علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس ایک 'چھوٹا بھارت' ہے: مودی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب سے خطاب، مودی 1964 کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کسی بھی تقریب سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بن گئے۔

(ٹوئٹر- نریندر مودی)

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کیمپس ایک 'چھوٹا بھارت' ہے۔

انہوں نے یہ بات منگل کو بھارت کی تاریخی 'علی گڑھ مسلم یونیورسٹی' کی صد سالہ تقریب سے بذریعہ ویڈیو کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہی۔

مودی کے بقول: 'اس وقت پوری دنیا کی نظریں بھارت پر مرکوز ہیں۔ جس صدی کو بھارت کی صدی بتایا جا رہا ہے اس میں پوری دنیا میں اس بات کو لے کر تجسس پایا جا رہا ہے کہ بھارت اپنے ہدف کی طرف کیسے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا ہدف یہ ہے کہ بھارت کو آتم نربھر یعنی خود کفیل کیسے بنایا جائے۔'

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کیمپس ایک 'چھوٹا بھارت' ہے جو بقول ان کے محض ایک معروف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ملک کی طاقت کا عکاس ہے۔

'مجھ سے بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ اے ایم یو کیمپس اپنے آپ میں ایک شہر کی طرح ہے۔ متعدد شعبوں، درجنوں ہوسٹلز، ہزاروں اساتذہ اور لاکھوں طلبہ کے اس کیمپس میں ایک منی انڈیا نظر آتا ہے۔ اے ایم یو میں ایک طرف اردو پڑھائی جاتی ہے تو دوسری طرف ہندی۔ جہاں عربی پڑھائی جاتی ہے تو وہاں سنسکرت کا صدی پرانا شعبہ بھی ہے۔

'یہاں کی لائبریری میں قرآن کے ہی نہیں بلکہ بھگوت گیتا اور رامائن کے نسخے بھی ہیں۔ اے ایم یو محض ایک معروف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ملک کی طاقت کا عکاس ہے۔ ہمیں اس طاقت کو نظرانداز کرنا ہے نہ کمزور پڑنے دینا ہے۔ اے ایم یو کیمپس میں ایک بھارت متحد بھارت کا جذبہ دن بہ دن پروان چڑھ رہا ہے۔'

واضح رہے کہ نریندر مودی 1964 کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کسی بھی تقریب سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ تقریب میں مودی کی شرکت کو یونیورسٹی کی تاریخ اور بھارت میں مختلف برادریوں کے مابین تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت میں اب تک منتخب ہونے والے 14 وزرائے اعظم میں سے صرف جواہر لال نہرو اور لال بہادر شاستری نے اس تاریخی مسلم یونیورسٹی کا دورہ کیا ہے۔ وہ بھی اس حقیقت کے باوجود کہ ریاست اترپردیش کا شہر علی گڑھ بھارت کے وفاقی دارالحکومت نئی دہلی سے محض 120 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی فی الوقت ایک 'سینٹرل یونیورسٹی' ہے جس کے تمام تر اخراجات بھارت کی وفاقی حکومت برداشت کرتی ہے۔ اس کو سر سید احمد خان نے 1875 میں 'محمڈن اینگلو اورینٹل کالج' کے نام سے قائم کیا تھا اور بعد ازاں 1920 میں اسے یونیورسٹی کا درجہ مل گیا تھا۔

نریندر مودی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: 'یہاں سے تعلیم لے کر نکلے لوگ آج ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ دنیا کے سینکڑوں ممالک میں چھائے ہوئے ہیں۔

'مجھے غیر ملکی دوروں کے دوران اکثر اس تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے لوگ ملتے ہیں۔ وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہماری پڑھائی اے ایم یو سے ہوئی ہے۔ اس یونیورسٹی کے طلبا اپنے ساتھ ہنسی مذاق اور شعر و شاعری کا ایک الگ انداز لے کر نکلتے ہیں۔ وہ دنیا میں کہیں بھی رہیں بھارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔'

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کرونا وائرس وبا کے دوران اے ایم یو نے جس طرح سماج کی مدد کی وہ قابل تعریف ہے۔ 'ہزاروں لوگوں کا مفت کرونا ٹیسٹ کروانا، آئسولیشن وارڈ بنانا، پلازما بینک قائم کرنا اور پی ایم کیئر فنڈ میں ایک بڑی رقم عطیہ کرنے سے سماج کے تئیں آپ کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔'

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اس صد سالہ تقریب میں یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین اور تعلیم کے وزیر رمیش پوکھریال نشنک نے بھی شرکت کی۔

نریندر مودی نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھارت کے کئی ممالک بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

'پچھلے سو برسوں کے دوران اے ایم یو نے دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی کام کیا ہے۔ اردو، عربی اور فارسی زبانوں کے علاوہ اسلام کی تاریخ پر یہاں جو تحقیق ہوتی ہے وہ اسلامی ممالک کے ساتھ بھارت کے رشتے کو مضبوطی بخشتی ہے۔

'مجھے بتایا گیا ہے کہ قریب ایک ہزار غیر ملکی طلبہ اے ایم یو میں زیر تعلیم ہیں۔ ایسے میں اے ایم یو کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہمارے ملک میں جو اچھا ہے اس سے ان طلبہ کو روشناس کرایا جائے۔'

 

'مذہب کے نام پر بھید بھاؤ کی گنجائش نہیں'

وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ بھارت میں آج ہر ایک شہری کو کسی بھید بھاؤ کے بغیر ملک میں ہو رہی ترقی کا فائدہ مل رہا ہے اور کسی مخصوص مذہب کی وجہ سے کسی شہری کا پیچھے رہنا ناممکن ہے۔

'میں آپ کو آج سر سید کی ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپنے ملک کی فکر کرنے والے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ سبھی لوگوں کی بہبود کے لیے کام کریں۔ بھلے ہی لوگ کسی بھی مذہب یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔

'سر سید نے اس بات کو وضاحتاً پیش کرنے کے لیے ایک مثال دی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جس طرح انسانی زندگی اور اس کی اچھی صحت کے لیے بدن کے ہر انگ کا ٹھیک رہنا ضروری ہے ویسے ہی ملک کی مضبوطی کے لیے بھی ہر ایک طبقے کی یکساں ترقی ضروری ہے۔'

مودی نے کہا: 'آج ہمارا ملک اسی مشن پر گامزن ہے۔ ہمارے ملک میں ہر ایک شہری کو کسی بھید بھاؤ کے بغیر ملک میں ہو رہی ترقی کا فائدہ مل رہا ہے۔ ہمارے ملک میں رہنے والے ہر ایک شہری کو اسے آئین کے تحت حاصل حقوق اور اختیارات کو لے کر پرسکون رہنا چاہیے۔ وہ اپنے مستقبل کو لے کر پرسکون رہیں۔

'بھارت آج اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جہاں مذہب کی وجہ سے کسی کا پیچھے رہنا ناممکن ہے۔ سبھی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم ہوں گے۔ یہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس کے منتر کا نچوڑ ہے۔' 

'مسلم بیٹیوں کی تعلیم کو لے کر فکرمند ہیں'

نریندر مودی نے کہا کہ 'سوچھ بھارت ابھیان' کے تحت سکولوں میں بیت الخلا بننے سے مسلمان لڑکیاں اب تعلیم ادھوری نہیں چھوڑ رہی ہیں اور ان کا ڈراپ آؤٹ ریٹ 70 فیصد سے گھٹ کر صرف 30 فیصد پر آ گیا ہے۔

'ایک وقت تھا جب ہمارے دیش کے سکولوں میں مسلم بیٹیوں کا ڈراپ آؤٹ ریٹ 70 فیصد سے زیادہ تھا۔ یہ رجحان سات دہائیوں تک جاری رہا۔ لیکن اسی بیچ سوچھ بھارت مشن شروع ہوا۔ گاؤں گاؤں میں بیت الخلا بنے۔

'سرکار نے لڑکیوں کے سکولوں میں بیت الخلا بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ اس کے نتیجے میں صورتحال ہی بدل گئی۔ پہلے مسلم بیٹیوں کا ڈراپ آؤٹ ریٹ 70 فیصد سے زیادہ تھا وہ اب گھٹ کر صرف 30 فیصد رہ گیا ہے۔ پہلے لاکھوں مسلم بیٹیاں بیت الخلاء کی کمی کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دیتی تھی۔

'مسلم بیٹیوں کا ڈراپ آؤٹ ریٹ کم سے کم سطح پر آئے اس کے لیے وفاقی حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔ مسلم بیٹیوں کی تعلیم اور بہبودی کی جانب سرکار کا کافی دھیان ہے۔ پچھلے چھ سال میں قریب ایک کروڑ مسلم بیٹیوں کو سکالر شپ دی گئی ہے۔'

بحیثیت مہمان خصوصی مدعو کرنے پر تنازع

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات میں وزیراعظم نریندر مودی کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کا معاملہ متنازع رخ اختیار کر گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جہاں یونیورسٹی کے بیشتر طلبہ، بعض سابق طلبہ اور درس و تدریس سے وابستہ کچھ پروفیسرز کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک ایسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جس نے اس یونیورسٹی کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے وہیں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جس کا کہنا تھا کہ حکومت وقت سے اچھے تعلقات بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے یونیورسٹی کے عملے، طلبہ اور اے ایم یو فریٹرنٹی کے اراکین کے نام اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ 'کسی بھی ادارے کے لیے صد سالہ جشن ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، اسے کسی بھی طرح کی سیاست سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے۔'

وائس چانسلر نے منگل کو یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب میں وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: 'آج کا یہ دن دو وجوہات کی بنا پر تاریخی ہے۔ ایک ہماری یونیورسٹی نے ایک سو سال کا سفر طے کر لیا ہے اور دوسرا 56 برس کے بعد ملک کے کسی وزیر اعظم نے اے ایم یو کی تقریبات میں شرکت کی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'ہماری یونیورسٹی کا کیمپس دنیا کے بہترین کیمپسز میں سے ایک ہے۔ یہ کیمپس صرف ڈگری ہی نہیں دیتا ہے بلکہ محبت، تہذیب، بھائی چارہ اور دیش بھکتی بھی دیتا ہے۔'

معروف بھارتی مورخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریٹس عرفان حبیب کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی 'اے ایم یو صد سالہ تقریب' میں شرکت یونیورسٹی کے لیے کوئی 'فخر' کی بات نہیں ہے۔

بقول ان کے: 'وزیر اعظم کی شرکت اے ایم یو کے لیے فخر کی بات نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں سکالر آتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مودی اس تقریب میں شامل ہو رہے ہیں یا نہیں، خاص کر تب جب وزیر اعظم قدیم ثقافت کے نام پر ملک کو گمراہ کر رہے ہوں۔'

یونیورسٹی کے طلبہ اور طلبہ قائدین نے وزیر اعظم مودی کی 'صد سالہ تقریب' میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔ باوجود اس کے کہ مودی نے نئی دہلی سے تقریب کے شرکا کو خطاب کیا، یونیورسٹی کیمپس میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس