوتی ہے اور آخری دس روز میں باد و باراں کے ساتھ ساتھ بہار کی آمد کی نوید ملتی ہے۔

'چلہ کلاں' کے لغوی معنی 'چالیس بڑے' ہیں اور اس سے مراد 21 دسمبر کے بعد شدید سردی کے وہ 40 دن ہیں جن کے دوران کشمیر میں خون جما دینے والی سردی پڑتی ہے۔ شدید سردی کے یہ 40 دن شمسی تاریخ کے حساب سے 21 دسمبر اور بکرمی تاریخ کے حساب سے 9 پوہ سے شروع ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں کشمیر میں اس قدر شدید سردی پڑتی ہے کہ کسی جاندار کے جسم میں خون کو جما کر ہڈیوں تک اتر جانے کی قوت رکھتی ہے۔

کشمیر میں لوگ چلہ کلاں کیسے مناتے ہیں؟

کشمیر میں لوگ گرمیوں میں بھی ان 40 ایام کی تیاری کرتے رہتے ہیں۔ کشمیری صحافی غلام اللہ کیانی کا خیال ہے کہ کانگڑی اور فیرن خاص طور پر ان دنوں میں سردی سے بچاؤ کے لیے ایجاد ہوئے۔

چلہ کلاں کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سبھی مرد و زن  کانگڑی میں دہکتے انگارے سینکتے ہیں اور فیرن پہنتے ہیں۔ ان دنوں میں کشمیر میں درجہ حرارت منفی ڈگری تک گر جاتا ہے جس کی وجہ سے جھیلوں، ندی نالوں اور دریاؤں تک کا پانی جم جاتا ہے اور انسانی آبادیوں میں پانی کے نلکے جم کر پھٹ جاتے ہیں۔ ان دنوں میں کثرت سے برفباری ہوتی ہے اور اکثر کُہر اور دھند چھائی رہتی ہے۔

جموں و کشمیر کے سبھی منقسم حصوں میں بسنے والے لوگ شدید سردی کے ان دنوں میں موسم کا مقابلہ کرنے کی تیاری موسمِ گرما میں ہی مکمل کر لیتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں لوگ کھانے پینے کی اشیا ذخیرہ کرلیتے ہیں جبکہ جلانے کے لکڑی اور ایندھن کے علاوہ مال مویشیوں کے لیے گھاس اور خشک چارہ بھی گرمیوں میں ہی جمع کر لیا جاتا ہے جبکہ مکانات اور راستوں سے برف ہٹانے کے اوزار بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں بھی کئی لوگ گھروں کے ساتھ سردیوں کے لیے خاص طرز کے کمرے بناتے ہیں۔ ان کمروں کے تہہ خانوں میں آگ جلائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے پتھر کے بنے ان کمروں کے فرش گرم ہو کر پورے کمرے کو گرم کر دیتے ہیں۔ ایسے کمروں کو 'حمام' کہا جاتا ہے۔

گرمیوں میں کی گئی تیاری شدید سرد اور برفانی موسم کا مقابلہ کرنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ اگرچہ کشمیر میں موسم سرما اپنے ساتھ بے پناہ مشکلات لاتا ہے تاہم اس کے باوجود یہاں کے لوگ نہ صرف اس موسم کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ 'چلہ کلاں' یعنی شدید سردی کے موسم کی آمد پر ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دیتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں چلہ کلاں کو آٹھ آٹھ دنوں کے پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہندکو زبان میں ان پانچ ادوار کو بالترتیب 'شنڈکے، 'منڈکے' شوڑیاں' موڑیاں' اور 'ہور' کا نام دیا گیا ہے۔ ان کا تذکرہ مقامی لوک داستانوں اور شاعری میں بھی ملتا ہے۔

'چلہ کلاں' کے اختتام پر سردی کی شدت کافی کم ہو چکی ہوتی ہے اور پانی جمنے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ اگلے 20 دن سردی کی شدت بتدریج کم ہوتی رہتی ہے۔ ان 20 دنوں کو کشمیر میں 'چلہ خورد' کہتے ہیں جبکہ دس دن کا 'چلہ بچہ' ہوتا ہے۔

ان تینوں چلوں کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے: 21 دسمبر سے 31 جنوری تک چلہ کلاں، یکم فروری سے 20 فروری تک چلہ خورد اور 21 فروری سے یکم مارچ تک چلہ بچہ ہوتا ہے۔ چلہ کلاں کے بعد کے دونوں چلوں میں سردی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے اور چلہ بچہ کے اختتام کو بہار کی آمد تصور کیا جاتا ہے۔

صحافی عارف عرفی کے بقول: 'جنوری کے آغاز سے مارچ کے آغاز تک کے 60 روز کشمیر میں مستانی ہواؤں کے لیے مشہور ہیں۔ برفباری، بارش اور رگوں میں خون اور ہڈیوں میں گودا تک منجمد کرنے والی سرد ہوائیں کشمیر میں ڈیرے ڈالے رکھتی ہیں۔'

چلہ کلاں، چلہ خورد اور چلہ بچہ تینوں فارسی  زبان کے الفاظ ہیں اور صدیوں سے کشمیر میں رائج ہیں۔

عارف عرفی نے بتایا کہ '1947 سے قبل ریاست کے سبھی حصوں میں چلہ کلاں کی آمد پر جشن منایا جاتا تھا تاہم بتدریج اس جشن پر مذہبی چھاپ لگنے، تقسیم کی لکیریں کھنچنے اور کشمیری معاشرے میں مذہبی شدت پسندی کے اثر کے باعث اب یہ جشن خال خال ہی منایا جاتا ہے۔ تاہم ان دنوں میں کشمیری خاندانوں کا اکٹھے ہو کر کھانا پینا اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینا اب بھی معمول ہے۔'

گلگت بلتستان کا 'مے فنگ' تہوار

شمالی کشمیر سے متصل بلتستان کے علاقے میں اس تہوار کو 'مے پھنگ' کے نام سے  ہر سال 21 اور 22 دسمبر  کی درمیانی رات منایا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'مے پھنگ' بلتی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی 'آگ پھینکنا' ہیں۔ یہ خطے میں سردیوں کا سب سے بڑا تہوار ہے جو طویل سرد راتوں سے نجات اور دن کے وقت دھوپ کے دورانیے میں اضافے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔

اس دن شام گئے نوجوان بچے اور بوڑھے ہاتھوں میں خوشبودار صنوبر کی لکڑی کی مشعلیں لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ رات ہوتے ہی وہ قافلوں اور ٹولیوں کی شکل میں پہاڑ سے اترتے ہیں اور ہاتھ میں جلتی ان مشعلوں کو گول گول گھماتے اور گیت گاتے ہوئے گاؤں میں اترتے ہیں اور خوب ہلا گلا کرتے ہیں۔

اس رات کاغذ سے بنے فانونس ہوا میں اڑائے جاتے ہیں۔ نوجوان مقامی گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے خون جما دینے والی سردی کو پختہ ارادوں سے ہرانے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں جبکہ تہوار کے اختتام پر مقامی کھانوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

21  دسمبر تبتی جنتری کے حساب سے 'لوسار' یعنی نئے سال کا پہلا دن ہے۔ چونکہ 21 دسمبر کے بعد سے راتیں دھیرے دھیرے چھوٹی اور دن کا دورانیہ بڑھنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس لیے اس تہوار کو منانے کا مقصد شدید سردیوں کو بھگانے اور پھر سے گرمیوں کی آمد کی خوشی کے اظہار ہے۔

ایران کی 'شب یلدا' یا 'شب چلہ'

اسی تہوار کو ایران میں شب یلدا یا شب چلہ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ یلدا موسم سرما کی شب اول اور موسم خزاں کی شب آخر ہے اور یہ سال کی طویل ترین شب ہے۔

یہ تہوار ایران میں کئی صدیوں سے منایا جا رہا ہے اور مورخین اسے ایران کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ یہ جشن شمالی نصف کرہ زمین پر سال کی طویل اور سرد ترین رات کے گزرنے اور اس کے بعد دنوں کی طوالت میں اضافہ شروع ہونے پر منایا جاتا ہے۔

اس رات کا ایک نام چلہ (چالیس سے) بھی ہے۔ اس رات خاندان روایتی طور پر مل بیٹھتے ہیں اور یہ محفلیں علی الصباح تک جاری رہتی ہیں۔اس موقع پر لوگ شعر وشاعری کرتے ہیں، گانے گاتے ہیں اور انار، تربوز اور خشک میوہ جات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ شب یلدا کا میلہ ایران کے علاوہ افغانستان، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور آرمینیا  سمیت لگ بھگ سبھی وسط ایشیائی  ریاستوں میں بھی منایا جاتا ہے۔

اس موقع پر اجتماعی تقاریب میں مل بیٹھ کر انار کھانا زندگی کے چکر کی علامت سمجھاجاتا ہے، تربوز صحت کی علامت ہے جبکہ خشک میوہ جات کو خوش حالی اور دولت مندی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات